بریکنگ نیوز

اقوام متحدہ اپنے قیام کے مقاصد میں ناکامی کی صورت میں لیگ آف نیشنز جیسے انجام سے دوچار ہوسکتی ہے

اگلے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ورچوئل خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے مستقل اور پائیدار حل کیلئے سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عملدرآمد کرانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا جب تک مسئلہ کشمیر اور فلسطین حل نہیں ہونگے دنیا میں امن کا قیام عبث ہے۔ وزیراعظم نے باور کرایا کہ سلامتی کونسل نے گزشتہ سال تین بار کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔حالات کا تقاضہ ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔ انہوں نے بھارت کی مودی سرکار کو پیغام دیتے ہوئے باور کرایا کہ اگر بھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی تو قوم اسے بھرپور جواب دیگی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا اور مودی کے اقدامات قابل مذمت ہیں۔ کشمیر میں مظالم نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ ہماری دانست میں وزیر اعظم عمران خان کا یہ خطاب گزشتہ سال جنرل اسمبلی کے خطاب کی طرح جاندار ، موثر اور مدلل ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ادارے کی توجہ حل طلب مسائل کی طرف مبذول کراتے ہوئے حکومت پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دنیامیں امن کے قیام اور خوشحالی کیلئے پاکستان نہ صرف اپنے ہمسائیہ ممالک بلکہ پوری عالمی برادری کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات اور مسائل کا بات چیت سے حل ہے ہمیں امن و استحکام کی ضرورت ہے جو مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ پاکستانی حکومت اور عوام حق خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سلامتی کونسل مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانے کیلئے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے جس طرح اس نے مشرقی تیمور میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرایا۔ ہماری رائے میں وزیر اعظم عمران خا ن کا یہ موقف بالکل درست سمت ہے کہ جس طرح اقوام متحدہ کے ادارے نے مشرقی تیمور کے حوالے سے قرار دادوں پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا اسی طرح متنازعہ ریاست جموںو کشمیر کے عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ادارہ اپنی قرار دادوں پر عملدر آمد کو یقینی بنائے تاکہ نہ صرف یہ دیرینہ مسئلہ پرامن ذرائع اور خوش اسلوبی سے حل ہو اور اس خطے کا ہی نہیں بلکہ عالمی امن بھی محفوظ ہوسکے۔ وزیر اعظم عمران خان کی عالمی برادری کی توجہ بھارت میں شدت پسند مودی سرکار کے کارناموں کی طرف مبذول کراتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اگر مودی سرکار کے جنونی ہاتھ نہ روکے گئے تو وہ علاقائی اور عالمی امن کو تہہ و بالا کرسکتا ہے۔ لہذااب عالمی قیادتوں اور نمائندہ اداروں کو مصلحتوں کے لبادوں سے باہر نکلنا ہوگا تاہم عالمی قیادتوں کی جانب سے کنٹرول لائن پر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی شرانگیزیوں اور مظالم پر محض رسمی احتجاج اور مذمتی قراردادوں پر ہی اکتفا کرتی ہے ۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ سلامتی کونسل کی تیسری ہنگامی نشست میں بھی کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کرنے سے گریز کیا گیا چنانچہ مودی سرکار کے توسیع پسندانہ عزائم پھیلتے پھیلتے چین کی سرحد سے بھی آگے نکل گئے ۔ اگرچہ بھارت کو اس چین کے ہاتھوں دو بار ہزیمت اور رسوائی اٹھانا پڑی ۔ بلاشبہ حکومت پاکستان کا کشمیری عوام کے ساتھ اسلامی اخوت کا مضبوط رشتہ ہے۔ شروع دن سے پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہی بھارت کے ساتھ تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس وقت بھارت امریکہ کی آشیرباد کے باعث چین کے ساتھ جنگی ماحول بنانے پر لگا ہوا ہے جبکہ بھارت کو اس بات کا ادراک ہے کہ چین کے ساتھ باقاعدہ جنگ کی صورت میں بھارت کا وجود قائم رہنا مشکل ہوگا لیکن مودی سرکار امریکہ کی جی حضوری میں کسی حد تک بھی جاکر اپنا شیرازہ بکھیر سکتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا خطاب اور عالمی سطح پر کشمیر کے حوالے سے کوششیں اپنی جگہ موثر اور بامقصد لیکن موجودہ حالات میں عالمی برادری اور امریکہ کی مفاداتی سیاست، دنیا کے امن کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ یہ امریکہ کی ہی جارحانہ پالیسی کا نتیجہ تھا کہ لیگ آف نیشنز اپنے فیصلوں پر عملدر آمد میں ناکام ہوئی اور دنیا کو دوسری جنگ عظیم دیکھنا پڑی۔ آج پھر امریکہ دنیا کو تیسری جنگ عظیم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس سے قبل کہ دیر ہوجائے روس اور چین کو امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کے اس گٹھ جوڑ اور سازشوں کو توڑنا ہوگا۔

About admin

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *