بریکنگ نیوز

بھارت وطن عزیز میں دہشتگردی اورمذہبی منافرت کے بیچ بو کر اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل چاہتا ہے

اگلے روز پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ وطن عزیز کی سلامتی کو درپیش چیلینجز کا مقابلہ اتحاد اور یکجہتی سے ہی ممکن ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام اقدامات آئین اور قومی مفاد کے مطابق ہیں۔ الحمد للہ پاکستان آج دفاعی اعتبار سے بہت مضبوط ہے۔ ہم اس حکومت کی آئین اور قانون کی گائیڈ لائنز کے مطابق مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے ہماری تباہی اور بربادی کا بیج بونے کی کوشش کی مگر وہ ہماری ترقی اور کامیابی کو دیکھ کر مایوسی کا شکار ہے۔ ہماری رائے میںسپہ سالار عساکر پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ وطن عزیز کی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور یکجہتی سے ہی کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت ہر محاذ پر پاکستان کے خلاف سازشوں میں متحرک اور مصروف ہے ۔ وطن عزیز کے استحکام اور معاشی خوشحالی کو نقصان پہنچانے کیلئے پاکستان دشمن طاقتیں جہاں دہشتگردی و دیگر بین الاقوامی سازشوںمیں مصروف ہیں وہاں اس ملک کے سیاسی استحکام کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کیلئے اب مذہبی منافرت اور لسانی بنیادوں پر سازشیں کی جارہی ہیں۔ کسی بھی ملک کی فوج اس وطن کے دفاع، سالمیت اور وجود کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے جہاں تک پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا معاملہ ہے وہ عالمی سطح پر مسلمہ اور تسلیم شدہ ہیں۔ مشکل کی ہر گھڑی میں پاک فوج نے پوری قوم کا مضبوطی کے ساتھ دیا اور یہ پاک فوج کا ہی اعزاز ہے کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کو ممکن بنانے کیلئے پاک فوج کے جوانوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اس وقت ملک کی نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ دو قومی نظریے کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بھی قومی یکجہتی اور اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دشمن پاکستان کی صفوں میں گھس کر مذہبی منافرت ، لسانی اور علاقائی تنازعات کو ہوا دے کر وطن عزیز کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے در پے ہے۔ عالمی سطح پر بھارت کو ہزیمت اور رسوائی کا سامنا ہے لہذا بھارت میں برسر اقتدار آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت نے جب اس بات کو بھانپ لیا کہ سی پیک کے خلاف کی جانے والی سازشیں کاریگر ثابت نہیں ہوئیں کیونکہ بھارت کو اس حقیقت کا ادراک ہوگیا ہے کہ سی پیک کے منصوبے تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں اور تیسرا مرحلہ بھی اس حوالے سے شروع ہونے جارہا ہے۔ بھارت امریکہ کی حمایت حاصل کرنے اور مفادات کے حصول کی خاطر چین کے اس بڑے منصوبے کو سبوتاژ کرکے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتاہے تاکہ وہ چین کو سبق سکھا سکے لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ اب گیند بھارت کے کورٹ سے نکل چکی ہے اور چین ایک عالمی قوت کے طور پر سامنے آگیا ہے ۔ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ ‘ منصوبہ بالآخر تکمیل کے مراحل کو پہنچے گا جس سے دنیا کے ستر ممالک مستفید ہوسکیں گے۔ سی پیک بلاشبہ ون بیلٹ ون روڈکا حصہ ہے اور اس کی کامیابی پاکستان کیلئے معاشی اعتبار سے گیم چینجر ثابت ہوگی ۔ ان حالات کے تناظر میں جب بھارت کو سرحدوں پر چین کی طرف سے لداخ اور ارونا چل پردیش میں دبائو کا سامنا ہے۔ اسی طرح بھارت کے دیگر پڑوسی ممالک جن میں نیپال ، بھوٹان، سری لنکا اور بنگلہ دیش شامل ہیں بھی بھارت پر دبائو بڑھانے کا باعث بنیں گے لہذا بھارت اس صورتحال سے نکلنے کیلئے پاکستان کے معروضی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشتگردی کو ہوا دینے اور خاص طور پر مذہبی منافرت اور خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ بیان کہ دشمن کے عزائم اور وطن عزیز کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری قوم میں اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضروری ہے۔ 1965ء کی جنگ میں بھارت نے وطن عزیز پر رات کی تاریکی میں شب خون مارا لیکن جہاں یہ پاک فو ج کی جنگی حکمت عملی اور قربانیوں کا ثمر تھا کہ دشمن کو بھاگنے پر مجبور کیا وہاں یہ پاکستانی قوم کا جذبہ ایمانی، اتحاد و یکجہتی کا مظہر بھی تھا کہ پوری قوم پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہوگئی اور بالآخر دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔ ہماری دانست میں دنیا کی کوئی قوم خواہ وہ کتنی ہی طاقتور ہو اس وقت تک اپنے ہدف حاصل نہیں کرسکتی نہ ہی کسی دشمن کو شکست دے سکتی ہے جب تک اس ملک کی فوج اور قوم یک جان دو قالب ہوں۔ اس میںکوئی دو رائے نہیں کہ وطن عزیز کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور یہ حقیقت بھی بھارت پر آشکارہوچکی ہے کہ دفاعی اور جنگی صلاحیت کے اعتبار سے پاک فوج کا مورال بھارت سے کئی زیادہ اور آگے ہیں۔

About admin

Check Also

دہشتگردوں کی حرکات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے

گزشتہ روز صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *