بریکنگ نیوز

محسن انسانیت خاتم النبین ۖ رحمت العالمین کا میلاد پاک اور عالم اسلام کی ذمہ داری

آج 12ربیع الاول رحمت برحق نبی اخر الزمان حضرت محمد مصطفیۖ کا یوم ولادت باسعادت ،اہل اسلام کیلئے خوشی و مسرت کا باعث ہے یہی وجہ ہے کہ اسلامیان پاکستان وجہ تخلیق کائنات ،ھادی برحق کا یوم ولادت عقیدت و احترام سے ہمیشہ مناتے ہیں ، پیغبر برحق رسالت مآبۖ کی ولادت باسعادت اور آپۖ کی دنیا میں تشریف آوری عالم کفر کے ایوانوںمیں بھونچال اور صراط مستقیم پر چلنے والے عظیم انسانوں کیلئے رہنمائی کا باعث بنی۔ آپ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری انسانیت، اور تمام جہانوںکیلئے سراپا رحمت بناکر بھیجے گئے تھے، آپۖ کی ہستی سراپا نور ہے، اللہ رب العزت نے فرمایا، ”ہم نے آپۖ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا ہے” گمراہی، جہالت اور ظلمت کی پستیوںمیں ڈوبی ہوئی انسانیت ، خاص طور پر جزیرة العرب کی آبادی شرک اور بدعات میں اس قدر ڈوب چکی تھی کہ ایسی گمراہ قوم کیلئے اللہ تبارک تعالی نے اپنے پیارے حبیب، امام الانبیاء و شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفی ۖ کو مبعوث فرماکر انسایت کی فلاح اور بھلائی فرمائی، آپۖ کی آمد اور بعثت کے بعد نبوت اور رسالت کا سلسلہ منقطع ہوگیا، اسی لئے خاتم النبین و المرسلین آپ کی ذات اقدس ہی ہے ،وحی اور کتابوں کے نزول کا سلسلہ بھی دین مبین کی تکمیل کے ساتھ مکمل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن پاک کو مکمل ضابطہ حیات اور انسانی معاشروں کیلئے زندہ جاوید دستور بناکر نازل فرمایا۔ قرآن کریم، فرقان حمید انسان کی ہر پہلو اور ہر سمت سے رہنمائی فرماتا ہے۔ اہل ایمان یعنی محمد عربیۖ کے ماننے والے مسلمانوں کیلئے یہ بات باعث فخر ہے کہ وہ اس نبی برحق کی امت سے ہیں جن کیلئے رب العزت نے اس کائنات کو تخلیق کیا۔ تمام انبیاء کے سردار محمدمصطفی ۖ اور تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی سردار کتاب قرآن پاک اہل اسلام کی میراث ہے۔ لیکن یہ رہتی دنیا اور قیامت تک تمام انسانوں کیلئے فلاح اور بھلائی کا ذریعہ رہے گی۔اس کتاب کانزول نبی برحق پر کسی معجزہ سے کم نہیں اور یہ کتاب تمام انسانوں کی رہنمائی کیلئے نازل کی گئی ، لہذا اس کا تقدس تمام مذاہب کے پیروکاروں کیلئے فرض ہے۔ آج اہل پاکستان اور امت محمدۖ یہ دنیا کے دیگر علاقوں اور ملکوں میں ولادت باسعادت ۖ عقیدت و احترام سے منارہی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پیارے آقا نبیۖ کی تعلیمات کیا ہیں، اسلام کا ابدی پیغام کیا، رب العالمین انسانوںسے کس بات کا تقاضہ کرتا ہے اور آپ کی بعثت دنیا میں تشریف آوری کا مقصد کیا تھا۔اہل اسلام کی کتاب اور سنت محمدۖ سے دوری،امت کیلئے زوال کا باعث بن رہی ہے ،اللہ تعالیٰ نے اسلامی ریاستوں خصوصاً اہل اسلام کو اپنی خاص نعمتوں سے نوازا ہواہے ،لیکن مغرب کی تقلید اور عالم کفر کی ہمنوائی نے مسلمانوںکو پستی میں دھکیل دیا ہے ،دین اسلام اتحاد اور یکجہتی کا درس دیتا ہے ،اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے اور تمام انبیاء کا دین بھی اسلام ہی تھا ،اسلام کے پیروکار ہی اس وقت امت واحدہ ہیں، اس کے مقابل اہل کفر ملت واحد ہے۔علامہ اقبال نے اپنے کلام میں اس حقیقت کو اپنے معنی میں اس طرح بیان کیا ہے ،کہ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیۖ ، لیکن مقام افسوس ہے کہ کفر نے اپنے آپ کو ملت واحد ثابت کردیا لیکن اہل اسلام کا اتحاد پارہ پارہ ہوچکاہے۔اسلامی دنیا کے ممالک اپنے مفادات اور دنیائوی فائدوں کیلئے مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہوچکے ہیں جس کا فائدہ غیر مسلم قوتیںاٹھارہی ہیں۔ آج دنیا کے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار، مسلمان آبادیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، فلسطین، شام، عراق، افغانستان، کشمیر، برما ، مختصر یہ کہ جہاں کہیں بھی مسلمان آباد ہیں طاغوتی طاقتیں مجبور و بے کس مسلمانوں کے ساتھ شیطانی کھیل کھیلتی نظر آتی ہیں لیکن دوسری طرف مضبوط و توانا مسلمان حکمران اپنی شخصی حکومتوںکو بچانے کی فکر میں مست اور بے حس نظر آتے ہیں جو ایک المیہ سے کم نہیں،اللہ اور اس کے رسولۖ نے امت مسلمہ کو جسد واحد قرار دیا ۔ ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اسلام کو یہ فضلیت حاصل ہے کہ ایسی امت اور قوم جسے رب العزت نے امت خیر اور انسانوں کی امامت و رہنمائی کیلئے پیدا کیا ہے لیکن اسلامی تعلیمات ،اصولوں سے انحراف اور کتاب و سنت سے دوری کے باعث یہ عظیم امت پستی کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ جو اللہ تعالی کی ناراضگی اور غضب کا باعث بن سکتی ہے، آج اگر محمد عربیۖ ھادی برحق کے امتی کتاب اور سنت کو تھام کر اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام فروہی اور گروہی تعصبات کو ختم کردیں تو کوئی وجہ نہیں غلبہ اسلام نہ ہو اقبال نے سچ فرمایا ،یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب زماں توں ہے۔رحمت العالمین حضرت محمد ۖ کی ذات تمام خامیوں سے پاک ہے۔ نعوذ باللہ ان کے گستاخ کسی طور بھی اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔ وہ اپنی ذات میںیکتا تھے۔ انسان تو کیا وہ چرند، پرند اور حیوانات پر بھی رحم کرتے تھے۔ ایسے میں ان کی شان میں گستاخی کرنے والے وہ کسی بھی طبقہ یا مذہب کے پیرو کار ہوں راندھ درگاہ رہتے ہیں۔مغرب میں ناروے اور ڈنمارک کے بعد اب فرانس میں گستاخ رسول متحرک ہیں۔ گزشتہ دنوں فرانس کے صدر میکرون کی طرف سے گستاخانہ رسول کو کھلی چھٹی دے کر اسلام سے نفرت اور اپنی کم مائیگی کا ثبوت دیا جس سے پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی کیونکہ محمد عربیۖ کے ماننے والے کسی طور بھی اپنے آقا رحمت العالمین کی گستاخی کو برداشت نہیں کرسکتے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں جس انداز میں مغرب میں گستاخوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس کو روکنے کیلئے اسلامی ملکوں اور ان کے سربراہوں کو اپنے مفادات سے مبرا ہوکر غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے اس حوالے سے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کفر اور الحاد کی اس یلغار کو نہ صرف روکا جاسکے بلکہ بین الاقوامی قانون بنانے کیلئے مشترکہ کوشش کو اگر یقینی بنایا جائے تو مستقبل میں کسی ملک یا فرد واحد کو اسلام کی تضحیک کرنے کی جرأت نہیں ہوگی ۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *