بریکنگ نیوز

عالمی استحصالی قوتوں کی مفاداتی سیاست کے باعث ہی آج دینا کا امن خطرے میں ہے۔

اگلے روز وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد ی اور انتہاء پسندی کا سامنا کررہے ہیں۔ کشمیریوں کا بہت خون بہہ چکا ہے،مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ عملی اقدامات اٹھائے ۔ اگر مسئلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا تک جائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اقوام متحدہ کا کردار بھی مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے تسلی بخش نہیں رہا ہے ۔ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہی ہے۔ہماری رائے میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بلاشبہ درست کہا ہے کہ کشمیری عوام دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی اور انتہا پسندی کا سامنا کررہی ہیں کیونکہ اس وقت بھارت میں نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتی تاریخ کے بدترین دہشتگردوں اور شدت پسندوں کی حکومت قائم ہیں جنہوں نے نہ صرف مقبوضہ جموںو کشمیر میں کشمیری عوام کا جینا اجیرن کررکھا ہے بلکہ بھارت کے اندر بھی رہنے والے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیلئے بھی عرصہ حیات تنگ کردیا ہے۔ بھارت اس وقت ایک خالص ہندوتوا ریاست کا نقشہ پیش کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا نام نہاد جمہوری اور سیکولرچہرہ بری طرح بے نقاب ہوچکا ہے۔ دنیا بھارت کے مسلسل جھوٹ پر یقین کرتے ہوئے اسے ایک بڑی جمہوریت اور سیکولر ملک سمجھ رہی تھی۔ لیکن نریندر مودی نے بھارت کی کایا پلٹ دی اور اس کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے واضح ہوگیا۔ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ عالمی قوتیں بخوبی جانتی ہیں کہ بھارت انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا مرتکب ہورہا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود امریکہ اور اس کی طفیلی ریاستیں بھارت کے خلاف کسی قسم کا کوئی اقدام کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ اس خطے میں اپنے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے امریکہ بھارت کو آشیرباد دے رہا ہے کیونکہ امریکہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ بھارت ہی وہ ملک ہے جو چین کو روک پائے گا۔ جبکہ یہ بات بھی طشت از بام ہوچکی ہے کہ چین نے لداخ اور دیگر علاقوں میں بھارت کو عبرتناک سبق دیا ہے جو بھارت مدتوں یا د رکھے گا۔ دراصل امریکہ خود براہ راست چین کا مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی جنگ جنوبی ایشیاء میں بھارت کے کندھے پر لڑنا چاہتا ہے تاکہ تباہی اور بربادی صرف اس خطے کا ہی مقدر بنے یورپ اور امریکہ اس عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہ سکے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کا دور اور یہ امریکہ کی خام خیالی ہے کہ وہ خود کو اس جنگ کی لپیٹ سے محفوظ رکھ پائے گا۔ تیسری عالمگیر جنگ کی صورت میں دنیا ایک بڑی تباہی اور بربادی کا شکار ہوگی۔ یہ صورتحال بھی عالمی برادری اور انصاف پسند ملکوں کیلئے تشویش کا باعث ہونی چاہئے کہ بڑی طاقتیں کمال ہوشیاری کے ساتھ صرف اپنے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے خونی کھیل کھیل رہی ہیں۔ اس وقت آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نکورا کاراباخ کے مسئلے پر جنگ جاری ہے یہاں بھی بڑی قوتیں اس جنگ کو اسلام اور کفر کی جنگ کا تاثر دیکر ایک مسلمان ملک کے خلاف بڑا محاذ قائم کرنا چاہتی ہیں۔ نکورا کاراباخ آذربائیجان کے علاقے ہیں اور مسلم اکثریت ہونے کے باعث اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجود عملدر آمد آج تک نہ ہوسکا اور آج جب آذربائیجان نے آرمنینیا کو سبق سکھادیا ہے اور نکورا کاراباخ کے کئی علاقے اپنے قبضے میں لے لئے لیکن اسلام دشمنی میں ملوث فرانس اور روس آرمینیا کی پشت پناہی کررہے ہیں تاکہ جنگ کو روکا جائے اور یہ علاقے آرمینیا کے ہی قبضے میں رہیں۔ یہی صورتحال مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر کی ہے۔ 1947ء کی جنگ آزادی میں قریب ہی تھا کہ مجاہدین سرینگر پر قبضہ کرلیتے لیکن بھارت نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عالمی قوتوں کی ایماء پر جنگ بندی ہوئی اور سیز فائر ہوگئے اور یہ خونی لیکر جو آج لائن آف کنٹرول کہلاتی ہے تہتر سالوں میں بے پناہ انسانی جانیں اپنے حق کی آواز بلند کرتے ہوئے داعی اجل ہوچکی ہیں۔ لیکن بے ضمیر عالمی برادری خاص طور پر استحصالی قوتیں اس مسئلے کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدر آمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے بھارت کو شہ ملی ہے وہ تمام مظالم اور بین الاقوامی اصولوں کے مغائر حرکات کے باوجود کسی طور بھی قابل گرفت نہیںہے۔ اس پر طرہ یہ کہ بھارت جیسا ظالم اور سفاک ملک سلامتی کونسل کی مستقل نشست کا بھی دعویدار ہے۔ ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ اگر یہ طرفہ تماشاجاری رہا تو عالمی قوتوں خاص طور پر امریکہ جیسی سپرپاور کی ایماء پر دنیا ایک بار پھرایک خوفناک جنگ کا شکار ہوگی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ انسانیت کے خاتمے کی شروعات ہوگی ۔

About admin

Check Also

دہشتگردوں کی حرکات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے

گزشتہ روز صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *