بریکنگ نیوز

اشیاء خوردنوش اور چینی کی قیمتیں آسماں کو چھو رہی ہیں

یوٹلٹی بلز میں اضافہ عوام کیلئے تشویش کا باعث ہے
یوٹلٹی بلز اور ایشیاء خوردونوش کی قیمتوںمیں اضافہ عوام کیلئے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک خبر کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اگست کیلئے بجلی 98پیسے فی یونٹ مہنگی کیے جانے کا امکان ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے )نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کے حوالہ سے درخواست نیپرا میں جمع کروادی، نیپرا 30ستمبر کو درخواست پر سماعت کے بعدبجلی کی قیمت بڑھانے کے حوالہ سے فیصلہ کریگا ۔ہماری رائے میں نیپرا کو عوام کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے سی سی پی اے کی درخواست پر فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کسی صورت اضافہ نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس وقت عوام معاشی طور پر انتہائی مشکل حالات سے دو چار ہیں، فی کس آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کے برابر اور دوسری طرف بے روزگاری اور مہنگائی کا گراف دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔ پہلے ہی بجلی بلوں میں ہوشربا اضافہ کے باعث عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں اور اگر بجلی کے فی یونٹ 98پیسے اضافہ کیا گیا تو مزید ٹیکس لاگو ہونے سے عوام کی کمر ٹوٹ جائے گی اور وہ بلات کی ادائیگی میں مشکلات کا شکار ہونگے۔ ای طرح اب جبکہ سردیوں کی آمد آمد ہے اور تسلسل کے ساتھ گیس کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے خبریں آرہی ہیں جس کے باعث گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں 150روپے سے 1000روپے تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دوسری طرف اوون اور بجلی کے ہیٹرز کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ۔ حکومتی سطح پر سردیوں کے موسم میں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ کی خبریں آنے پر لوگوں نے ابھی سے ہی گیس سلنڈر وغیرہ خریدنا شروع کردیئے ہیں ۔ لہذا گیس سلنڈروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔دریں اثناء چینی کی قیمت میں روز بروز اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ چینی ہر گھر میں استعمال ہونے والی ضروری چیز ہے لیکن اس کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ اگر چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت کو قابو میں نہ کیا گیا تو ایک غریب چینی کے استعمال سے محروم رہ جائے گا۔ چینی کی قیمت سنچری پورا کرنے کے بعد اگلی اننگز کھیلنے لگی ہے کئی مقامات پر چینی 102روپے سے 105 روپے کلو میں فروخت ہو نے لگی جبکہ شہری سطح پر چینی کی قیمت 98 روپے سے 100 روپے فی کلو میں فروخت کی جارہی ہے چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ بھی دیا جارہا ہے جو صارفین کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت شوگرمافیا کو قابو کرنے میں فی الحال کامیاب نہیں ہوئی ہے جس کے باعث چینی کی قیمتیں دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو صرف یوٹلٹی بلز اور چینی ہی نہیں غرضیکہ تمام اشیاء خوردنوش بشمول آٹا، گھی ، دالیں ان تمام مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز دیکھنے میں اضافہ آرہا ہے۔صرف یہی نہیں ضروری سبزیوں ، ٹماٹر ، پیاز، ادرک اور لہسن کی قیمتیں بھی آئے روز بڑھ رہی ہیں اور یہ صورتحال متوسط اور غریب طبقے کیلئے تشویش میں اضافے اور مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ کیونکہ مہنگائی کا یہ جن قابو میں نہ آنے سے محدود اور فکسٹ آمدنی والے لوگوں کی قوت خرید روزبروز کم ہورہی ہے جو غربت میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ دریں اثناء حکومت کی طرف سے جان بچانے والی 94ادویات کی قیمتوںمیں اضافہ بھی عام لوگوں کیلئے مشکلات میں اضافے کا باعث ہے ۔ سیاسی حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے حکومت کو ان قیمتوں کو واپس لینے کا مطالبہ اپنی جگہ لیکن یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوںمیں اضافہ نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ صاحب حیثیت اور امیر لوگ ادویات خرید سکتے ہیں لیکن اگر ان ادویات کو غریب نے خریدنا ہو تو یہ ان کیلئے ناممکن ہوجائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے بجلی کی قیمتوں ، گیس سلنڈروں کی قیمتوں، اسی طرح اشیائے خوردونوش بشمول چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافے کو کم کرنے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرینگے تاکہ مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام کو کسی حد تک ریلیف مل سکے۔

About admin

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *