بریکنگ نیوز

بھارت میں مودی کا اسلام مخالف رویہ نے ثابت کردیا کہ دو قومی نظریہ آزادی کشمیر اور پاکستان کی بقاء کا ضامن ہے

دو قومی نظریہ کی مخالفت کرنے والے نام نہاد دانشور اب اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوچکے ہونگے کہ بھارت میںنریندر مودی جیسے انتہا پسند اور اسلام دشمن جیسے شخص کی قیادت میں موجودہ بی جے پی آر ایس ایس سرکار کے اقدامات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دو قومی نظریہ درحقیقت پاکستان کی بنیاد اور اساس ہی نہیں بلکہ آزادی کشمیر اور پاکستان کے بقاء کی ضامن بھی ہے۔ اسی تناظر میں آج پوری قوم حکیم الامت ، شاعر مشرق ، دو قومی نظریہ کے علمبردار اور مملکت خداداد پاکستان کے قیام کا نظریہ پیش کرنے والی ہستی علامہ محمد اقبا ل کا143واں یوم ولادت انتہائی عقیدت و احترام اور ملی جذبے سے منارہی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال جیسے مدبر اور صاحب علم افراد صدیوں میں پیداہوتے ہیں۔ علامہ اقبال کا خطبہ آلہ آباد 1930ء بلاشبہ دو قومی نظریہ کی بنیاد اور اساس ہے جس کے باعث وطن عزیز پاکستان کاقیام ممکن ہوسکا۔ علامہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 1940کی قرار داد لاہور (پاکستان) کی روشنی میں 14اگست 1947ء کو حقیقت کا روپ دیا۔ہماری دانست میں قوم کو اساس پاکستان اور دو قومی نظریہ کی بنیاد کو مضبوطی سے تھامنے کی جس قدر ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکیم الامت ، شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال یوم ولادت انہی حقائق کے تناظر میں مناکر دشمنان پاکستان کو ایک مضبوط اور ٹھوس پیغام دیا جائے ۔ آج اغیار اور پاک دشمن قوتیں نظریہ پاکستان اور اسلام کی نفی کرتے ہوئے سیکولرازم کا پرچارکررہی ہیں۔ نئی نسل کو اپنی بنیادکا علم ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہی نہیں بلکہ وقت کی اشد ضرورت بھی ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جس کیلئے ہمارے اسلاف نے بھر پور قربانیاں دیکر بلآخر مملکت خداداد پاکستان کو حاصل کیا۔ علامہ محمد اقبال نہ صرف ایک عظیم صوفی شاعر تھے بلکہ فلسفی ،بلند پائیہ قانون دان اور مبلغ اسلام اور سچے عاشق رسولۖتھے۔ بلاشبہ علامہ اقبال ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور ان کا مرتبہ سرحدوں کی قید سے مبرا ہے کیونکہ وہ ایک عالمی سطح کی بلند پائیہ شخصیت تھے اور جہاں تک برصغیر کے مسلمانوں کا تعلق ہے حکیم الامت کا ان پر احسان عظیم ہے کہ انہوںنے اس خطے میں اسلامایان ہند کیلئے ایک علیحدہ اسلامی مملکت کا خواب دیکھا اور جس کی تعبیر بعدازاں بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے چند سالوں میں شرمندہ تعبیر کردی۔ وطن عزیز پاکستان اسلامی ملکوںمیں ایک عظیم سرمایہ ہے جو عالم اسلام کیلئے ایک مضبوط قلعہ کی مانند ہے جس کی آبیاری میں جہاں شاعر مشرق اور بابائے قوم کی ولولہ انگریز قیادت کا بہت بڑا عمل دخل ہے وہاں اسلامیان ہند کی لازوال اور عظیم قربانیاں بھی شامل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف پاکستانی مسلمانوں کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ عالم اسلام کے تمام ممالک کیلئے مملکت خداداد پاکستان کا بین الاقوامی کردار بھی ایک حقیقت ہے اور یہ حقیقت آج پوری دنیا پر اشکار ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے دنیا کے کسی خطے میں بھی اگر اہل اسلام مشکل میں ہوں تو پاکستانی قوم ان مسلمانوںکے درد کو اپنا درد سمجھتی ہے اور جیسے بھی ممکن ہو ان کی مدد کیلئے دامے ، درمے ، سخنے کوششیں کرتی ہے ۔ پاکستان کی اس اہمیت کے پیش نظر اور عالمی سطح پر ایک اہم اسلامی مملکت جو نہ صرف دفاعی لحاظ سے ایک مضبوط بلکہ واحد مسلم ایٹمی قوت کا حامل ملک پاکستان نہ صرف بھارت بلکہ دیگر طاغوتی طاقتوں کی نظر وںمیںچبتاہے اور وہ اس ملک کے اتحاد اور سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کے در پہ رہتے ہیں۔ بطور مسلمان اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہمارا یہ ایمان ہے کہ مملکت خداداد پاکستان اللہ کے نام پر ،سب سے بڑھ کر 14اگست 1947ء اور رمضان المبارک کی 27ویں شب میں معرض وجود میںآنے والے اس ملک کی سالمیت اور بقاء کا ضامن اور محافظ اللہ تعالیٰ ہے۔ لہذاتمام خطرات کے باوجود طاغوتی طاقتیں اپنے مکرو عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگی۔ ہمارے لئے یہ بھی قابل فخر بات ہے کہ علامہ محمد اقبال ایک کشمیری النسل تھے جو دو قومی نظریہ یعنی ہندو اور مسلمان دو علیحدہ قومیں ہیں کے بڑے داعی تھے اورجس نظریہ کی بنیاد پر پاکستان کی تخلیق ممکن ہوئی۔ علامہ اقبال نے اپنی عظیم شاعری میں کشمیر کو جنت نظیر قرار دیا اور مسلمان نوجوان کو شاہین سے تشبیع دی اور ان کی نظر میں ایک مسلمان نوجوان کا کردار ایسا ہونا چاہئے جو اپنے عمل سے اپنی قوم کی ترجمانی کا حق ادا کرے، فلسفہ خودی کے ذریعے علامہ اقبال نے عزت نفس اور اعلیٰ اقدار کی ترجمانی کرتے ہوئے انسان کو اس کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز کیا ہے کہ خود دار انسان کو اللہ تعالیٰ اتنی اہمیت دیتا ہے کہ وہ اس بندے کی رضا کیلئے مہربان ہوجاتاہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ڈاکٹر محمدعلامہ اقبال نے اپنی سرزمین جس سے ان کا روحانی جذباتی تعلق تھا اور جو ڈوگرہ حکمرانوںکے ظلم و جبر کا شکار تھا کے حقوق کی جنگ کیلئے قائم اُس وقت کی کشمیر کمیٹی کی سربراہی بھی کی لہذا یہ اس وقت کی تاریخی کشمیر کمیٹی کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ علامہ اقبال جیسی عظیم شخصیت اس کے سربراہ بنے۔ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ مادر وطن کشمیرکی حالت زار پر فارسی اور اردو کلام میں اپنے دکھ کا اظہار کیا ۔ علامہ اقبال باہمی اتفاق و اتحاد کے بڑے مبلغ اورداعی تھے ۔ وہ عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کو متحد اور یکجا دیکھنا چاہتے تھے تاکہ اسلام کی نشاط ثانیہ کا احیاء ممکن ہو اور دنیا میں عالم اسلام کا غلبہ قائم ہو۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو زندگی کے ہر موڑ پر سخت محنت اور ریاضت سے کام کرنے اور دوسروں کے سامنے سرنگوں ہونے سے بچنے کی تلقین کی ۔ یہ علامہ اقبال کے کلام اور تعلیمات ہی کا اعجاز تھا کہ کشمیری عوام نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کے ساتھ الحاق کی تاریخی قرارداد منظور کی جب پاکستان اس وقت تک دنیا کے نقشے پر نمودار نہیں ہواتھا ۔کشمیری عوام اپنی جد وجہد شد ومد سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور5اگست 2019ء کے بھارتی حکومت کی طرف سے غیر قانونی اقدام اور ریاست کے تشخص کو مسخ کرنے کی گھنائونی سازش اور 9لاکھ بھارتی فوج ،آر ایس ایس اور شیوسینا کے غنڈوں کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں نے اپنے حق آزادی کی جدوجہد جاری و ساری رکھا ہواہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب وہ اپنی اس جد وجہد میں سرخرو ہونگے اور پوری ریاست جموں کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل ہوکر تکمیل پاکستان کو کا نہ صرف یقینی بنائینگی بلکہ دو قومی نظریہ کی مضبوطی کا باعث بھی بنے گی۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *