بریکنگ نیوز

بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلح افواج کو ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے

اگلے روز اسکردو اورگلگت کے دورے کے موقعے پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے اور لائن آف کنٹرول پر کسی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلح افواج کو ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ لائن آف کنٹرول آزاد کشمیر میں رہنے والی سول آبادیوں پربلاشتعال اور اندھا دھند گولہ باری بھارت کا شروع دن سے وطیرہ رہا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے جب بھی بھارت پر دبائو بڑھتا ہے تو وہ توجہ ہٹانے کیلئے مقبوضہ جموںو کشمیر کی عوام پر ظلم و ستم بڑھا دیتا ہے اور اسی طرح آزاد کشمیر کی شہری آبادیوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ تیز کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر پر دبائو بڑھانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ بھارت کی طرف سے لائن آف کٹرول پر مسلسل اشتعال انگیزکارروائیوں کے باعث ان علاقوں میں آباد سویلین آبادی کا وسیع پیمانے پر نقصان ہوتا ہے۔ پاک فوج بھارتی جارحیت کا ہمیشہ منہ توڑ اور دندان شکن جواب دیکربھارتی توپوں کا منہ بند کردیتی ہے۔ قابض بھارتی افواج حدمتارکہ کے اس پار سے اندھا دھند گولہ باری کرتی ہے جبکہ پاک فوج ہمیشہ بھارتی تنصیبات اور بھارتی فوجیوں کی چوکیوں کو ہدف بناتی ہے۔ چونکہ لائن آف کنٹرول کے اس پار رہنے والی آبادیوں کو محفوظ رکھنا بھی پاک فوج اپنی پیشہ ور ذمہ داری سمجھتی ہے۔ ایسے میں جب پاکستان ملک کے اندر اور خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے، اورعالمی سطح پر پاکستان کی ان کوششوں کا اعتراف بھی کیا جاتاہے لیکن بھارت اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے امن دشمن پالیسیوں سے ان کوششوں کو شدیدنقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔قیام پاکستان کے بعد ریاست جموں و کشمیر میں کشمیری مجاہدین نے آزادی کی خاطر جو مسلح تحریک شروع کی تھی اس کے نتیجے میں آزاد کشمیر کا خطہ آزاد ہوا اسی طرح گلگت بلتستان کے غیور اور بہادر عوام نے بھی ڈوگرہ اور بھارتی فوجیوں سے ایک بڑا علاقہ آزاد کرایا ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر بھارت کی خواہش پر سیز فائر نہ ہوتا تو قریب تھا کہ کشمیری مجاہدین سرینگر تک اپنا قبضہ قائم کرلیتے اور پوری ریاست جموں و کشمیر آزادی سے ہمکنار ہوکر مملکت خداد پاکستان کا حصہ بنتی۔ لہذا اقوام متحدہ کی مداخلت سے 1949ء میں بھارت کی درخواست پر سیز فائر کیا گیا اور یہ خونی لیکر آج شملہ معاہدہ کے تحت لائن آف کنٹرول کے نام سے منسوب ہے ۔ ویسے تو بھارت کئی دہائیوں سے سیز فائرلائن یا موجودہ لائن آف کنٹرول پر معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا چلا آیا ہے اور اس کی جارحیت اور بلااشتعال گولہ باری کے باعث آزاد کشمیر کے سینکڑوں شہری آج تک شہید یا ہزاروں کی تعداد میں عمر بھر کے لئے اپاہچ ہوچکے ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ گزشتہ سال پانچ اگست 2019ء کے دن جب بھارت نے اپنے آئین کی دفعات 370اور 35-A کو نکال کر مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے علاقے کو بھارتی یونین کا حصہ بنانے کی ناپاک جسارت کی اس واقعہ کے بعد سے قابض بھارتی فوج نریندر مودی سرکار کی ایماء پر لائن آف کنٹرول پر آئے روز بین الاقوامی معاہدے کے مغائر سول آبادیوں کو نشانہ بناتی چلی آرہی ہے۔پاکستان آرمی کے سپہ سالار کا دورہ اسکردو اور گلگت بلاشبہ اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ آرمی چیف کے سرحدی علاقوں کے دورے سے جہاں سرحدوں پر تعینات فوجی جوانوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہاں مادر وطن کی حفاظت کا جذبہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں آرمی چیف کا دورہ اسکردو اور گلگت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون اور ہٹ دھرمی کے باعث اس خطے میں کشیدہ صورتحال پیدا کرنے کے درپے ہیں ۔ لداخ میں چین کے ہاتھوں بننے والی درگت اور وسیع علاقہ چین کی طرف سے قبضہ کرنے کے بعد بھارت اپنی خفت اور ہزیمت کو چھپانے اور بھارتی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی اور جنگی ماحول پیدا کرنا چاہتاہے۔

About admin

Check Also

دہشتگردوں کی حرکات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے

گزشتہ روز صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *