بریکنگ نیوز

وطن عزیز میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے

بلوچستان، خیبر پختونخوا اور وطن عزیزکے دیگر علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ خاص طور پر سیکورٹی فورسز اور پاک فوج کے جوانوں پر دہشتگرد حملے بلاشبہ تشویش کا باعث ہیں۔ گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان ، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات اسی طرح منگل کے روز کراچی میں ایک بس کے قریب دھماکہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دہشتگرد اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے ایک بار پھر متحرک اور فعال ہوگئے ہیں۔ ہماری رائے میں دہشتگردی کے ان واقعات کے پیچھے واضح طور پر بھارت کا ہاتھ خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ یہ بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ خود کو عالمی دبائو سے نکالنے کیلئے پاکستان میں تخریب کاری ، دہشتگردی ، مذہبی منافرت کے تحت فرقہ وارانہ فسادات اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ اور آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر آباد سول آبادی کو نشانہ بنا کر جنگی جنون کا ماحول پیدا کرتا چلا آیاہے۔ ہماری دانست میں بھارت کی طرف سے اس طرح کے مذموم ہتھکنڈے صرف اور صرف پاکستان کو سی پیک منصوبے پر پیشرفت کرنے کی پاداش میں کئے جارہے ہیں۔ بھارت اور امریکہ کا یہ گٹھ جوڑ چین کی دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ امریکہ اس خطے کو بالآخر جنگ کی تباہ کاریوں میں جھونکنا چاہتاہے۔ عالمی سطح پر چین ایک اہمیت حاصل کرچکا ہے اور چین کی ٹیکنالوجی بھی امریکہ کو اب کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے۔ لہذا اس خطے کو جنگ کی لیبارٹری بناکر امریکہ اپنے عزائم کی تکمیل چاہتاہے اور بھارت کے کندھے پر وہ چین کا راستہ روک کر پاکستان کو بھی سزا دینا چاہتا ہے۔ امریکہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ چین کی طرف سے شروع کردہ ون بلیٹ ون روڈ کا عظیم الشان منصوبہ اور پاکستان کے اندر چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتاہے اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں سی پیک منصوبہ ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے ۔ لہذا پاکستان دشمن قوتیں پاکستان کو کسی صورت بھی معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط اور توانا دیکھنا نہیں چاہتیں۔ اس لئے ان پاکستان دشمن ملکوں کو سی پیک اور چین سے پریشانی لاحق ہے کہ اگر یہ منصوبے کامیابی کے ساتھ پائیہ تکمیل کو پہنچتے ہیں تو پاکستان نہ صرف اس خطے کا بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط معاشی قوت بن کر ابھرے گا۔ امریکہ جنوبی ایشیاء میں اپنے عزائم کیلئے بھارت کا کندھا استعمال کرکے دونوں ملکوں کو جنگ پر لانا چاہتا ہے۔ امریکہ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس جنگ کے نتائج اگر بھارت کے خلاف بھی جاتے ہیں اور بھارت کی یکجہتی پارہ پارہ ہوجاتی ہے اور بھارت کئی ٹکڑوں میں بٹھ جاتا لیکن امریکہ اپنے ہدف کے حصول اور چین کا راستہ روکنے کیلئے مودی سرکار کو ضرور استعمال کرے گا۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ امریکہ کبھی بھی پاکستان کا دوست تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔ کیونکہ قرائین ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ کی پالیسی کا مقصد ہر صورت میں پاکستان کو کمزور اور معاشی طور پر بے بس رکھنا ہے ۔کیونکہ امریکہ یہ بات جانتاہے کہ سی پیک منصوبے اور گودار بندگاہ کے فعال ہونے کے بعد پاکستان معاشی طور پراستحکام اور خود انحصاری کی طرف جائیگا۔ یہ صورتحال امریکہ کو کسی بھی صورت گواراہ نہیں۔ وطن عزیز پاکستان کو سی پیک منصوبہ شروع کرنے سے پہلے ہی دہشتگردی کی طویل جنگ میں جھونک دیا گیا جو پاکستان کو امریکہ اور بھارت کی طرف سے واضح پیغام تھا کہ وہ سی پیک اور گوادر پورٹ اور ون بیلٹ اور ون روڈ منصوبے سے لاتعلق رہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ موجود کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانی اور مالی اعتبار سے بڑی قیمت ادا کی۔ دہشتگردی کے اس عفریت کو قابو کرنے کیلئے پاک فوج اور سیکورٹی اداروں نے مختلف آپریشنز کے ذریعے جس جانفشانی سے قربانیاں دیں وہ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہماری رائے میں دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سبق سکھانے کیلئے اور وطن عزیز سے دہشتگردی کی اس لعنت سے ہمیشہ کیلئے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے پاک فوج کو ایک اور بڑا آپریشن شروع کرنا ہوگا تاکہ وطن عزیز کو بھارت اور پاک دشمن قوتوں کے شیطانی کھیل سے بھی محفوظ رکھا جاسکے اور ملک کی ترقی اور جاری منصوبوں کی تکمیل کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔

About Aziz

Check Also

,افغان عمل میں روڑے اٹکانے والوں پر نظر رکھنی ہو گی وزیر اعظم عمران خان کا یہ جملہ بھارت کیلئے سبکی کا باعث بنا

اگلے روز وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان عمل میں روڑے اٹکانے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *