بریکنگ نیوز

تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ درست لیکن کوروناوائرس سے نجات ایس او پیز پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے

گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میںمہلک وبا کوروناوائرس کے مزید58مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے کل مریضوں کی تعداد11055تک پہنچ گئی ۔اس دوران ملک میں کوروناوائرس کے 1800نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں اب تک رپورٹ ہونے والے کوروناوائرس کیسز کی تعدادپانچ لاکھ 23ہزار11تک پہنچ گئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی)کی جانب سے منگل کے روز ملک میں کوروناوائرس کی صورتحال کے حوالہ سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کوروناوائرس کے چار لاکھ 76ہزار471مریض مکمل طور رپر صحت یاب ہو چکے ہیںاور2341مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ہماری رائے میں کورونا وائر س وباء نہ صرف وطن عزیز پاکستان بلکہ پوری دنیا کے ہر خطے میں سراعت کرچکی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر معاشی کساد بازاری اور مختلف ملکوںکی معیشت جن میں اکثر ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی اس دوسری لہر کے دوران معاشی سرگرمیاں گزشتہ پہلی لہر کی نسبت بہتر انداز میںجاری ہیں لیکن ہمیں اس حقیقت کا ادراک ضرور کرنا ہوگا کہ یہ مہلک مرض اپنی جگہ موجود ہے اور یہ وائرس پھیلنے میں ذرا دیر نہیں لگاتا۔ لہذا احتیاطی تدابیر حکومت اور اداروں کی طرف سے ایس او پیز پر عملدر آمد کویقینی بنانے میں ہی عافیت ہے ۔اس دفعہ سمارٹ لاک ڈائون اور مکمل لاک ڈائون کی کیفیت نہ ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بدستور رواں دواں ہیں ۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر لوگ ماسک پہننے ، سینٹائزر کے استعمال اور دیگر احتیاطی تدابیر کو یکسر نظر انداز کرتے پائے جاتے ہیں۔ اکثر لوگوں کی یہ رائے ہوتی ہے کہ کورونا کوئی وباء نہیں لہذا ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہماری رائے میں ایسے لوگ سراسر غلطی پر ہیں اور ان کو اپنی سوچ کا دائرہ تبدیل کرکے مثبت سوچ اختیارکرنی ہوگی ۔اب جبکہ وفاقی حکومت نے سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور 18جنوری سے نویں سے بارہویں جماعت تک کے سکول کالجز کھل چکے ہیں جبکہ چھوٹے بچوں کے سکول اور یونیورسٹیاں یکم فروری سے تعلیم کا دوبارہ باقاعدہ آغاز کرنے جارہی ہیں ۔ بلا شبہ یہ حکومت کا اچھا فیصلہ ہے کیونکہ بچے اور طلباء پاکستان کا مستقبل ہیں ۔ ایک سال ہونے کو ہے کہ بچوں کی تعلیم کا حرج ہورہا ہے ۔ اس حقیقت کے باوجود کہ آن لائن کلاسز کا نظام تعلیم بدستور جاری رہا لیکن اس کے باوجود جب تک سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں باقاعدہ فعال ہوکر طلباء کو تدریسی عمل شروع نہیں کرتیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیںہوسکتے۔ لہذا حکومت کا یہ فیصلہ بالکل درست سمت ہے لیکن ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرانا سکول انتظامیہ اور اساتذہ کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ جہاںتک نجی سکولوں اور تعلیمی اداروں کا تعلق ہے ان اداروںمیں ایس او پیز پرعملدر آمد کافی حد تک بہتر انداز میں یقینی بنایا جاتا ہے البتہ سرکاری سکولوںاور تعلیمی اداروںمیں غفلت کا پہلودیکھنے میں آتا ہے۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے بہتر مانیٹرنگ کا انتظام یقینی بناکر سرکاری سکولوںکی انتظامیہ کو پابند بناسکتے ہیں کہ وہ احتیاطی تدابیر پر ہر صورت عملدرآمد کریں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملکی معیشت پر کوروناوائرس کی وباء کے باعث منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر وطن عزیز پاکستان بیرونی قرضوں کے بوجھ اور ملک کے اندر ٹیکس کی وصولیوںکے ہدف کو پورا نہ کرنے کے باعث مالی بحران سے دوچار ہے ۔ ایسے میں معاشی سرگرمیوں کا محدود ہونا اور خدانہ نخواستہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث مزید پیچیدگی اور معاشی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

About Aziz

Check Also

آرمی چیف کا دورہ قطر انتہائی اہمیت کا حامل ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کا حالیہ دو روزہ قطر بلاشبہ انتہائی اہمیت کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *