بریکنگ نیوز

طبقاتی اور معاشرتی تفاوت کے خاتمے کیلئے یکساں نصاب تعلیم بنیادی کردار کا حامل ہے

اگلے روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں اور دینی مدرسوں میں یکساں نصابِ تعلیم شروع کرنے کے حوالے سے ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ شنیدہے کہ یکساں نصابِ تعلیم کا آغاز اپریل 2021 سے ہو جائے گا جبکہ منصوبے کے مطابق چھٹی جماعت سے آٹھویں تک یکساں تعلیم کا سلسلہ سال2022 سے اور نویں سے بارہویں گریڈ تک سال 2023 سے شروع کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یکساں تعلیم کی بنیاد پر قائم ہونے والا نظام طبقاتی نظام کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ نئے نظام تعلیم میں اسلامیات کا مضمون درجہ اول سے بارہویں جماعت تک تمام مسلم طلبہ کو پڑھایا جائے گا جبکہ سیرت النبی ۖ کی تعلیم، کردار سازی میں معاون ہوگی۔ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے مذہبی تعلیمات کے نام سے ایک الگ مضمون متعارف کرایاجارہا ہے۔ مختلف مضامین اور مہارتوں کے ضمن میں کئی ملکوں کے تعلیمی نظاموں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ہماری رائے میں نظام تعلیم میں اصلاحات اور خاص طور پر ملک بھر میں دینی اور دیگر نجی تعلیمی اداروں میں یکساں تعلیمی نظام کا اجرا بلاشبہ معاشرے میں تفاوت کے خاتمے اور معاشرتی تفریق اور نچلے طبقوں میں احساس محرومی و کمتری کو ختم کرنے کا باعث بھی ہوگا۔ بلاشبہ حکومت اگر اس شعبے میں موثر اقدامات کے ذریعے اس پالیسی کے نفاذ کو یقینی بنائے گی تو یہ ایک بہت بڑا اقدام ہوگا۔ لہذاجہاں تک تعلیمی نظام میں اصلاحات کا تعلق ہے، یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اس باب میں اتفاق پایا جاتاہے۔آئین کے تحت تعلیم صوبائی موضوع ہے اور اس ضمن میں اقدامات کے لئے صوبوں کی سطح پر قانون سازی ضروری ہوگی۔ یکساں تعلیمی نصاب اور نظام کے لئے یہ یقینا ایک اہم قدم ہوگا۔ اس لئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ ورکنگ گروپوں کومسلسل فعال رہنا ہوگا۔ ہماری دانست میں وطن عزیز میں نظام تعلیم میں تفریق اور غیر یکساں نصاب کے باعث معاشرہ واضح طور پرمنقسم نظر آتا ہے ۔ غریب اور امیر کا فرق اور عام تعلیمی اداروں میں غریب بچوںمیں احساس کمتری اور احساس محرومی پیدا کرنے کا باعث بھی رہاہے۔ یہ تفریق اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہے جب دینی اور نجی درسگاہوں میں نظام تعلیم اور نصاب میں یکسانیت پیدا کی جائے ۔ ہماری رائے میں صرف یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہونگے جب تک تعلیم کے معیار اور تمام درسگاہوںمیں بہتری کیلئے دور رس اور موثر اقدامات نہیں اٹھائیں جائیں گے۔ تعلیم ایک ایسا بنیادی شعبہ ہے جو کسی بھی ملک اور معاشرے کی تعمیر کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔اسلام ہر مرد اور عورت کیلئے تعلیم کا حصول ضروری قرار دیتا ہے۔ حضور ۖ کی ایک حدیث مبارک کے مطابق تعلیم کا حصول ماں کی گود سے قبر تک ضروری ہے۔ لہذا کسی بھی اسلامی معاشرے میں تعلیم کے شعبے کو اسلامی اساس کے مطابق اہمیت دی جانا نہ صرف ضروری ہے بلکہ لازمی جز ہے۔ یہ ایک افسوسناک پہلو ہے کہ ہمارے ملک میں شروع دن سے ہی نظام تعلیم اور نصاب میں بہتری لانے کے حوالے سے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں ایک وقت میں ہی تین نظام تعلیم رائج نظر آتے ہیں ۔ دینی درسگاہوںمیں نظام تعلیم اور نصاب علیحدہ۔ اسی طرح سرکاری سکولوںاور درسگاہوںمیں بچوں کیلئے اردو میڈیم نصاب پھر اسی طرح انگلش میڈیم سکولوں میںنصاب تعلیم دو گروپوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔ اپر کلاس امیر طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کیلئے انتہائی مہنگے اور اعلیٰ درجے کے سکول جبکہ مڈل کلاس کے بچوں کیلئے درمیانی درجے کے انگلش میڈیم سکولوںمیں مختلف تعلیم دی جاتی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں یہ کھلا تضاد تفاوت اور فرق معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنے کا باعث بنا۔ یہ بات اس حد تک درست ہے کہ نظام تعلیم کی تبدیلی، جس میں تمام طلبہ کو اعلی معیار کی تعلیم تک یکساں رسائی ہوگی، کئی رجحانات میں کچھ نہ کچھ فرق ڈالنے کا سبب بن سکتی ہے ،تاہم معاشرتی نظام میں تبدیلی لانے کے لئے کوئی بھی ایسی تبدیلی کافی نہیں ہوسکتی جو ایک ہی رخ یا ایک ہی جہت کی حامل ہو۔کسی بھی معاشرے میں نظام تعلیم کی بہتری کیلئے جہاں نصاب اور نظام تعلیم ایک بنیادی عنصر ہے وہاں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کاوجود اور اہمیت بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتاہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں عام سکولوں میں اساتذہ کو وہ اہمیت اور فوقیت نہ دی گئی جس کا وہ مستحق اور اہل ہے۔ایک استاد اپنے شاگرد کیلئے روحانی باپ کا درجہ بھی رکھتاہے بلاشبہ یہ اسلامی تعلیمات کی اساس ہے لیکن وطن عزیز میں تعلیمی درسگاہوں میں اساتذہ کو وہ اہمیت اور حیثیت نہ دی گئی جس کا وہ اہل تھا۔ جب تک اساتذہ کو ان کی تعلیم ، تجربے کی بنیاد پر قدرومنزلت اور اہمیت نہ دی جائے گی اور ان کامشاہرہ دیگر شعبوں سے بہتر نہیں کیاجائے گا نظام تعلیم اور یکساں نصاب کردینے کے باوجود بھی مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کئے جاسکیں گے۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *