بریکنگ نیوز

آرمی چیف کا دورہ قطر انتہائی اہمیت کا حامل ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کا حالیہ دو روزہ قطر بلاشبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کار میں مزید قربت اور بہتری آئے گی وہاں خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں بھی معاملات یکسو ہونگے۔آرمی چیف کا یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ آرمی چیف نے اپنے اس دورے کے دوران نہ صرف قطر کی ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آئوٹ پریڈ میں شرکت کی اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں بلکہ قطر کی اعلیٰ حکومتی قیادت جن میں امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے علاوہ ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر دفاع سے بھی ملاقاتیں کیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوںکی طرف سے قطر کے ساتھ تعلقات کار میں انقطاع کے دوران پاکستان نے قطر کو تنہا نہیں چھوڑا جس کے باعث پہلے سے قائم تعلقات اور رشتوں میں مزید مضبوطی آنا ایک فطری عمل ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ قطر کے تعلقات میں سرد مہری کے باعث مشرق وسطی میں ایک دبائو اور کچھائو کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی ۔ سعودی عرب اور امارات کی حکومت کی طرف سے پاکستان پر بھی دبائو تھا کہ وہ قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کریں لیکن پاکستان نے قطر کے ساتھ نہ صرف تعلقات بحال رکھے بلکہ قطر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی جاری رکھی۔ بلاشبہ پاکستان نے مشکل کی گھڑی میں گزشتہ برسوں کے دوران قطر کا اچھی طرح ساتھ دیا اور دبائوکے باوجود پاکستان نے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع نہیںکئے اور اب تین سال کے بعد سعودی عرب اور عرب امارات کی حکومتوں نے از خود ہی قطر کے ساتھ تمام تعلقات بحال کردیئے ہیں جو ایک اچھی اور مثبت پیشرفت ہے۔ اس سے مشرق وسطی میں بہتری اور ترقی کی راہیں ہموار ہونگی۔سپہ سالار پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ کا حالیہ دورہ بھی ان تعلقات اور فوجی تعاون کے علاوہ دیگرباہمی منصوبوں میں بہتری کا باعث بنے گا ۔ قطر پاکستان کی ترقی میں خاص دلچسپی لے رہا ہے اس حوالے سے پاکستان کے پانچ بین الاقوامی ائرپورٹس کو جدید خطوط پر استوار کرنے انہیں ہر طرح کی سہولتوںسے مزئین کرنے کی پیشکش کرچکا ہے۔ قطر نے سوا سال پہلے پاکستان کو فارن ریزوز میں ڈپیازٹ کرنے کیلئے تین ارب ڈالر منصوبے پر دستخط کئے تھے ۔ جہاں تک سعودی عرب اور عرب امارا ت کی طرف سے پاکستان پر دبائو بڑھانے ، قرضے کی واپسی اور محنت کش مزدوروں کو واپس بھیجنے کا معاملہ تھا قطر نے ایسی کسی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے مزدوروں کو قطر میں ویزا دینے کی حامی بھی بھری ہے۔ پاکستان اور قطر کے درمیان موجود پاک قطر جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کو حتمی شکل نومبر 2019ء میں دے دی گئی تھی ۔ اس گروپ کے تحت دونوںملکوں کے درمیان متعدد ترقیاتی اورتعاون کے منصوبے منظر عام پر آئیں گے جو پاکستان کی ترقی میں ممدو معاون ثابت ہونگے۔ قطر اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے ادوار دوحہ قطر میںمنعقد ہوئے۔ قطر ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں سب سے پہلے افغان طالبان کا بین الاقوامی دفتر قائم ہوا جسے امریکہ نے بھی تسلیم کیا۔ قطر کے ساتھ پاکستان کے مضبوط اور اچھے تعلقات ہیں ۔ دونوںملکوں کے درمیان این ایل جی گیس اور دیگر کئی مصنوعات کی درآمدات اور برآمدات کے معاہدے موجود ہیں جو مستقبل میں مزید بہتری کا باعث بنیں گے۔

About Aziz

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *