بریکنگ نیوز

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ترک صدر اردگان کی دوٹوک حمایت ،اسلام اور پاکستان سے محبت کی مظہر ہے

اگلے روزاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدررجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ تنازعہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے ۔ مسئلہ کشمیر پر ترک صدر طیب اردگان کا موقف جاندار اور ٹھوس ہے کیونکہ وہ اسلامی امہ اور اس کے مسائل کے حل کیلئے بلاشبہ ایک متحرک عالمی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ترک صدر کا شمار ان عالمی رہنمائوں میں ہوتا ہے جو کشمیر پر کھل کربھارت کی مخالفت اور پاکستان کی حمایت کرتے ہیں ۔ رجب طیب اردگان کا موقف یہی ہے کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدآمد کو یقینی بناتے ہوئے اس مسئلے کا مستقل حل کرے ۔یہاں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ چین ملائیشیا اور ایران بھی کشمیر کے حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں ۔ہماری دانست میں موجودہ عالمی منظر نامے پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک واضح تحریک اور حمایت نظر آرہی ہے جو اس حقیقت کیمظہر ہے کہ بھارت کے وہ دعوے نہ صرف دھرے کے دھرے رہ گئے بلکہ اسے عالمی سطح پر جگ ہنسائی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑھک لگائی تھی کہ وہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرے گا لیکن وہ خود اپنی اس بڑھک کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ موجود کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام اور پاکستان دشمنی ، اسرائیل اور بھارت کا امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ بھارت کی گرتی ہوئی ساکھ کو کسی حد تک سہارا دے رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوہا گرم ہے تو گرم لوہے پر چوٹ لگانے سے ہی آپ لوہے کو ڈھال سکتے ہیں ۔ یعنی اس وقت عالمی منظر نامے پر حالات پاکستان اور کشمیر کے حق میں ہیں اب یہ پاکستان کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ ان حالات کو کس طرح استعمال کرکے بھارت کو نہ صرف چاروں شانے چت کرسکتی ہے بلکہ قضیہ کشمیر کا مستقل اور پائیدار حل بھی ممکن بناسکتی ہے۔ شومئی قسمت اسلامی امہ اس وقت اپنے وقتی مفادات کی خاطر امریکی صدر ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنے کیلئے امت کو تقسیم درتقسیم کرنے پر تلی بیٹھی ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مغائر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پرلانے کیلئے پوری امت کے مفادات کو نظر انداز کررہے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کیلئے اگر یہ اسلامی ملک شرائط عائد کرتے جس سے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے ساز گار حالات پیدا ہوتے تو یہ اچھی پیشرفت ہوتی لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ یہ اسلامی ملک اسرائیل کے ساتھ صرف اور صرف اپنے مفادات کیلئے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ اگر او آئی سی اپنے فیصلوں میں آزاد ہوتی اور اسلامی امہ کے حل طلب مسائل کیلئے ایک جاندار اور مضبوط موقف اختیار کرتی تو بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسئلہ کشمیر کا مستقل اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہی مضمر ہے۔اس وقت مسئلہ کشمیر پر عالمی حمایت کی موجودگی میں موثر انداز میں عالمی رائے عامہ کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدر آمد کرنے کیلئے متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری رائے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس وقت صرف اور صرف امریکہ ہے۔ جبکہ چین اور روس اس مسئلے کی حمایت میں پاکستان کے ساتھ ہیں ۔ روس ماضی میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں کشمیر سے متعلق ہر قرار داد کو ویٹو کرتا چلا آیا تھا۔ لیکن اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ امریکہ میں نومبر کے مہینے میں انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔ صدر ٹرمپ اپنی جیت کو یقینی بنانے کیلئے اسرائیل اور بھارت کا رڈ استعمال کررہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر صدر ٹرمپ اور نریندر مودی ایک ہی خیالات کے دو کردار ہیںجو اسلامی امت اور پاکستان کیلئے اچھے جذبات اور خیالات نہیں رکھتے۔ دونوں کا مطمع نظر تقریباً ایک ہی ہیں۔ مشرق وسطی میں اسلامی ملکوں کو تقسیم کرکے صدر ٹرمپ نے بھارت کیلئے آسانیاں پیدا کردی ہیں کیونکہ امت کی تقسیم عالمی سطح پر او آئی سی کے پلیٹ فارم کو مزید کمزور کرنے اور ایک بے مقصد ادارہ بنانے میں کارگر ثابت ہوئی ہے جس سے بھارت فائدہ اٹھا رہا ہے۔

About admin

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *