بریکنگ نیوز

اگر حکومت مہنگائی کو قابو کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میںموثر اقداما ت اٹھائے تو پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک ناکامی سے دوچار ہوسکتی ہے

اگلے روز اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ٹائیگر فورس پورٹل کے افتتاح کے موقعے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی کئی وجوہات ہیں اور یہ کہ جب انھیں حکومت ملی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ انہیں ورثے میں ملا۔ ان کا کہنا تھاکہ جب روپیہ گرتا ہے توگیس، پٹرول، بجلی سب چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں ، پام آئل مہنگا ہونے سے خوردنی تیل و گھی مہنگا ہوتا ہے،ہم ساٹھ فیصد دالیں بھی باہر سے منگواتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مہنگائی کی دوسری بنیادی وجہ بے وقت کی زیادہ بارشیں بھی بنیں،ان بارشوں سے گندم کی پیداوار متاثر ہوئی ۔ہماری رائے میں وزیر اعظم عمران خان کا ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے استدلال اور اظہار خیال اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت موجود ہے کہ اس وقت وطن عزیز میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے اور ہوشربا مہنگائی نے ایک عام اور متوسط طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عوام ہر وقت وطن عزیز کیلئے قربانی دینے کیلئے تیار رہتی ہے لیکن جہاں تک حکومت کا تعلق ہے عوامی مسائل کا حل مہنگائی پر قابو پانا ، بے روزگاری کا خاتمہ اور غربت کے گراف کو نیچے لانا حکومت کی ترجیحات ہونی چاہیے۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ حکومت کے کیا مسائل ہیں ، غیر ملکی قرضے اور تجارتی خسارہ کس چڑیا کا نام ہے کیونکہ عام شہریوں کی سوچ کا محور دال روٹی ہوتا ہے اور وہ حکومت سے یہی امید لگا بیٹھتے ہیں کہ مہنگائی کنٹرول ہوگی اور ان کے مسائل حل ہونگے ۔ اس وقت عام لوگ مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث ناامیدی اور مایوسی کا شکار ہیں۔ غربت کا گراف اوپر کی طرف جارہا ہے اور سطح غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یہ صورتحال پی ٹی آئی کی حکومت خاص طور پر وزیر عظم عمران خان کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ اس وقت ملک میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے اپنی احتجاجی تحریک شروع کردی ہے ۔ پی ڈی ایم کا دعوی ہے کہ حکومت کو 31 دسمبر سے پہلے گھر بھیج دیں گے۔ ہماری رائے میں احتجاجی تحریکیں ، جلسے اور دھرنے بلاشبہ جمہوری عمل کا حصہ ہے اور احتجاج اپوزیشن کا حق ہے۔ حزب اختلاف کا گیارہ جماعتی اتحاد دعوی کرتاہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اچھی گورننس دینے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے لہذا وہ عوام کے حقوق کیلئے یہ تحریک چلارہے ہیں۔ اس کے برعکس حکومت کا یہ استدالال ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی قیادت کو نیب کے شکنجے سے بچانے کیلئے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس نہ لائی جاسکے اور ملک کی دولت کو شیر مادر سمجھ کر لوٹنے والے احتساب کے عمل سے بچ سکیں۔یہ دونوں استدلال اپنی جگہ لیکن ہماری دانست میں حکومت جب تک عوام کے مسائل کو حل کرنے ، مہنگائی کو قابو کرنے اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے موثر اور ٹھوس اقدامات نہیںاٹھائے گی عوامی حمایت میں کمی واقع ہونا ایک فطری عمل ہوگا۔ جہاں تک عوامی مینڈیٹ کا تعلق ہے پانچ سال کا عرصہ پورا کرنا اور اپنے منشور پر عملی جامہ پہنانا اور انتخابات میں کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا پی ٹی آئی کی حکومت کا جمہوری حق اور عوامی امتحان بھی ہے۔ کیونکہ جمہوری نظام میںانتخاب بذات خود ایک کڑا عوامی احتساب ہوتا ہے۔ جو حکومت عوام کو اچھی حکومت دینے اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو وہ انتخابی عمل میں شکست سے دوچار ہوتی ہے۔ البتہ حکومت اپنی عوامی ساکھ اور عوامی حمایت اسی صورت میں قائم رکھ سکتی ہے جب وہ عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں موثر اقدامات اٹھائے وگرنہ ناکامی کی صورت میں حزب اختلاف عوام کی ہمدردیاں اور حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے جو حکومت کیلئے کوئی نیک شگون نہیںہوگا۔

About Aziz

Check Also

,افغان عمل میں روڑے اٹکانے والوں پر نظر رکھنی ہو گی وزیر اعظم عمران خان کا یہ جملہ بھارت کیلئے سبکی کا باعث بنا

اگلے روز وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان عمل میں روڑے اٹکانے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *