بریکنگ نیوز

کشمیریوں کا 71واںیوم حق خود ارادیت ، اور عالمی طاقتوں کی بے حسی

کشمیری عوام آج اپنا 71 وایں یوم حق خود ارادیت اس عزم کی تجدید کے ساتھ منارہے ہیں کہ بالآخر بھارت اپنے تمام گھنائونے جرائم اور مظالم کے باوجود مقبوضہ ریاست سے اپنا بوریا بستر گول کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوںکے مطابق 5جنوری 1949ء کے دن یہ حق عالمی فوری پر ملا تھا جس پرتاحال عملدرآمد نہ ہوسکا اور اس کی تمام تر ذمہ داری عالمی طاقتوں خاص طور پرامریکہ پرآتی ہے۔ اس قرار داد میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے 13اگست 1948ء کی قرار داد کے تحت ریاست جموںو کشمیر میں رائے شماری ایڈمنسٹریٹر کا اوررائے شماری کو منعقد کرانے کا اہتمام کرنا تھا ۔ آج کشمیریوں کے حق خود ارایت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی اس قرر دادکو منظور کئے جانے کے 71سال مکمل ہوچکے ہیں ۔ لیکن اقوام متحدہ کا ادارہ امریکہ کی دوہری اور دوغلی پالیسی کے باعث کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے اپنی ہی منظور شدہ قرار اددوں پر عملدر آمد کرانے میں بے بس اور ناکام نظر آتا ہے۔کشمیریوں کا حق خود ارادیت ایک بین الاقوامی مسلمہ حقیقت ہے اور اس حق کیلئے کشمیریوںنے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ان قربانیوں کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔ 5اگست 2019کے دن بھارت نے کشمیریوںکے حقوق پر ایک بار پھر ڈاکہ ڈالتے ہوئے اپنے ہی آئین میں مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو دی گئی قانونی حیثیت کو ختم کردیا تاکہ وہ ریاست پر اپنا جبری تسلط نہ صرف برقرار رکھے بلکہ مستقل بنیادوں پر اسے بھارتی یونین کا حصہ بناسکے۔ بھارت کے اس غیر قانونی ، غیر اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی اس قرار داد کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ بھارت نے یہ اقدام تو کردیا لیکن دنیا کی پوری توجہ مقبوضہ کشمیر کے حالات اور وہاں پر 520دنوں سے جاری بنیادی حقوق کی بندش اور لاک ڈائون پر مرکوز ہے۔اس میںکوئی دورائے نہیں کہ بھارت کا مکروہ اور بدنما چہرہ عالمی برادری کے سامنے ایک بارپھر مکمل طور پر بے نقاب ہوچکا ہے۔ بھارت نے اپنے تابوت میں آخری کیل بھارت کے اندر شہریت کے قانون میں تبدیلی کرکے ٹھونک دی۔ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں صورتحال گھمبیر ہے تو دوسری طرف بھارت کے اندر مختلف علاقوں، ریاستوں میں احتجاج اور کشیدہ صورتحال میں دن بہ دن اضافہ نظر آرہا ہے۔ یہاں عالمی قوتوں خاص طور پر امریکہ کا دہرا معیار اور منافقت سامنے آرہی ہے۔ امریکہ کشمیر سے متعلق قرار اداد پر عملدرآمد کو رکوانے کیلئے بھارت کی محبت میں پہلے سے زیادہ متحرک ہے لیکن ٹرمپ مودی گٹھ جوڑ جب نہیں رہے گا تو حالات کس کروٹ بدلیں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ہماری دانست میں امریکہ ہی وہ واحد عالمی طاقت ہے جس کا اس وقت اقوام متحدہ کے ادارے پر مکمل تسلط ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان سابقہ سرد جنگ کے دوران جب بھی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہوتارہا تو روس اس قرار داد کو ویٹو کردیتا تھا اور امریکہ اپنا پہلو بچاکر یہ تاثر دیتا تھا کہ روس اس مسئلہ کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن حالات نے واضح کردیا ہے اور بلی بھی تھیلے سے باہر نکل آئی ہے اب جب کہ امریکہ کا اصل چہرہ اقوام عالم کے سامنے آگیا ہے ۔ یہ بات بھی اب واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کی خاطر دنیا کے کسی خطے یا پوری دنیا کا امن دائو پر لگاسکتاہے۔ بھارت اور اسرائیل کو امریکہ نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ کشمیر اور فلسطین میں ظلم و ستم کا بازار گرم رکھیں۔
دوسری طرف لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پربھارت کی طر ف سے بلااشتعال اور بلا امتیاز فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے ان علاقوں میںبسنے والے آزاد کشمیر کے شہریوں کو نشانہ بنایاجاتا ہے لیکن انسانی حقوق کا نام نہاد علمبردار ملک امریکہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ۔ ایک طرف امریکہ اپنی خرمستیوںمیں مصروف مسلمانوں کو نشانہ بنارہا ہے تو دوسری طرف بھارت بھی کشمیری مسلمانوں اور بھارت کے اندر رہنے والے مسلمانوں اور اقلیتوں کی زندگی کو اجیرن بنارہا ہے۔ بھارت عالمی توجہ کشمیر سے ہٹانے کیلئے پاکستان کے اندر دہشتگردی کے واقعات کررہا ہے ۔ آئے روز پاک فوج اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں پر حملے ہورہے ہیں اور اسی طرح بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہے۔ کشمیریوں کوحق خود ارادیت اور آزادی دلانے میں پاکستان ہی ایک واحد ملک ہے جو بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے للکار رہا ہے لیکن ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان نہ صرف اس خطے کے امن بلکہ کشمیریوں کی آزادی کی ضمانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں کوئی ایسا موقع جانے نہیں دیتے جس سے وطن عزیز کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔

About Aziz

Check Also

آرمی چیف کا دورہ قطر انتہائی اہمیت کا حامل ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کا حالیہ دو روزہ قطر بلاشبہ انتہائی اہمیت کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *