بریکنگ نیوز

وطن عزیز میں کورونا کا پھیلائوتشویش کا باعث ہے ، ایس او پیز پر عملدرآمد اور عوام کا تعاون اس مرض سے چھٹکارے کیلئے ضروری ہے

جس طرح وطن عزیز میں کوروناوائرس تیزی سے پھیل رہا ہے بلاشبہ تشویش کا باعث ہے۔ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے سبب مزید23 افراد جا ں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد7 ہزار ہوگئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں میںملک میں کورونا کے ایک ہزار637نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں اور متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد3لاکھ46 ہزار476 ہوچکی ہے۔اسی طرح آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آزاد کشمیر میںا س وقت تک 112 اموات ہوچکی ہیں اور مجموعی طورپر آزاد کشمیرمیں 4 ہزار830 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ ہماری رائے میں عوام کو کوروناوائرس کی وبا کو انتہائی سنجیدہ لینا ہوگا لیکن افسوسناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عام طور پر لوگ کورونا وائرس کو سطحی لیتے ہوئے اس موذی اور مہلک وبا کو ہلکا لیتے ہیںاور یہ صورتحال اس وباء کے پھیلائو میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ جہاں تک احتیاطی تدابیر کا تعلق ہے حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنانا نہ صرف عوام کے اپنے حق میںہے بلکہ اس حوالے سے متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عملدر آمد کرکے لوگوں کی صحت اور جان کو محفوظ بنایا جاسکتاہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت ملک کی معاشی صورتحال کسی طور بھی بہتر نہیں اور اس پر کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث آئندہ اگر حکومت مکمل لاک ڈائون کی پالیسی پر عمل پیراہوتی ہے تو عوام کی مشکلات خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کی مشکلات کا باعث ہوگا اور مجموعی طور پر ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی ۔ بلاشبہ حکومت مکمل لاک ڈائون کی پالیسی پرعملدرآمد کے حق میں نہیں لیکن جس انداز میں عوام اس موذی وبا ء کونظر انداز کرکے سنجیدگی کا اظہار نہیں کررہے وہ صورتحال تشویش کا باعث ہے ۔ا س وباء کی پہلی لہر کے دوران حکومت نے اپنی ایک بہتر پالیسی اور حکمت عملی سے لاک ڈائون اور سمارٹ لاک ڈائون کے ذریعے اچھے نتائج حاصل کئے تھے اور یہ بیماری اس انداز میں وطن عزیز پاکستان میں زیادہ نقصان نہ پہنچا سکی لیکن اب جس طرح عوام کی طرف سے بے احتیاطی اور لاپرواہی کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ یہ وباء پہلے کی نسبت تیزی سے معاشرے میں سراعیت کرجائے گی ۔ وطن عزیز میں کرونا کی لہر روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس کے باعث مریضوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ 1443 مزید نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دو روز قبل مزید 18 مریض کرونا کے باعث دم توڑ گئے۔ ایسی نازک اور سنگین صورتحال کے پیش نظر انتہائی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے حکومتی سطح پر تو کارروائی کی جا رہی ہے نتیجتا لاہور سمیت 11 شہروں میں مارکی ، کنوپی میں شادی تقریبات ، لنچ ، ڈنر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔جہاں تک آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں اور اضلاع کا تعلق ہے کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران اس کا پھیلائو آزاد کشمیر میں قدر کم تھا اور حکومت کی طرف سے موثر حکمت عملی اور بہتر اقدامات کے باعث یہ وباء آزاد کشمیر میں زیادہ نقصان نہ پہنچا سکی۔ لیکن اس دفعہ اس کا پھیلائو تیزی کی طرف ہے جو ایک اچھی علامت نہیں۔ عوام کو حکومت اور اداروں کی طرف سے دی گئی ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا ۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کی طرف سے سخت لاک ڈائون کی پالیسی اپنانا مجبوری بن جائے۔ عوام کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ کوئی بھی حکومت معاشی سرگرمیوں کے خاتمے کو اچھا نہیں سمجھتی لیکن بادل نخواستہ اگر حکومت کو اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے اور عوام کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سخت فیصلے کرنے پڑے تو اس کا نقصان جہاں معیشت پر ہوگا وہاں حکومت اور عوام کے مسائل میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس مہلک مرض کی تباہ کاری سے محفوظ رہنے اور دوسرون کو محفوظ رکھنے کیلئے کس حد تک اپنے فرائض کا ادراک کرتے ہوئے حکومتی اقدامات سے تعاون کرتے ہیں۔ اس کا انحصار عوام کے رویہ اور تعاون سے ہوگا۔ یہ صورتحال بھی کوئی اچھی علامت نہیں کہ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع بشمول مظفر آباد، راولاکوٹ، باغ، میرپور،بھمبراور کوٹلی وغیرہ میں کورونا وائرس کے کیسز میںاضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو تشویش کا باعث ہے۔ ہماری رائے میں محدود لاک ڈائون، بالخصوص سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی ایک درست اقدام ہے کیونکہ اس طرح کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کی بندش سے بچتے ہوئے عوام کیلئے روزگار کے مواقعے میسر رہیں گے لیکن اگر عوام کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث اس وباء کا پھیلائو بڑھتارہا تو حکومت کی طرف سے سخت اقدامات آنا بعید از امکان نہیں۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *