بریکنگ نیوز

آخر کب تک مقبوضہ کشمیر میں عوام بھارتی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہوتے رہیں گے؟

اگلے روز کشمیرمیڈیاسروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ اکتوبر میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران ایک خاتون سمیت 23 کشمیریوں کو شہید کردیا۔بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہادتوں کی وجہ سے 2خواتین بیوہ اور 3 بچے یتیم ہوگئے۔شہید ہونے والوں میں تین نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیاگیا۔طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کے کم سے کم 42 افراد زخمی ہوگئے۔بھارتی پولیس اور پیرا ملٹری فورسزنے ایک ماہ کے عرصے میں مختلف علاقوں میں محاصروں اورتلاشی کی 363 کارروائیوں کے دوران94 افراد کو گرفتار کیا ،7رہائشی مکانات اور عمارات کو تباہ کیا یاان کو نقصان پہنچایا جبکہ5 خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ ہماری دانست میں قابض بھارتی فوج نے 5اگست 2019ء کے غیر قانونی اقدام کے بعد ریاستی دہشتگردی میں جو اضافہ کیا ہے اس کی وجہ سے کشمیریوں کا مقبوضہ ریاست میں جینا دوبھر ہوچکا ہے ۔ آئے روز قابض افواج مختلف علاقوںکے محاصرے اور تلاشی کے بہانے بے گناہ کشمیریوں کو دن دھاڑے قتل کردیتی ہے۔ ماورائے عدالت قتل ، گرفتاریاں اور فرضی مقابلوںمیں شہادتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو بلاشبہ تشویش کا باعث ہے۔ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ اگر مغرب کا ایک جانور یا کتا ہلاک ہوجائے یا کوئی غیر مسلم کسی مسلمان ملک میں ہلاک ہوجائے تو امریکہ اور مغرب میں انسانی حقوق شد و مد سے اجاگر ہوتے ہیں ۔ لیکن گزشتہ 73سال سے بالعموم اور تیس سال سے بالخصوص بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ جموںو کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کے ذریعے قتل و غارت گری اور مظالم کا ایک طویل سلسلہ شروع کررکھا ہے لیکن امریکہ سمیت دیگر انسانی حقوق کے چمپیئن ملک کشمیریوں کے حقوق کے حوالے سے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی دو غلی پالیسی اور منافقانہ روئیہ بھارت کے حوصلے بڑھانے کا باعث بن رہی ہے ۔ عالمی سطح پر علاقائی مفادات کی خاطر بڑی قوتیں انسانوں کا قتل عام اور بڑے پیمانے پر نقصان کرانے کے در پہ رہتی ہیں کیونکہ مفاد پرستی کے اس دور میں انسانی خون ارزاں اور سستا ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ اپنی قرار دادوں پر عملدرآمد کرانے میں بے بس اور لاچار نظر آتا ہے کیونکہ سیکورٹی کونسل پر بڑی طاقتوں کا غلبہ ہے اور امریکہ بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا ڈونر ملک ہے لہذا اقوام متحدہ و دیگر عالمی اداروں پر امریکی اثر و رسوخ کے باعث فلسطین اور کشمیر پر منظور کردہ قرار دادوں پر عملدر آمد مشکل نظر آرہا ہے۔ امریکہ کے مفادات مشرق وسطی میںاسرائیل کے ساتھ اور اسی طرح جنوبی ایشیاء میں بھارت کے ساتھ وابستہ ہیں لہذا چین کو اس خطے میں روکنے کیلئے امریکہ کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیریوں کو اپنی آزادی کیلئے بڑی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ چین نہ صرف جنوبی ایشیاء میں بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوطملک اور طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور چین کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت اور حیثیت امریکہ کو ایک آنکھ برداشت نہیں ہورہی ۔ اسی طرح سی پیک منصوبہ اور گوادر پورٹ امریکہ کی آنکھ میںکھٹک رہا ہے ۔ چین اور پاکستان کے اس اہم مشترکہ منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے امریکہ بھارت پر بے پناہ نوازشات کررہا ہے تاکہ امریکہ کی دی ہوئی امداد کے بل بوتے پر بھارت پاکستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کو مزید مضبوط اور موثر کرکے پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ہوا دے اور پاکستان کی سالمیت اور استحکام کو چیلنج کرے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاک فوج اور دیگر سیکورٹی اداروں نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشتگردی کو کافی حد تک قابو کیا تھا لیکن ایک بار پھر بھارتی نیٹ ورک متحرک نظر آرہا ہے ۔ ایک طرف بھارت مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم میں تیزی لارہا ہے تو دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو بھی ہوا دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوںمیں اضافہ کرکے پاکستان کو دبائو میں لانا چاہتا ہے۔ ہماری رائے میں یہ صورتحال زیادہ دیر تک بھارت کیلئے فائدہ مند نہیںہوگی کیونکہ خطے اور عالمی حالات بدل رہے ہیں ۔ آخر کب تک بھارت امریکہ کی آشیر باد پر اس کا طفیلی بن کر اس خطے کے استحکام کو دائو پر لگانے کی کوشش کرتا رہے گا ۔ کیونکہ وہ وقت دور نہیں جب بھارت کا یوم حساب آنے والا ہے ۔ بھارت کو اس حقیقت کا ادراک جلد یا بدیر ہوجائے گا کہ کس طرح امریکہ نے بھارت کی سالمیت کو دائو پر لگاکر اپنے مفادات کو حاصل کیا۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *