بریکنگ نیوز

بابری مسجد کے فیصلے نے بھارتی عدالتی نظام کو عالمی سطح پر بے نقاب کردیا

گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار بریفننگ کے دوران کہا ہے کہ بابری مسجد کے جانبدارانہ فیصلے سے دنیا میں نام نہاد بڑی جمہوریت آج بے نقاب ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے روز ایک فراڈ عدالتی فیصلے کے ذریعے بابری مسجد کیس میںملوث ملزمان کو جانبدارنہ فیصلے کے تحت بری کردیا گیا ہے جو کہ شرم ناک ہے۔ ترجمان خارجہ کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کیس کے حوالے سے بھارتی عدالت کا فیصلہ ہندو توا نظریے کے تحت کیا گیا اور بھارت میں ہندوتوا نظریے کے تحت ہی حکومت چلائی جا رہی ہے۔بھارتی عدالت کے فیصلے کوبھارت کے عوام،پاکستان اور نہ ہی عالمی برادری تسلیم کرتی ہے۔بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا بھارتی حکومت کی پالیسیاں چانکیہ ڈاکٹرائن کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔ ہماری دانست میں نریندر مودی سرکار شدت پسندی اور اسلام دشمنی میں اس حد تک آگے نکل گئی ہے کہ اس حکومت نے بھارت کی عالمی سطح پر رہی سہی عزت اور وقار کو بے توقیر کردیاہے۔ نام نہاد ہی صحیح لیکن بھارت پوری دنیا میں ایک بڑی جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویدار تھا لیکن آر ایس ایس اوربی جے پی نریندر مودی کی سربراہی میں قائم ہونے والی اس حکومت نے بھارت کی ہنڈیا بیچ چوراہے توڑ دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بھاری بھرکم وجود رکھنے والا اور بہت سی قومیتوں پر طاقت کے بل پر حکومت کرنے والا یہ ملک 73سال سے بظاہر جمہوریت اور سیکولرازم کے پردے میں عالمی برادری کو گمراہ کرتے چلا آیا لیکن نریندر مودی نے بھارت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا جو اس کی سالمیت اور وجود کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ آج سے اٹھائیس سال قبل چھ دسمبر1992ء کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوںنے تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا اور اس مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا اعلان کیا۔اس جرم کی پاداش میں 32ملزمان پر مقدمہ درج ہوا ۔اس مقدمے کے ملزمان میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے شریک بانی اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی، سابق مرکزی وزرا مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ سمیت کئی سینیئر سیاستدان شامل تھے۔لیکن بالآخر انصاف کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بھارت کی اعلی عدالت نے ان تمام 32مجرموں کو بری کردیا۔ جس دن سے بھارت میں نریندر مودی جیسے دہشتگرد اور شدت پسند کی سربراہی میں آ ر ایس ایس کے غنڈوں پر مشتمل حکومت قائم ہوئی ہے بھارت میں نہ صرف مسلمانوں ، عیسائیوں دیگر اقلیتوں حتی کہ نچلی ذات کے ہندوئوں کا جینا دو بھر ہوچکا ہے۔ بھارت نے جہاں مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر میں ایسے قوانین متعارف کرائیں جس کا مقصد مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے اس ریاست کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا مقصود تھا وہاں بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کے خلا ف ایسے قوانین متعارف کرائے گئے جس کا مقصد ہندوتوا نظریئے کے تحت خالص ہندو ریاست کا قیام تھا۔ لیکن بھارتی حکومت کی ان ریشہ داوانیوں اور سازشوں نے بھارت کو نہ صرف اس خطے میں بلکہ عالمی سطح پر ہزمیت اور رسوائی سے ہمکنارکردیا۔ ایک وقت میں نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف بڑھ ہانکی تھی کہ وہ پاکستان کو عالمی سفارتی تنہائی کا شکار کردے گا بلاشبہ مودی سرکار نے اس حوالے سے پاکستان کو کافی مشکلات سے دو چار کیا اور کوئی ایسا موقع جانے نہیں دیا کہ پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر معاشی اور اقتصادی پابندیاں عائد کردی جائیں۔ بھارت اپنے یہ ہدف امریکہ کے صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر حاصل کرنا چاہتا تھا کیونکہ مودی۔ ٹرمپ گٹھ جوڑ سی پیک منصوبے کے خلاف ایک بڑی سازش رچا رہا تھا۔ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور خود بھارت کی اپنی حرکات نے بھارت کو دنیا کے سامنے نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ عالمی سفارتی تنہائی کا شکار بھی کیا۔آج دنیا بھارت کو ایک جمہوری اور سیکولر ملک کے طور نہیں بلکہ شدت پسند اور دہشتگرد ملک کے طور پر بہتر انداز میں سمجھ رہی ہے۔ بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کہ حقائق کو مسخ کرلینے سے حقیقت کو چھپایا نہیںجاسکتا ۔ بھارت کو آذربائیجان کے ہاتھوں آرمینہ کو دی جانے والی شکست کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ طاقت کے بل پر کسی بھی علاقے اور عوام کو زیادہ دیر تک محکوم نہیں رکھا جاسکتا اور وہ وقت دور نہیں جب بھارت اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے نتائج اپنی شکست و ریخت اور وجود کو پارہ پارہ ہوتا دیکھے گا اور مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر بھی بھارت کے چنگل سے نکل کر آزادی سے ہمکنار ہوگی۔

About admin

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *