بریکنگ نیوز

پرامن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی خوشحالی کیلئے ضروری ہے

انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے افغان مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان نے اہم مصالحتی کردار ادا کیا، پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اپنے عوام کی امنگوں کے مطابق ہمیں نئے مستقبل کی جانب دیکھنا ہے، افغان سر زمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، دونوں ملکوں کو دہشتگردی، انتہا پسندی سمیت مشترکہ چیلنجز کا سامنا رہا۔ہماری رائے میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا یہ کہنا کہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان کا کردار اہم نوعیت کا رہا جو اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ افغانستان میں قیام امن اور تمام فریقوں کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے میں پاکستان کی حکومت کا کردار بلاشبہ کلیدی تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور افغان عوام کی خوشحالی کیلئے پاکستان نے ہمیشہ ایک مثبت اور موثر کردار ادا کیا ہے ۔ کیونکہ ایک پرامن اور خوشحال افغانستان ایک مستحکم اور پرامن پاکستان کی ضمانت ہے۔ افغانستان کی سرزمین بھارت کی سازشوں کے باعث پاکستان کے اندر بڑے پیمانے پر دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتی رہی۔ اس حقیقت کے باوجود کہ بھارت کے افغانستان کے ساتھ کسی قسم کاسرحدی تعلق نہیں لیکن بھارت نے وہاں ایک ایسی لابی پیدا کررکھی تھی اور اپنی نام نہاد قونصلیٹس جو درحقیقت بھارتی دہشتگردی کے اڈے تھے کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا۔ پاکستان میں عدم استحکام اور دہشتگردی کرنے کیلئے بھارت نے بے پناہ مالی وسائل خرچ کئے۔ جہاں تک پاکستان کی حکومتوں اور عوام کا تعلق ہے وہ شروع دن سے ہی افغان عوام کو اپنا بھائی اور افغانستان کو اپنا برادر اسلامی ملک تصور کرتے آئے ہیں اور اس کا ثبوت روس کی طرف سے افغانستان پر قبضے کے بعد پاکستان کی حکومت اور عوام نے جس والہانہ انداز میں چالیس لاکھ سے زیادہ افغانوں کو پاکستان میں پناہ دے کر اور ان کے ساتھ بھائی چارے ،اخوت اور رواداری کے رشتوں کو استوار کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ بھارت نے کمال مکاری سے افغانستان کے اندر پاکستان مخالف عنصر کو نہ صرف دہشتگردی بلکہ سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھی استعمال کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بالآخر بھارت کو منہ کی کھانا پڑی ۔ آج افغانستان کی حکومت اور اسی طرح ایران بھی بھارتی مکرو فریب سے نجات پاکر نہ صرف پاکستان کے قریب آگئے ہیں بلکہ سی پیک جیسے اہم منصوبے میں شامل ہورہے ہیں جو درحقیت پاکستان کی سفارتی اور اصولی فتح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا ہمیں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، دونوں ممالک میں مزید تعاون کے مواقع موجود ہیں، اپنے فوائد اور نقصان سے ہمیں سبق سیکھنا ہے، پاکستان اور افغانستان میں خوشحالی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہے۔، معیشت کی بہتری کیلئے دونوں ممالک میں آزادانہ تجارت کو فروغ دینا ہوگا۔ہماری دانست میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا یہ اظہار کہ دونوں ملکوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے بالکل درست سمت ہے کیونکہ دونوںملک باہمی اشتراک اور تعاون سے اور خاص طور پر سی پیک منصوبے میں موثر انداز میں شمولیت کرکے نہ صرف اپنے معاشی حالات کو مستحکم اور بہتر کرسکتے ہیں بلکہ اس خطے کی خوشحالی کا بھی سبب بن سکتے ہیں۔ بھارت کو کسی طوربھی ان دو برادر اسلامی ملکوں کے تعلقات میںبہتری اور قربت ہضم نہیںہوگی اور جس انداز میں بھارتی حکومت نے افغانستان کے اندر جاسوسی اور دہشتگردی کا ایک موثر اور مضبوط نیٹ ورک قائم کررکھا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے دونوںملکوں کو احتیاط کا دامن تھام کر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ جہاں تک افغانستان کے ساتھ بھارتی سفارتی تعلقات ہیں وہ اپنی جگہ لیکن افغان حکومت کو بھارت کی سرگرمیوں اور دہشتگردی کے اڈوںپر نظر رکھنا ہوگی جیسا کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین مستقبل میں کسی طور بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی یہ بلاشبہ ایک مثبت پیشرفت اور قابل ستائش بات ہے۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء اور عوام کی ایک نمائندہ حکومت کے قیام کی صورت میں ہی استحکام اور بہتری آسکتی ہے ۔ متحارب گروپوں کی طرف سے اپنے ملک اور عوام کی بہتری کیلئے مثبت پیشرفت نہ صرف ایک خوشحال اور معاشی طور پر مستحکم افغانستان کا پیش خیمہ ہوگی بلکہ جنوبی ایشیاء کے اس خطے میں خوشحالی کے نئے دور کے آغاز کا باعث بھی ۔

About admin

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *