بریکنگ نیوز

پاکستان کا اگلے تین سال کیلئے انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہونا بھارت کیلئے عالمی سطح پر پسپائی

پاکستان کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا بھاری اکثریت کے ساتھ رکن منتخب ہونا بلاشبہ پاکستان کیلئے عالمی سطح پر بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے۔ ہماری رائے میں یہ بات خوش آئیند ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو نہ صرف پذیرائی مل رہی ہے بلکہ تسلیم بھی کیا جارہا ہے جو درحقیقت بھارت کی شکست اور ہزیمت ہے۔ اگلے روز پاکستان نے انسانی حقوق کونسل کے 193 میں سے 169 ووٹ حاصل کئے ۔ چین ، روس ، آذربائیجان اور نیپال بھی انسانی حقوق کونسل کے رکن منتخب ہوگئے جبکہ سعودی عرب نے صرف 80ووٹ حاصل کئے اور وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ پاکستان کا اس عالمی فورم پر رکن منتخب ہونے پر بھارت اور اسرائیل سیخ پا ہوگئے جو اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ یہ دونوں استحصالی ملک اپنے گٹھ جوڑ سے دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے در پر ہیں۔ بھارت عالمی سطح پر پاکستان کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کو توڑ موڑکر بیان کرتا تھا اور اس حوالے سے اس کی سازشیں ناکامی سے ہمکنار ہوئیں۔ بھارت پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کا دعویدار تھا لیکن مختلف فورموں میں پاکستان کی پہلے سے بہتر پذیرائی کے باعث بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی یہ کامیابی بھارت کے بدنما چہرے پر ایک تھپڑ کے مترادف ہے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ بھارت کے اپنے ملک کے اندر انسانی حقوق کے حوالے سے کرتوت اس قدر بھیانک ہیں جس کے باعث بھارت کا غلیظ چہرہ عالمی رائے عامہ کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے۔ ہماری رائے میں یہ کامیابی پاکستان کیلئے نیک شگون ہے کیونکہ اگلے تین سال تک پاکستان انسانی حقوق کونسل میں اعتماد کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے میں اہم رول ادا کرسکے گا۔ یہاں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ جس طرح موثر انداز میں دفتر خارجہ اور بیرون ملک پاکستان مشنز نے محنت کی ہے اگر وہ ماضی میں دہشتگردی کے حوالے سے حقائق دنیا کے سامنے رکھنے اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور کشمیریوں کا موقف بہتر انداز میں اجاگر کرنے میں بھی محنت سے کام لیتے تو آج بھارت کی ہٹ دھرمی کسی کام نہ آتی اور دنیا بھارتی دہشتگردی اورمسئلہ کشمیر کی حقیقت کو بہتر انداز میں سمجھ سکتی۔ وزیر اعظم عمران خان ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دفتر خارجہ اس کامیابی پر مبارک باد کے مستحق ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ دفتر خارجہ اور پاکستانی مشنز مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حقوق کیلئے پہلے سے بہتر اور موثر انداز میں عالمی سطح پر کوششوں میں تیزی لائیں گے تاکہ بھارت کا سفاک چہرہ اور مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور اسی طرح بھارت کے اندر بھی مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے خلاف شدت پسند بھارتی حکومت کی کارروائیوں کو بھی عالمی ادارے میں بے نقاب کرنے کیلئے جاندار اور ٹھوس انداز میں تحریک کریں گے۔ ہماری دانست میں بھارت کی مخالفت کے باوجود پاکستان کی جیت درحقیقت بھارت کے بیانیے کی شکست ہے اور پاکستان کے موقف کی جیت ہے۔ 5اگست 2019ء کے بعد جب بھارت نے اپنے آئین سے 370 اور 35-A کو ختم کرکے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کیلئے سازش کی تب سے اب تک چودہ ماہ گزرنے کے باوجود مقبوضہ ریاست میں بھارتی فوج کے مظالم اور لاک ڈائون میں کمی واقع نہیں ہوئی ۔کیونکہ مودی سرکار یہ سمجھ رہی تھی کہ بھارتی آئین سے ان شقوں کے خاتمے کے بعد مقبوضہ ریاست بھارتی یونین کا حصہ بن جائے گی لیکن حقائق کو تبدیل کرنا ناممکن ہے کیونکہ کشمیریوں نے اپنے حق آزادی کا تہیاکررکھا ہے اور وہ آزادی سے کم کسی صورت بھی بھارت کے آگے جھکنے کیلئے تیار نہیں۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مغائر بھارت کا یہ اقدام بھارت کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنے کا سبب بنا اور دنیا کو کشمیر کی حقیقت سے کافی حد تک آگاہی بھی ہوئی۔ بھارت روز اول سے دنیا کو جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے گمراہ کرتا چلا آیا تھا اس کے اس مسلسل جھوٹ کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے ۔ تمام حقائق کے باوجود چند بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر کشمیریوں کے حق کیلئے کوئی بڑا قدم اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ البتہ کافی برف پگھل چکی ہے ۔ بھارت،امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ اب زیادہ دیر تک موثر ثابت نہیں ہوسکے گا کیونکہ دنیا کی سوچ میں تبدیلی رونما ہورہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب بھارت کو کشمیر سے دیس نکالا ہوگا اور کشمیری اپنے حق خود ارادیت کو حاصل کرکے رہیں گے۔

About admin

Check Also

عالمی استحصالی قوتوں کی مفاداتی سیاست کے باعث ہی آج دینا کا امن خطرے میں ہے۔

اگلے روز وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *