بریکنگ نیوز

برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حقوق کیلئے آواز بلند ہونا ایک مثبت پیشرفت ہے

برطانویپارلیمنٹ میں کشمیریوں کی حمایت میں آواز کا بلند ہونا بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ برطانیہ میں اس طرح پر کبھی بھی بھارت کے خلاف اس انداز میں بات نہیں کی جاتی تھی جو صورتحال آج پیدا ہوچکی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حق کیلئے آواز اٹھانا پاکستان اور کشمیریوں کیلئے بہت بڑی کامیابی اور یہ بھارت کی سفارتی ناکامی قرار دی جاسکتی ہے ۔ بلاشبہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں کے تحت عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے لیکن بڑی قوتوںکے مفادات کے باعث تہتر سال گزرنے کے بعد بھی اس مسئلے کا پائیدار ، منصفانہ اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ممکن نہ ہوسکا۔ بنیادی طور پر مسئلہ کشمیر برطانیہ کاپیداکردہ ہے کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانوی سامراج جاتے ہوئے اس خطے میں کشمیر کو ایک ناسور بناکر چھوڑ گئے۔ جس کا خمیازہ آج تک دونوں ملکوںکے عوام مخاصمت اور جنگوں کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کی اور وہ اپنے مذموم عزائم کیلئے خطے اور امن کو تہہ وبالا کرنے پر ہمیشہ تلا بیٹھا ہوا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے برطانیہ نے ایک ایسی پالیسی اختیار کررکھی تھی جس کا فائدہ ہمیشہ بھارت کو پہنچا۔ یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ برطانیہ کے وزیر انصاف رابرٹ بکلینڈ نے جموں وکشمیر کی سیاسی صورتحال پر مباحثے میں ارکان پارلیمنٹ کے سوالوں کا جواب میں بھارت پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے پابندیاں ہٹائے، صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے برطانوی ہائی کمیشن کی ٹیم کو دورہ کرنے کی اجازت دے۔کیونکہ دنیا جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم پر مصلحتاً خاموش نظر آتی تھی اب وہ خاموشی ٹوٹ چکی ہے اور سویا ہوا عالمی ضمیر جاگ اٹھا ہے ۔برطانیہ اور یورپ میں کشمیریوں کیلئے حمایت میں اضافہ مودی حکومت کی پانچ اگست 2019ء کے دن کی گئی غیر قانونی اور غیر اخلاقی کارروائی کے باعث ہوا ہے ۔بھارتی حکومت نے گزشتہ دو سال کو ہونے کو ہیں مقبوضہ جموںو کشمیر میں شروع میں کئی ماہ تک کرفیو رکھا اور یہ ایک تاریخ ہے کہ نو لاکھ قابض سفاک بھارتی فوج کشمیریوں کی حق خود ارادیت کیلئے اٹھائی جانے والی آواز کو خاموش کرنے کیلئے گزشتہ سات دہائیوں سے بالعموم اور تین دہائیوں سے بالخصوص بے پناہ مظالم کررہی ہے۔ کشمیر پر عالمی ضمیر جو سویا ہوا تھا اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر کشمیریوں کے خون ناحق اور مودی حکومت کی شدت پسند اور ظالمانہ کارروائیوں کے باعث دنیاکی سوچ میں ایک تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ جہاں تک برطانوی پارلیمنٹ کا تعلق ہے اسے عالمی سطح پر جمہوریت کی ماں اور بڑی جمہوریت سے جانا جاتا ہے اس پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حقوق کے لئے آواز بلند ہونا ایک بہت بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے۔ برطانیہ پارلیمنٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے لیبر پارٹی کی سارا اوون نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا لاک ڈان عوام کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ جبری تسلط کے لیے ہے، بھارتی فوجیوں نے لوگوں کو قید کر رکھا ہے، انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں مشاہدے میں آئی ہیں،کشمیریوں کو اسپتالوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے، بھارتی فوجی عورتوں کو ہراساں اور ان کی عصمت پر حملے کر رہے ہیں، برطانیہ نے خواتین کے تحفظ کی ہمیشہ بات کی، بر طانوی پارلیمنٹ سے سوال کرتے ہوئے سارا اوون کا کہنا تھا کہ کیامقبوضہ کشمیر کے حوالے سے برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات ان کے اقدامات سے مطابقت رکھتے ہیں؟ ۔ برطانوی پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار پر پابندی ہے، نریندر مودی کے خلاف بات کرنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ہماری رائے میں عالمی سطح پر اور خاص طور پر برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حق کیلئے آواز بلند ہونا بلاشبہ ایک مثبت پیشرفت ہے اور آنے والے وقت میں عالمی سطح پر اس حمایت میں مزید اضافہ ہوگا اور انشاء اللہ کشمیری عوام آزادی کا سورج ضرور دیکھے گی۔

About Aziz

Check Also

آرمی چیف کا دورہ قطر انتہائی اہمیت کا حامل ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کا حالیہ دو روزہ قطر بلاشبہ انتہائی اہمیت کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *