بریکنگ نیوز

چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو اضافی بجلی کی قیمت پر 50فیصد کمی کا اعلان ایک اچھا فیصلہ لیکن عام صارفین کو بھی ریلیف مہیا کیا جائے

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو اضافی بجلی کی قیمت پر یکم نومبر سے 50فیصد کمی کا اعلان کیا ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے توانائی شعبے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مقابلے کے اس دور میں پاکستان میں صنعتوں کو ملنے والی بجلی مہنگی ہے، بدقسمتی سے صنعتی شعبے کو 25 فیصد مہنگی بجلی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہماری انڈسٹری مقابلہ نہیں کرسکتی، کیونکہ پچھلی حکومتوں میں بجلی بنانے کے مہنگے معاہدے کیے گئے،ان کا کہنا تھا کہ آج جو پیکیج اعلان کررہا ہوں اس سے مقامی صنعت ترقیکرے گی۔ دریں اثناء وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ مقامی مصنوعات کی لاگت کو کم کیا جائے، یہ ایک سخت فیصلہ ہے اور کابینہ نے منظوری دی ہے کہ 24 گھنٹے آف پیک آوور ہوگا، کئی سال سے شام 7 سے 11 بجے تک پیک آوورز میں بجلی کی قیمت 25 فیصد بڑھ جاتی تھی، لیکن اب صنعتوں کو 24 گھنٹے آف پیک آوور بجلی فراہم کی جائے گی۔ہماری رائے میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو ریلیف دینے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کا اضافی بجلی کی قیمت میں پچاس فیصد کمی کا اعلان بلاشبہ ایک قابل ستائش فیصلہ ہے اور اسی طرح پیک آوورز کا خاتمہ بھی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کیلئے بجلی بلوںمیں ریلیف کا باعث بنے گا جس سے پیداواری لاگت میںکمی آئے گی اور مصنوعات کی قیمت کم ہونے سے بالآخر عوام کو فائدہ ہوگا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت کو مختلف مدات میں مالی کمی اور مشکلات کا سامنا ہے ۔ جہاںتک ملک میں صنعتی پہیے کو جاری رکھنے کیلئے حکومت جو اقدامات کررہی ہے اس کے لامحالہ مستقبل میں بہتر نتائج مرتب ہونگے۔ اس حقیقت سے قطعہ نظر کہ ماضی میں بجلی کی پیداوار کیلئے سابقہ حکومتوںنے آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے معاہدے کئے تھے جس کے باعث نہ صرف صنعتوں بلکہ عام صارفین کو بھی بجلی انتہائی مہنگے داموں مہیا کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے غریب صارفین کو بھی بھاری بھرکم بلات وصول ہورہے ہیں۔مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام کو مہنگے داموں بجلی بلات کے علاوہ فیول ایڈجسمنٹ اور کورونا کے دوران دی گئی ریلیف کی واپسی سے بلات کی رقم میں وافر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو غریب صارفین کی چیخیں نکالنے کیلئے کافی ہے۔ بلاشبہ حکومت کو مالی خسارہ اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے لیکن عوام کو یوٹیلٹی بلوںمیں اگر حقیقی ریلیف دیا جائے تو مہنگائی کے اس دور میں عام صارفین کیلئے بلوں کی ادائیگی آسان ہوگی۔ آئے روز بجلی کی قیمت میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافہ جس کا اطلاق سابقہ مہینوں سے ہوتا ہے اس سے ایک عام صارف کے بل پر بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان یوٹیلٹی بلز خاص طور پر بجلی اور گیس کی قیمتوںمیں آئے روز کے اضافے اور اس کے سابقہ مہینوں پر اطلاق کا نوٹس لیں۔ چھوٹی صنعتوںپر پیک آوور کا خاتمہ اور اضافی بجلی کے خرچ پر پچاس فیصد کمی ایک اچھا اور مثبت فیصلہ ہے اس سے جہاں چھوٹی صنعتوں کو ریلیف میسر ہوگا وہاں مہنگائی کو قابو کرنے میں بھی آسانی ہوگی ۔ حکومت کو مختلف چھوٹی صنعتوں کو گیس اور بجلی کی بلا تعطل ترسیل کے ساتھ ساتھ اضافی یونٹوں پر ریلیف کو یقینی بنانا ہوگا لیکن صنعتی پیداوار اور اس کی قیمتوں کی نگرانی بھی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہونی چاہئے تاکہ جن صنعتوں کو ریلیف دیا جاتا ہے وہ اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو بھی یقینی بنائیں تاکہ حکومت کی طرف سے دی گئی سہولت کا فائدہ عام صارفین اور شہریوں کو بھی ہو۔ امید کی جاسکتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بجلی بل پر آئے روز کے اضافے اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی شکل میں سابقہ مہینوں سے اطلاق کا بھرپور نوٹس لیں گے تاکہ غریب عوام اور صارفین کو حقیقی ریلیف بھی ملے اور مہنگائی کا بوجھ بھی کم ہو۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *