بریکنگ نیوز

یوم شہدائے جموں ، عظیم قربانیوں کی لازوال داستان

یوں تو کشمیری عوام گزشتہ 73سالوں سے یوم شہدائے جموں منارہے ہیں ۔ یوم شہدائے کشمیر ہو یا یوم شہدائے جموں شہادتوں کا سلسلہ آج بھی اسی انداز میں جاری ہے ۔ لیکن اس سال یوم شہداء جموں مختلف انداز میں منایا جائے گا۔آج سے پندرہ ماہ پہلے 5اگست 2019ء کے دن مودی سرکار نے اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے ریاست جموںو کشمیر کی بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت کو ختم کرکے مقبوضہ ریاست کو ہڑپ کرنے کی جسارت کی۔ مقبوضہ ریاست میں ایک طرف کرفیو اور دوسری طرف کورونا لاک ڈائون کے باعث کشمیری عوام انتہائی مشکل حالات سے نبرد آزما ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود کہ ریاست جموںو کشمیر کے عوام نے بھارتی جبر ،ظلم و ستم اور تسلط کو کسی صورت میںقبول نہیں کیا۔ دوسری طرف بھارتی ہٹ دھرمی ، اٹوٹ انگ اور میں نہ مانوں کی رٹ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور اقوام متحدہ کے قرار دادوں کے مطابق حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔کشمیر ہو یا فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کرانا جہاں عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے وہاں بڑی طاقتوں کی بھی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قرار دادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے اپنی پرانی روش ترک کرکے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں مثبت اندازمیں آگے آئیںتاکہ یہ دیرینہ اور قدیم مسائل حل ہوسکیں۔ ماضی کی طرح آج پھر شہدائے جموںکو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یہ دن نہایت عقیدت و احترام سے اور اس جذبے سے منایا جار ہا ہے کہ ریاست جموںو کشمیر کے عوام اپنے حق کیلئے بھارتی استبداد سے آزادی تک جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ آج سے 73سال قبل 6نومبر 1947ء یعنی قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی پاکستان ہجرت کرنے والے دو لاکھ افراد سے زیادہ ریاستی مسلمانوں کو ہندو جنک سنگھیوں ، شرنارتھیوں ،ظالم ڈوگرہ اور بھارتی فوجیوں نے ایک سازش کے تحت تہہ تیغ کردیا تھا ۔ 5 نومبر 1947ء کو ڈوگرہ انتظامیہ کی طرف سے جموں میں جگہ جگہ یہ اعلان کروایا گیا کہ پاکستان جانے کے خواہشمند مسلمان پولیس لائن میں اکٹھے ہوں تاکہ اُنہیں بحفاظت پاکستان بھیجا جا سکے۔ یہ اعلان سنتے ہی بڑی تعداد میں مسلمان پولیس لائن کے گرائونڈ میں جمع ہو گئے۔ نومبر میں شدید سردی کے باوجود مسلمان مردوں، بوڑھوں، بچوں نے رات پولیس لائن گرائونڈ میں کسمپری کی حالت میں گزاری ۔ 6 نومبر کو انتظامیہ کی طرف سے تمام لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ٹرکوں اور بسوں میں سوار ہو جائیں تاکہ اُنہیں پاکستان بھیجا جا سکے جہاں پر اپنی مرضی اور آزادی سے زندگی گزار سکتے ہیں ۔ڈوگرہ اور بھارتی سازشیوں کے جھانسے میں ریاست کے مسلمان جو پاکستان کو اپنی پناہ گاہ سمجھتے تھے ٹرکوں اور بسوں پر سوار ہو گئے۔ ہزاروں مسلمان مردوںاور عورتوں کو سوچیت گڑھ کے راستے پاکستان بھیجنے کی بجائے ماوا کے جنگلوں کی طرف لے جایا گیا جہاں پہلے سے بنائی گئی ایک سازش کے تحت ڈوگرہ فوج بھارتی انتہا پسند،آر ایس ایس اور دوسری انتہاء پسند تنظیموں کے دہشتگردوں نے جنگلوں میں پہنچتے ہی مسلمان مردوں اور عورتوں، بچوں، جوانوں، بوڑھوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر شہیدکردیا۔بھارت جو ریاست جموںو کشمیر پر گزشتہ 73سال سے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر قابض ہے اور اپنے اس قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے ریاست میں شیطانی کھیل کھیل رہا ہے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے ایک طرف اندرونی سطح پر اپنے خفیہ ایجنٹوں کے نیٹ ورک کے ذریعے دہشتگردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے تاکہ پاکستان میں ہونے والی ترقی بالخصوص چین پاک اقتصادی راہداری منصوبہ ، گودار پورٹ اور دیگر میگا پراجیکٹس کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جاسکیں اور پاکستان کی ترقی کی رفتار کو روکا جاسکے ۔ امریکہ کی مدد سے پاکستان پر دبائو بڑھانے کا مقصد پاکستان کو کشمیر کی تحریک آزادی سے الگ کرناہے جو بھارت کی ہٹ دھرمی اور نیت کے فتور کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن پاکستان جو مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق، وکیل اور کشمیریوں کا پشتی بان ہے وہ اپنے اس عہد پر قائم ہے کہ مسئلہ کشمیر پرعالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے اور بھارت کے مظالم کو بے نقاب کرنے کیلئے پاکستان کشمیریوں کے لئے حمایت جاری رکھے گا ۔یاد رہے یومِ شہداء جموں 6 نومبر کو ہر سال منایا جاتا ہے تاکہ نئی نسل کو اس دن کی اہمیت اور منانے کے اغراض و مقاصد سے آگاہی رہے اور وہ یہ سمجھ سکیں کہ کشمیری مسلمان اور ہمارے آبائواجدادجو پاکستان کو ہی اپنی منزل اورمرکز سمجھتے تھے اور ہیں،وہ کتنی قربانیوں کے بعد مملکت خداداد پاکستان میں ہجرت کرکے آئے تھے۔ لہذااس بات کی جانکاری بھی نئی نسل کیلئے ضروری ہے کہ ہجرت کے دوران ہندوئوں کے فریب اور دھوکے میں آنے والے جموں کے مسلمان شہریوں کو دھوکے کے ساتھ بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اُن کی قربانی مکمل طور پر پاکستان کیلئے تھی جس سے عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے جو ایک تاریخی حقیقت ہے اور یہ کہ کشمیری مسلمانوں کی مذہبی، تہذیبی، جغرافیائی ہر لحاظ سے وابستگی پاکستان کے ساتھ ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔جموں و کشمیر کی نئی نسل کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بزرگوں کے ادھورے مشن کی تکمیل کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے یہی ہماری نئی نسل کے لئے یوم شہداء جموں کا پیغام ہے۔جس کی آبیاری کیلئے گزشتہ سات دہائیوں سے لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *