بریکنگ نیوز

احتجاج اپوزیشن کا حق لیکن سیاسی عدم استحکام کسی صورت بھی جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں

اگلے روزگیارہ جماعتی حزب اختلاف کے پلیٹ فارم پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے گوجرانوالہ سے حکومت مخالف تحریک کا آغاز کردیا ہے اور اس سلسلے کا دوسرا جلسہ اتوار کی شام شہر قائد کراچی میںمنعقد ہوا ۔ جہاں تک جمہوری نظام کا تعلق ہے احتجاج ، سیاسی دھرنے، جلسے یہ جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ اختلاف برائے اصلاح کسی بھی حزب مخالف پارٹی اور سیاسی گروہ کا حق ہے لیکن جہاںتک قومی اور ریاستی اداروں کا تعلق ہے ان کے خلاف براہ راست ہرزہ سرائی اور مخالفت کسی طور بھی درست روش قرار نہیں دی جاسکتی۔ ہماری دانست میں کسی بھی سیاسی جماعت یا جماعتوں کے اتحاد کا جلسہ یا احتجاج حکومت کیلئے مسائل تو پیدا کرسکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی بھی احتجاجی تحریک فوری طور پر حکومت کو چلتا کرسکتی ہے۔ البتہ اس میں کوئی دو رائے نہیںکہ کوئی بھی منظم عوامی تحریک اور احتجاج اگر طول پکڑ جائے تو وہ نہ صرف حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے بلکہ جمہوریت اور جمہوری نظام کی بساط کو الٹنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ 16اکتوبر کو گوجرانوالہ سے شروع کی جانے والی یہ احتجاجی تحریک بظاہر اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے قائدین کے مطابق مہنگائی بے روزگاری ، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ، اشیائے خوردنوش بشمول آٹا، چینی سمیت دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف ہے لیکن گوجرانوالہ کے جلسے میں براہ راست قومی اور ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہ کسی طور بھی ایک اچھی روش نہیں۔ اس میں بھی کوئی دو رائے کہ اس وقت ملک میںمہنگائی کا ایک سیلاب امنڈ آیا ہے اور غریب طبقہ انتہائی مشکل اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہماری رائے میں اپوزیشن کی تحریک حکومت کے خلاف کسی صورت کامیاب نہیںہوسکتی لیکن اگر حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے، بیروزگاری پر قابو پانے اور مہنگائی کے جن کو قید کرنے میں کامیاب نہیںہوتی تو اپوزیشن اپنا چورن بیچنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کا اس وقت کوئی جواز نہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتیں نیب کے شکنجے سے فرار حاصل کرنے کیلئے حکومت مٹائو تحریک چلانا چاہتی ہیں تاکہ ان کے خلاف نیب کا گہرا مزید تنگ نہ ہو اور وہ جیلوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا استدلال ہے کہ ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور جاچکی ہے ملک کو بہتری پر ڈالنے کیلئے حکمرانوں سے چھٹکارا ضروری ہو گیا ہے۔یہ کہ تاریخی مہنگائی اور غربت سے معیشت تباہ ہو چکی ہے لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں موجودہ حکمران جمہوریت کو ذبح کرکے آئے ہیں جو اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین اور جمہوریت کو بچانا ہے سیاست کو یرغمال نہیں دیکھ سکتے ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو عوام کا ایسا ہی براحال ہوتا ہے جیسا آج ہے۔ ہماری رائے میں مجموعی طور پر یہ ہمارے نظام کی بدقسمتی ہے کہ ہر دو صورتوں میں ملک میں جمہوریت ہو یا آمریت وطن عزیز کی عوام ہی اس صورتحال میں تختہ مشق بنتی ہے ۔ جمہوریت اور جمہوری نظام اسی صورت استحکام کی طر ف جاسکتا ہے جب کسی بھی منتخب حکومت کو اس کا عرصہ انتخاب پانچ سال پورا کرنے دیا جائے تاکہ آئیندہ آنے والے انتخابات میں حکمران طبقہ خود عوام کے احتساب کا شکار ہو اور اگر اچھی گورننس اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں حکومت کامیاب ہوتی ہے اورپارٹی منشور اور انتخابی اجتماعات میں عوام سے کئے گئے وعدے پورا کرنے میں کامیا ب ہوتی ہے تو پھر یہ عوام کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کس کو دوبارہ اقتدار دینے کیلئے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ وطن عزیز کی 73سالہ تاریخ میں نصف سے زیادہ ملک میں فوجی آمریت قائم رہی۔ مارچ 1977 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دوبارہ انتخاب کے خلاف دھاندلی کے الزام میں تمام سیاسی جماعتوں کے بڑے اتحاد نے ایک منظم تحریک شروع کی جس کے باعث ملک کی سیاسی بساط الٹ دی گئی اور پانچ جولائی 1977ء کو ملک میں مارشل لا ء نافذ کردیا گیا جو گیارہ سال تک جاری رہا۔ ہماری رائے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے جمہوریت اور جمہوری اقدار کے لئے بیچ کا راستہ نکالنا ہوگا ۔ دونوں طرف سے ہٹ دھرمی کسی صورت بھی سیاسی نظام کیلئے نیک شگون ثابت نہیں ہوسکتی۔ موجودہ حالات کے تناظر میں جب ملک معاشی طور بھی مسائل اور بحران کا شکار ہے اور اسی طرح کورونا وائرس کے باعث بھی پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی مشکل معاشی صورتحال سے دو چار ہے ایسے میں سیاسی عدم استحکام اور احتجاجی تحریک عوام اور ملک کیلئے مزید مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

About admin

Check Also

,افغان عمل میں روڑے اٹکانے والوں پر نظر رکھنی ہو گی وزیر اعظم عمران خان کا یہ جملہ بھارت کیلئے سبکی کا باعث بنا

اگلے روز وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان عمل میں روڑے اٹکانے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *