بریکنگ نیوز

مسئلہ کشمیر کے حل کو یقینی بنانے کیلئے عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا

ہفتہ وار بریفننگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کے لیے خطے میں بدامنی پھیلارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے بھارتی تخریب کاری کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو جیل بنادیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے، بھارتی افواج کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ ترجمان خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کی آواز ہر فارم پر اٹھاتے ہیں، ہر بارعالمی برادری سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ دہراتے ہیں۔ ہماری دانست میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا بالکل درست ہے کہ بھارت اپنے اندرونی انتشار اورناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور اپنی قوم اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے خطے میں جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے ۔ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حکومت پاکستان کی طرف سے خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان نے موثر انداز میں کشمیریوں کے حقوق کی ترجمانی کی ہے۔ یہ ایک مثبت پیشرفت ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث نہیں آیا تھا لیکن موجودہ حکومت کی کوششوں اور وزیر اعظم کی عالمی سطح پر موثر انداز میں کشمیریوں کی ترجمانی کرنے پر مسئلہ کشمیر گزشتہ دو سالوںمیں کئی بار سیکورٹی کونسل میں زیر بحث آیا۔ بھارت نے اپنے غیر قانونی قبضے کو دوائم دینے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کی کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی کے بجائے دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ بنا کر پیش کیا جائے ۔ شملہ معاہدے کی آڑ میں بھارت نے عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے دور رکھنے اور گمراہ کرنے کی غرض سے حتی الامکان کوشش کی کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کہ اس اہم مسئلے کو جس پر اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی کئی قرار دادیں منظور کی جاچکی ہیں اور عالمی برادری کے اس سب سے بڑے فورم پر بھارت کی قیادت نے ریاست جموں و کشمیر میں رائے شماری کرانے کا وعدہ کررکھا ہے ۔ لیکن وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ بھارت کی نیت میں فتور آگیا اور وہ مقبوضہ ریاست پر اپنے قبضے کو قائم رکھنے کیلئے ریاست میں فوج کی نفری اور فوجی طاقت میں اضافہ کرتا گیا۔ گزشتہ سات دہائیوں سے بالعموم اور تین دہائیوں سے بالخصوص بھارتی فوج نے کشمیریوں کا جینا اجیرن کررکھا ہے۔ 5اگست 2019ء کو بھارت بدنیتی اور کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش دنیا کے سامنے آشکار ہوئی جب بھارت نے اپنے آئین سے کشمیر کی خصوصی اور عالمی سطح تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کے حوالے سے موجود دفعہ 370اور35-A کو حذف کرلیا اور کشمیر کو غیر قانونی طور بھارت کا حصہ قرار دیا۔ 522 دنوں سے جاری لاک ڈائون کی صورتحال برقرار ہے ۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ تیز کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوںنے 9لاکھ بھارتی فوج کے آگے سرنگوں نہیں کیا اور وہ اپنے حق کیلئے جہد مسلسل میں مصروف ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیںکہ وزیراعظم عمران خان نے کا اقوام متحدہ کے74 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 27 ستمبر2019 ء کو خطاب کرتے ہوئے پوری قوم بالخصوص کشمیریوں کے جذبات کی مکمل عکاسی کی تھی ۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میںجہاں کشمیر کی بات کی وہاں دنیا میں اسلام سے متعلق پائے جانے والے ابہام اور غلط خیالات کو بھی دلائل کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے پیش کرکے ایک قومی لیڈر ہونے کا حق ادا کیا۔ بھارت کے نام نہاد جمہوریت ، سیکولرازم اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مکروہ عزائم اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو بھی بے باک انداز میں عالمی برداری کے سامنے بے نقاب کردیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور اس کے نہ حل ہونے کی صورت میں مضمرات ،خطے اور عالمی امن کیلئے خطرات کا دلائل کے ساتھ احاطہ کیا ۔ان کا یہ کہنا کہ اقوام متحدہ میںآنے کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بتانا ہے کہ وہاں کیا ہو رہاہے، ہماری دانست میںعمران خان وہ پہلے پاکستانی رہنما ہیں جنہوںنے عالمی سطح پر خاص طور پر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر نہ صرف پاکستان کی حقیقی تصویر پیش کرنے کی بھرپور انداز میں کوشش کی بلکہ مسئلہ کشمیر اور اسکی وجہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال اور مودی حکومت کے اس خطے میں بڑے پیمانے پر توسیع پسندانہ عزائم کی قلعی عالمی برادری کے سامنے کھول کر نہ صرف دنیا کے بڑے ممالک بلکہ ہر رکن ملک کو دعوت دے دی کہ وہ مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے بھارت پر دبائو ڈالیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے۔ اگلے روز ایک ترک ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبار کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی اور نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی کشمیر کے حوالے سے پالیسی کیا ہوگی اسی تناظر میں معاملات آگے بڑھیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد خود کو کشمیر کا سفیر قرار دیا تھا اور یہ عہد کیا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر کشمیریوںکے حق خود ارادیت کی تحریک کو موثر انداز میں پیش کرکے عالمی برادری کو حقائق سے آگاہ رکھیں گے۔ بلاشبہ وزیر اعظم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے خلوص دل سے کوششوں میں مصروف ہیں ۔ امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کی جانے والی پیشرفت پر وزیر اعظم پوری پاکستانی اور کشمیری قوم کو اعتماد میںلیں گے کیونکہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کشمیری مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں اور پاکستان اس مسئلے کا عالمی وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم فریق بھی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے گیند عالمی برادری کے کورٹ میں پھینک دی ہے دوسری طرف بھارتی ظلم و ستم اور مودی حکومت کی مکارانہ پالیسی کے باوجود کشمیری اپنے حق پر قائم ہیں۔ اب یہ سپر پاور امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں بشمول روس ، چین ، فرانس اور برطانیہ کے علاوہ اقوام متحدہ کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اس کے حل کیلئے سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھیں تاکہ نہ صرف یہ خطہ بلکہ عالمی امن کسی بڑے تصادم کی نظر نہ ہوجائے۔

About Aziz

Check Also

آرمی چیف کا دورہ قطر انتہائی اہمیت کا حامل ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کا حالیہ دو روزہ قطر بلاشبہ انتہائی اہمیت کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *