بریکنگ نیوز

اب وقت آگیا ہے کہ سابقہ مصالحتی پالیسی کو تبدیل کرنے کا

جس اندازمیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخارنے مشترکہ پریس کانفرنس میں مضبوط شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ بھارت کو بے نقاب کیا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ اب بھارت کو دنیا کے ہر فورم پر ننگا اور رسواکیا جائے۔ ہماری رائے میں ہماری سول ملٹری قیادت کو اس صورتحال سے مبرا ہوکے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کوششوں کے کیا نتائج نکلتے ہیں اپنی ہر سطح پر کوشش جاری رکھیں۔ پاکستان دفتر خارجہ اور دنیا بھر میں تمام مشن اس حوالے سے ایک موقف اپنائیں اور بھارت کو بے نقاب کرنے کیلئے عالمی حمایت حاصل کرنے کیلئے بھر پور جدوجہد کریں تو ایسا ناممکن ہے کہ اس کے مثبت اثرات پاکستان کے حق میںنہ آئیں۔سول ملٹری قیادت کا اس حوالے سے ایک پیچ پر ہونا ایک اچھی اور مثبت پیشرفت ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان تین دہائیوں سے بھارتی دہشتگردی کا شکار ہے لیکن بھارت پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دلوانے ، ایف اے ٹی ایف میں بلیک لیسٹ میں شامل کرنے کیلئے ہر سطح پر امریکہ کی مدد سے مصروف نظرآیا لیکن ہماری حکومتوں کی طرف سے بھارت کے خلاف قومی اور بین الاقوامی سطح پر فوری ردعمل سامنے نہ آیا۔ اس وقت ضروت اس امر کی ہے کہ روس اور چین کو اعتماد میں لیتے ہوئے عالمی فورموں پر بھارت کو ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کرنے اور فیٹف کی بلیک لسٹ میں شامل کرانے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہیں ۔ لائن آف کنٹرو ل پر سول آبادیوں کو بھارتی دہشتگرد فوج کی طرف سے نشانہ بنانا، پاکستان کے اندر دہشتگردی کے نیٹ ورک چلانا اور مقبوضہ ریاست میں بے گناہ نہتے کشمیریوں کو ظلم کا نشانہ بنانا آئے روز بھارتی فوج کا معمول بن چکا ہے۔ اپنی سالمیت اور بقا کسی بھی ملک کی افواج کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ ہماری سالمیت اور بقاء پر بھارت آئے روز حملے کررہا ہے۔ ایسی صورتحال جو بھارت نے پیدا کررکھی ہے وہ بھر پور تقاضا کرتی ہے کہ بھارتی فوج کو کسی بھی محاذ پر قرار واقعی سزا دی جاسکے۔ اس کیلئے ضروری ہوچکا ہے کہ بھارت کی طرف سے ہماری سول آبادی اور افواج پر آئے روز کے حملوں سے ہٹ کر کسی ایک محاذ سے پاک فوج کی طرف سے بھر پور اور جاندار حملہ بھارت پر کردیا جائے تو بھارت کے ہوش ٹھکانے آسکتے ہیں۔ہماری دانست میں بھارت جیسے بزدل اور موقع پرست ملک کیلئے اس طرح کا سبق دینا ضروری ہے۔ پاک فوج گزشتہ تین دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے جبکہ بھارتی فوج سول آبادیوں کے خلاف اور ان علاقوںمیں جہاں بھارت نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے کی عوام کے خلاف پولیس کا کردار ادا کررہی ہے۔ بھارتی فوج اس وقت جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اگر روایتی جنگ ہوتی ہے تو بھارت کسی صورت پاکستان کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ امریکہ کی طرف سے نام نہاد دوستی نے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ امریکہ درپردہ چین کی دشمنی میں بھارت کو مضبوط کرتا چلا آیا اور پاکستان کو ڈومور کے چکر میں ڈالا گیا۔ آج وقت آگیا ہے کہ امریکہ کے ہر دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے صرف اور صرف اپنی سالمیت کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہونگے ۔ ماضی میں جب بھی بھارت کے خلاف پاکستان نے شواہد پیش کئے امریکہ نے سرف نظر کیا۔ دوسری طرف دبائوڈال کر پاکستان کو ایکشن کرنے سے باز رکھاگیا۔ اب اس روش کو تبدیل کرنے کا وقت آگیا۔ آج سول ملٹری قیادت نے بھارت کے خلاف پورے ثبوتوں کے ساتھ جس انداز میںبھارت کو بے نقاب کیا ہے اس سے پہلے اس انداز میں نہیں کیا گیا۔ لہذا ماضی کی مصالحانہ پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا ملک کو مضبوط کرنے کیلئے کسی بھی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہ دیا جائے ۔اپنے ملک کے داخلی اور خارجی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہونگے ۔ حکومت اور اپوزیشن کو اسی حوالے سے اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ الزام تراشی کی روش کو ترک کرکے پاکستانی ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔ پاکستان نے جب یو این اور دیگر عالمی فورموں پر پاکستان کے خلاف ڈوزیئر ثبوتوں کے ساتھ پیش کئے امریکہ نے اس پر ایکشن نہ ہونے دیا ۔ اب ضروری ہے کہ پاکستان چین اور روس کو اعتماد میں لیتے ہوئے عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ضروری اقدامات اٹھائے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جو قوم میں اپنے مفاد کی قربانی دوسرے کیلئے دیتی ہے وہ کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیںہوتی ۔ پاک فوج کی صلاحیت اور دفاعی حکمت عملی اعلی معیار کی ہے۔ بھارت کے ساتھ کسی بھی مہم جوئی یا جنگ کی صورت میں بھارت کی فوج کونشانہ عبرت بنایاجاسکتا ہے کیونکہ اگر نم ہو تو یہ مٹی ہے زرخیز ہے ساقی ۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *