بریکنگ نیوز

,افغان عمل میں روڑے اٹکانے والوں پر نظر رکھنی ہو گی وزیر اعظم عمران خان کا یہ جملہ بھارت کیلئے سبکی کا باعث بنا

اگلے روز وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان عمل میں روڑے اٹکانے والوں پر نظر رکھنی ہو گی۔ افغانستان مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ماسکو میں ہونیوالی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کونسل کے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ افغانستان کو مفاہمتی عمل سے بھرپور فائدہ اْٹھانا ہو گا۔ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی انٹرا افغان مذاکرات کا اہم جْزو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ افغانستان میں مفاہمتی عمل کا حامی رہا ہوں۔ ہماری دانست میں وزیر اعظم عمران خان کا شنگھائی تعاون تنظیم کے اس اجلاس سے خطاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس اجلاس سے چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ویلاد میر پیوٹن کے علاوہ بھارت کے انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی خطاب کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ خطاب بھارتی وزیر اعظم کیلئے خفت اور ہزیمت کا باعث بنا کہ جب اجلاس میں اپنے اپنے خطاب کے دوران چین اور روس کے صدور نے وزیر اعظم عمران خان کے خیالات کو پذیرائی اور پاکستان کے موقف کو اہمیت دی ۔ اجلاس کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی خود کو تنہا محسوس کررہے تھے کیونکہ ایسا لگتا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا میلہ وزیر اعظم عمران خان نے لوٹ لیا اور اس پر نریندر مودی کو کافی تکلیف ہوئی۔ چور کی داڑھی میںتنکہ کے مصداق نریندر مودی کو وزیر اعظم عمران خان کا یہ جملہ کہ ”افغان عمل میں روڑے اٹکانے والوں پر نظر رکھنی ہو گی” تیر بہ ہدف محسوس ہوا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ افغان امن عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے کیونکہ بھارت کو ایک پرامن اور خوشحال افغانستان کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔بھارت افغانستان میں بیٹھ کر دہشتگردی کے اڈے چلانا چاہتاہے تاکہ وہ پاکستان کے خلاف اپنے خبث باطن کا اظہار دہشتگردی کی کارروائیوں سے کرسکے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہوجاتا ہے تو بالآخر وہاں سے دہشتگردی کے تمام اڈے ختم ہوجائیں گے اور بھارت کو اپنی ان مکروہ کارروائیوں کیلئے زمین اور اڈے نہیں مل سکیں گے۔ جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوںملکوں کی دوستی کو لازوال اور مضبوط قراردیا اسی طرح چین کے صدر نے بھی وزیر اعظم عمران خان کے موقف کو بھر پور انداز میں سراہتے ہوئے دونوں ملکوں کی دوستی اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔یہ صورتحال نریندر مودی کیلئے سفارتی سطح پر پسپائی اور تنہائی کا باعث بنی۔ کیونکہ کل تک جو مودی پاکستان کو سفارتی طور پر عالمی سطح پر تنہا کرنے کا دعویدار تھا آج دنیا پاکستان کے موقف کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے ۔یہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور اس کے چیلوں کی انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کا ہی شاخسانہ ہے کہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ حکومت نے بھارت کے اندر نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتوں کیلئے بھی جینا دوبھر کررہا ہے۔ پاکستان کو دبائو میں لانے کیلئے بھارت کے پاس کشمیر کے علاوہ اور کوئی کارڈ نہیں کیونکہ بھارتی دہشتگردی عالمی سطح پر بے نقاب ہوچکی ہے لہذا قابض بھارتی فوج کشمیریوں کی حق خود ارادیت اور آزادی کی تحریک کو دبانے کیلئے مظالم اور ہر قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھارت نے ہر طرح کے ہاتھ پائوں مارے لیکن سی پیک منصوبہ چین کے تعاون کے باعث تیزی سے تکمیل کے مراحل کی طرف گامزن ہے جو بھارت کی پریشانی میں اضافے کا سبب اور نریندر مودی کی نیندیں اڑانے کیلئے کافی ہے کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کی آشیر باد اور خوشنودی حاصل کرنے کیلئے سی پیک منصوبے کو ہدف بناکر امریکہ سے کافی مراعات حاصل کرچکا ہے۔ لیکن بھارت اور امریکہ کو اس حوالے سے سبکی ،پریشانی اور ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ ہماری رائے میں وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کو یہ کھلا چیلنج دیا کہ ہم جانتے ہیں افغان امن عمل کی راہ میں رکاوٹیں کون ڈال رہا ہے ۔ چین اور روس کی قیادت کو وزیر اعظم عمران خان نے باور کرایا کہ افغان امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے والوں یعنی بھارت پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ صورتحال نریندر مودی کیلئے سبکی اور شرمندگی کا باعث تھی کیونکہ مودی جانتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا اشارہ ان ہی کی طرف تھا۔ ہماری رائے میں شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کا موقف بہتر انداز میں سمجھا گیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *