بریکنگ نیوز

بھارتی افواج مزمت سے نہیں بلکہ مرمت سے درست ہوسکتی ہے

گزشتہ روز بھارتی فوج نے سما ہنی سیکٹر کے سرحدی علاقوں گاہی ، سما ہنی ، چاہی نہالہ، کھمباہ اور ہری پور کی سول آبادی کو مارٹر شینگ کا نشانہ بنایاجس کے باعث دو خواتین سمیت چار افراد زخمی ، مال میویشی ہلاک و زخمی ، املاک کو شدید نقصان پہنچا ، گورنمنٹ ڈگری کالج سما ہنی کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ،طلباء معجزانہ طور پر محفوظ رہے، لوگ کئی گھنٹے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ ہماری رائے میں یہ صورتحال انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ بھارتی قابض افواج آئے روز لائن آف کنٹرول کی بڑے پیمانے پر بین الاقوامی اصولوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کرکے سول آبادیوں کو نشانہ بناتی ہے۔جس کی وجہ سے متعدد معصوم بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں یا پھر عمر بھر کیلئے اپاہچ ہوجاتے ہیں۔ دریں اثناء اسلام آباد میںمتعین بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے 11 نومبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے رکھ چکری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارتی جارحیت کا پاک فوج بھرپور اور موثر جواب دیتی ہے لیکن آخر کب تک دفتر خارجہ احتجاجی مراسلات بھارتی سفارتکاروں کو پیش کرتے رہیںگے۔کسی بھی ملک کی طرف سے بین الاقوامی سرحد ہو یا حدمتارکہ لائن آف کنٹرول سے بھارت کی طرف سے آئے روز بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی آخرکب تک برداشت کی جائے گی۔ ہماری رائے میں ہم جب تک مزمتی مراسلات اور احتجاج ریکار ڈ کراتے رہیںگے بھارت آزاد کشمیر میںشہری آبادیوں کو نشانہ بناتا رہیگا۔بھارت ایسا بزدل ملک ہے جس کی فوج مرمت سے ہی درست ہوسکتی ہے چین کی مثال سامنے ہے ، چین نے لداخ کے علاقے میں بھارت کو ایک بڑے رقبے سے بے دخل کردیا ہے اور بھارتی فوج کی موثر اندازمیں مرمت اور درگت بنائی ۔ جس دن پاک فوج کی طرف سے بھارت کو منہ توڑ جواب کے ساتھ ساتھ ایک بھرپور حملہ کے ذریعے قابض فوج کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جائے گا تو بھارتی افواج کے دماغ درست ہوجائیں گے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کا اس حوالے سے بیان بالکل درست سمت ہے کہ ہندوستان کی بزدل فوج میں اتنی جرات نہیں کہ وہ افواج پاکستان کا مقابلہ کر سکے اس لیے خونی لکیر پر آباد معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہے ۔ سیز فائر پر بسنے والے عوام ہندوستانی فوج کی جارحیت سے ڈرنے والے نہیں ہیں وہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دفاع وطن کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت مسلسل سیز فائر لائن کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے ۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو بھارتی جارحیت کا فوری نوٹس لیناچاہیے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لائن آف کنٹرول کے اس پار سے قابض بھارتی فوج نے رواں سال کے دوران 2660 مرتبہ بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 20 بیگناہ شہری شہید اور 203 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ایک تاریخی المیہ ہے کہ گزشتہ 73سال سے بالخصوص اور 1931سے بالعموم کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے آرہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کسی طرح بھی دو ملکوں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ڈیڑھ کروڑکشمیریوں کی آزادی اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے جسے عالمی برادری اور عالمی ادارہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت ایک بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن شو مئی قسمت کشمیر ہو یا فلسطین جہاں کہیں بھی مسلم اکثریتی آبادی مسائل سے دو چار ہو بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر ان دیرینہ مسائل کو حل کرنے سے قاصر لگتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ایسٹ تیمور یا سوڈان کو تقسیم کرنے کا معاملہ ہو مغرب اور امریکہ نے فوری طور پر ان مسائل کو حل کرکے یکسو کردیا۔ یہ صورتحال انصاف اور میرٹ کے تقاضوں کے منافی اور عالمی برادری کیلئے ایک بڑا سوال ہے کہ آخر کار انسانی حقوق کے نام نہاد چمپئین اور علمبردار یہ مغربی ممالک اور امریکہ آخر کیوں کشمیری اور فلسطینی عوام کے حقوق کو اہمیت نہیں دیتے۔ یہ دو نظری ،دوہرامعیار اور منافقت ان ممالک کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی سے کیوں پہلو تہی کررہے ہیں۔مغربی ملکوں اور عالمی طاقتوں کا یہ رویہ بھارت جیسے ملک اور خاص طور پر نریندر مودی جیسے انتہا پسند وزیر اعظم کیلئے تقویت کا باعث ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال پانچ اگست 2019ء کو بھارت نے ریاست جموںو کشمیر پر قبضہ قائم رکھنے کیلئے اپنے آئین سے جموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ۔ یہ صورتحال صرف پاکستان کیلئے نہیں بلکہ عالمی برادری کیلئے بھی تشویش کا باعث ہونی چاہئے۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *