بریکنگ نیوز

ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیوں کے دوران احتیاطی تدابیر کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے

الحمد اللہ گزشتہ روز کورونا وائرس پھیلائو کے باعث چھ ماہ سے بند پرائمری سکولز میں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ۔پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں نرسری سے پانچویں تک کے بچے خوشی خوشی سکول پہنچ گئے اور تدریسی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ۔قبل ازیں 16 ستمبر سے یونیوسیٹیاں اور کالجز بعد ازاں 23 ستمبر سے ہائی سکول کلاسوں کی شروعات ہوگئی تھی۔ تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومت نے جو ایس او پیز وضع کئے ہیں اس کے مطابق تدریسی عمل دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کلاس کی آدھی تعداد ایک دن آئے گی جبکہ باقی دوسرے دن حاضری یقینی بنائے گی، شفٹ کو بھی 4 گھنٹے تک محدود کر دیا گیا۔تعلیمی ادارے اب مکمل طور پر کھل گئے ہیں جو ہماری رائے میں ایک مثبت پیشرفت اور ایک اچھی علامت ہے کہ وطن عزیز میں کورونا وائرس وبا پر کافی حد تک قابو پایا جاچکا ہے لیکن ہنوز احتیاطی تدابیر اور سماجی دوری کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کورونا وباء کم ضرور ہوئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی لہذا اس حوالے سے جہاں والدین بچوں کیلئے ایس او پیز پر عملدر آمد کرانے میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں وہاں تعلیمی اداروں کی انتظامیہ خاص طور پر اساتذہ احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کو یقینی بنائے تو اس وبا کو مزید پھیلنے سے کافی حد تک روکا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھاکہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کو بند کر دیا جائے گا، بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ان کاکہنا تھا کہ بچوں کی صحت سب سے اہم ہے لیکن تعلیم کا مزید حرج بھی نہیں چاہتے، تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ جاری رکھیں گے۔ہماری رائے میں کورونا وائر س کی وبا ایک حقیقت ہے ، عوام کو اس وبا کو ہلکا نہیں لینا چاہئے۔ خائف ہونے کی ضرورت نہیں البتہ احتیاطی تدابیر کو ہر حال میںجاری رہنا چاہئے اسی صورت میں ہی اس موذی مرض سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ بات تشویش کا باعث ضرور ہے کہ بعض علاقوں میں کورونا وائرس کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات آرہی ہیں۔ جیسا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کراچی میں کورونا وائرس کے کیسز بڑ ھنے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے وبا کو روکنے کے لیے سمارٹ لاک ڈائون نافد کرنے کی تجویز دی ہے ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے 747 کیسز میں سے 365 صرف کراچی کے ہیں۔ جبکہ اس وقت کورونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 8 ہزار 903 ہے۔گزشتہ 24گھنٹے کے دوران اس موذی مرض سے ،ملک بھر میں مزید 5افراد دم توڑ گئے اور کل اموات کی تعداد 6479ہو گئیں ۔ ملک بھر میں متاثرین کورونا کی مجموعی تعداد3 لاکھ 12 ہزار263ہوگئی۔ اب جبکہ وطن عزیز میں تمام تعلیمی ادارے باقاعدہ طور پر کھل چکے ہیں اور تدریسی عمل بھی شروع ہوچکا ہے جو ایک اچھی پیشرفت ضرور ہے لیکن احتیاطی تدابیر اور متعلقہ اداروں کی طرف سے ایس او پیز پر عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے تو اس مرض سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر امریکہ، یورپ اور دیگر کئی ممالک میں کورونا وائرس کی وباء جو کافی حد تک قابو میں ہوچکی تھی نے ایک بارپھر سراٹھالیا ہے اور ان ممالک میں کورونا کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کے علاوہ اموات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ اس میںکوئی دو رائے نہیں کہ وطن عزیز طویل دورانیہ کے لاک ڈائون یا کاروباری بندش کا متحمل نہیں ہوسکتا اور اس حوالے حکومتی کوششیں ، سماٹ لاک ڈائون اور مختلف اداروں کو کھولنے کی بروقت پالیسی کے بہتر اور موثر نتائج حاصل ہوئے ہیں ۔ تعلیمی اداروں کے حوالے سے ایک موثر پالیسی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایک طرف تدریسی عمل بھی جاری رہے اور بچوں کی تعلیم کا حرج بھی نہ ہو لہذا امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت ، ادارے اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر عملدر آمد کویقینی بنانے میں میں کسی تساہل اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

About admin

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *