بریکنگ نیوز

اساتذہ کے جائز مطالبات کو تسلیم کیاجانا چاہئے ، پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج اور تشدد کسی صورت جائز نہیں

اگلے روز آزادکشمیر سکول ٹیچرز آرگنائزیشن نے حکومت آزادکشمیر کو 24گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ 9برس سے زیر التواء تسلیم شدہ مطالبات پورے کئے جائیں اور گرفتار شدہ اساتذہ کو فوری رہا نہ کیا گیا توریاست گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی ۔آزاد کشمیر کے اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ انہیں پاکستان کے 4صوبوں اور گلگت بلتستان کے برابر سکیل دیئے جائیں ۔بدھ کے روز مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزادکشمیر سکول ٹیچرز آرگنائزیشن کے رہنمائوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مطالبات کو پورا کیا جائے ۔ ہماری رائے میں اساتذہ معاشرے ایک قابل احترام ، باوقار اور باعزت طبقہ ہوتا ہے۔ یہ اساتذہ ہی ہوتے ہیں جو کسی بھی ملک میں بڑے بڑے سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر ، سیاستدان تیار کرتے ہیں ۔ اساتذہ کو دنیا کے ہر معاشرے میں ایک اہم اور باعزت مقام دیا جاتا ہے۔ جہاں تک دین اسلام کا تعلق ہے اسلام استاد کو انتہائی اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ قابل احترام ہستی قرار دیتا ہے۔ والدین کے بعد اساتذہ ہی ایک فرد کیلئے اہم ہستی ہوتے ہیں۔ لیکن مقام افسوس ہے ہمارے معاشرے میںاساتذہ کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ متحمل اور اہل تھے۔ اس سے قطعہ نظر کہ بعض کمزوریاں اور برائیاں اساتذہ میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن بہرحال اساتذہ کا احترام ہمیشہ ملحوظ خاطر رہنا چاہئے۔ پرامن احتجاج اور اپنے حق کیلئے بات کرنا معاشرے اور طبقے کے ہر مکتبہ فکر کا بنیادی حق ہے اور اگر کسی بھی شعبے میں لوگوں کی حق تلفی ہورہی ہو اور وہ اپنے جائزہ مطالبات کیلئے حکومت اور اداروں سے مطالبات کرتے ہوں تو ان مطالبات کو زیر غور لانا اور جس قدر ممکن ہو جائز مطالبات کو تسلیم کرنا حکومت کیلئے ضروری ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومتوں کے اپنے مسائل اور مالی معاملات ہوتے ہیں لیکن جائز مطالبات کو بہرحال ہرصورت پذیرائی دینی چاہئے۔ ہماری رائے میں آزاد کشمیر کے اساتذہ کا یہ مطالبہ بالکل جائز اور مبنی برحق ہے کہ انہیں پاکستان کے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے برابر سکیل اور مراعات دی جائیں ۔ آزاد کشمیر کے اساتذہ کو اس حوالے سے وطن عزیز کے دیگر صوبوں کے برابر مراعات سے محروم رکھنابلاشبہ زیادتی ہے اس کا فوری تدارک کیاجانا ضروری ہے ۔ اساتذہ ملک کے کسی بھی خطے یا صوبے سے تعلق رکھتے ہوں ان کا بنیادی کام بچوں کو تعلیم و تربیت ہے ۔ جہاں تک معیار تعلیم کا تعلق ہے آزاد کشمیر میں شرح خواندگی پورے ملک کے دیگر صوبوں سے بہت بہتر ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں اساتذہ کو مراعات اور ملک کے دیگر حصوںکے برابر سکیل دیئے جائیں گے تو یہ ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ نظام تعلیم میں مزید بہتری لانے کا سبب بنے گا۔ لہذا اساتذہ پر پولیس کی طرف سے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور تشدد کا استعمال کسی بھی صورت مثبت قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ جہاںتک امن قائم کرنے اور نظم کو برقرار رکھنے کا تعلق ہے بلاشبہ یہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن پرامن احتجاج پر تشدد کا استعمال کسی صورت بھی جائزہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس وقت تک لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال نہیںہونا چاہئے جب تک احتجاج کرنے والے خواہ وہ کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں اور وہ امن عامہ کو اپنے ہاتھ میں لیں اور تشدد کا راستہ اختیار کریں۔ لیکن پرامن احتجاج پر تشدد ایک اچھی روش نہیں۔ جیسا کہ اساتذہ رہنمائوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اپنے تسلیم شدہ حقوق کی خاطرعلی اکبراعوان گورنمنٹ ہائی سکول اپرچھتر میں جمع تھے اور قیادت نے ڈپٹی کمشنر مظفرآباد سے طے شدہ نکات کے مطابق پرامن احتجاج شروع کیا مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر انتظامیہ نے لاٹھی چارج ،پتھرائو اور بے دریغ آنسوگیس کا عمل شروع کر دیا ،جس کی وجہ سے سینکڑوں نہتے اور پرامن اساتذہ شدید زخمی ہوئے ۔اگر اساتذہ رہنمائوں کا کہنا درست ہے تو پھر حکومت خاص طور پر وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان بذات خود تحقیقات کرائیں کہ آخر کار اساتذہ پر تشدد کیو ں کیا گیا اور اس کے پیچھے کیا محرکات تھے تاکہ اصل صورتحال سامنے آئے۔

About Aziz

Check Also

آرمی چیف کا دورہ قطر انتہائی اہمیت کا حامل ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کا حالیہ دو روزہ قطر بلاشبہ انتہائی اہمیت کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *