بریکنگ نیوز

گلگت بلتستان انتخابات ،سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کیے جائیں

گلگت بلتستان کے الیکشن میں غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کیمطابق وفاق کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے میدان مار لیا۔ جبکہ گلگت بلتستان میں 5 سال تک حکمرانی کرنیوالی مسلم لیگ (ن)دو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکی۔ 23 نشستوں کے مکمل نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے 9 امیدوار فاتح قرار پائے ہیں۔ 7 نشستوں کیساتھ آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ پیپلزپارٹی نے چار اور پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ایم ڈبلیو ایم ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جبکہ جے یو آئی (ف)کوئی بھی نشست حاصل نہ کرسکی۔مسلم لیگ (ن)سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعلی حفیظ الرحمان اور انکے پیشرو پیپلزپارٹی کے مہدی شاہ بھی اپنے اپنے حلقے سے ہار گئے۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی فدامحمد کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج کو یکسر مسترد کر دیا ہے ۔گلگت بلتستان انتخابات کے حوالہ سے پولنگ سے کئی روز پہلے ہی ان جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات لگانے شروع کر دیے تھے بقول ان سیاسی جماعتوں کے ان انتخابات میں سائنسی انداز میں گڑ بڑ کا الزام لگایا جا رہا ہے ۔ان انتخابات کے حوالہ سے پاکستان تحریک انصاف نے بھی جوابی طور پر کہا ہے کہ انتخابات بالکل شفاف ہوئے ہیں اور تحریک انصاف کو جو بھی نشستیں حاصل ہوئی ہیں وہ جماعت کی ملک گیر مقبولیت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیںجبکہ حکومت کے اس بیانیہ کو دونوں سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ماننے سے انکارکر دیا ہے اور احتجاج کو ملک بھرمیں پھیلانے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔جہاں تک گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتحابات کا تعلق ہے ماضی کی طرح اس با ر بھی یہ روایت قائم کی گئی کی جو مرکز میں ہوتا ہے ان علاقوں میںوہی سیاسی جماعت حکومت بناتی ہے۔لہذا یہ کوئی نئی بات یا انہونی نہیں ہوئی کہ اتنا شور مچایا جائے ۔ماضی میں مرکز میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت تھی تو گلگت بلتستان میں نون لیگ بھاری اکثریت لیکر کامیاب ہوئی لیکن پیپلز پارٹی نے کوئی شور نہیں مچایا۔ اسی طرح 2009ء کے انتخابات میں مرکز میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باعث گلگت بلتستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے حکومت بنائی لیکن ن لیگ کی طرف سے کوئی احتجاج نہیںکیا گیا۔ آج کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر یکجا ہے لہذا ان انتخابات کو متنازعہ بنانے کیلئے دونوں بڑی سیاسی جماعتیں میدان میں آگئیں۔احتجاج اور اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنا سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مثبت انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ دونوں اطراف سے کسی بھی صورت میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھوکی پالیسی ترک کرنا ہوگی ۔ انتخابی عمل اور نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا جہاں تک سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور شکایات کا تعلق ہے جہاں ضرورت محسوس ہو حکومت کو خوش دلی سے آگے بڑھ کر معاملات کو یکسو کرنا چاہئے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری ہو گیا ہے کہ انتخابی سیاست کو شفاف رکھنے کے لیے ملک بھر میں وسیع سیاسی حمایت رکھنے والی ان جماعتوں کے مطالبات کو بغور دیکھاجانا چاہیے اور ان کے مطالبے کو جمہوری انداز میں تسلیم کرتے ہوئے ان کو لاحق تحفظات دور کیے جانے چاہیئںکیونکہ اس وقت ملک کسی بھی نئی سیاسی تحریک کا متحمل نہیں ہو سکتا نہ ہی سیاسی کساد بازاری ملک کے مفاد میں ہے۔وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملہ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان سیاسی جماعتوں کے تحفظات کودور کرے اور جس قدر بھی ممکن ہو سکے انتخابی نتائج کے حوالہ سے انہیں اعتماد میں لیتے ہوئے ایسا مفید حل نکالا جائے جس سے ان سیاسی جماعتوں کی تشفی ہو سکے اور ملک بھی کسی نئی سیاسی احتجاجی تحریک سے بھی بچ سکے کیونکہ اس طرح کی تحاریک کا ماضی میں بھی کوئی حل نہیں نکلا مگر اس کا نقصان جمہوریت کو ضرور ہوا۔وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ٹریک ریکارڈ بھی سیاسی جدوجہد سے بھرا پڑا ہے اور ہر معاملے میں پوری شفافیت ان کا سلوگن ہے اب جبکہ گلگت بلتستان انتخابات میں دھاندلی کا واویلہ کیا جا رہا ہے تو ضروری ہو گا کہ ان سیاسی جماعتوں کی پوری تسلی تشفی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اور ایسا ماحول پروان چڑھایا جائے جس میں تمام سیاسی جماعتیں اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں اور ملکی و قومی تری میں اپنے حصے کا کردار بھی بخوبی ادا کر سکیں۔

About Aziz

Check Also

پرامن افغانستان بلاشبہ خطے کے امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے

اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین افغان حزب وحدت اسلامی محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *