بریکنگ نیوز

کشمیریوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے پاکستان کی کوششیں

اگلے روز صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لیے دنیا کا ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور تنازعہ کشمیر کو حقیقی تناظر میں بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششوں کو دوام دیئے جانے کی ضرورت ہے ۔اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں اہم حکومتی و پارلیمانی شخصیات نے جامع اور مفصل گفتگو میں اس پر روشنی ڈالتے ہوئے معقول تجاویز بھی پیش کیں۔اس میں شک نہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے اہم کردار و عمل کی اشد ضرورت ہے مگر ضروری ہو گا کہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اس پہلو میں ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کا اختیار کیا جانا اشد ضروری ہے اور ایک ایسے موقع پر جب یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ بھارت کشمیر کے معاملہ پر ڈبل گیم کے چکر میں ہے وہ کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے جس کی وجہ سے مسئلہ کے حل میں کی جانے والی سنجیدہ کوششوں کو زک پہنچتی ہے اور بات وہیں پر آن کھڑی ہوتی ہے جہاں سے چلی تھی۔صدر آزاد کشمیر دنیا کے ہر دروازے کی بات کی ہے تو انہیں اس بات کا بھی بخوبی ادراک ہو گا کہ اس حوالہ سے سنجیدگی سے دروازے تلاش نہیں کیے گئے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک بڑا دروازہ ثابت ہو سکتی ہے مگر اس دروازے پر سفارتی دستک دینے کا انداز سمجھ سے باہر ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ تہتر سالوں سے گنجلک ہی بنتا چلا گیا ہے اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دروازہ مسئلہ کی حساسیت اور اہمیت کے تناظر میں کھٹکھٹایا جاتا تو یقینی طور پر کشمیریوں کے لیے اس قدر سہولت حاصل کی جا سکتی تھی جس کی مدد سے ان کی زندگیوں کو آسان بنانے اور بھارت کی قہر ناک روش سے بچانے کی سعی کی جا سکتی تھی ہوا یہ کہ پاکستان کی تمام سابقہ حکومتوں نے سفارتی میدان میں ضرورت کے مطابق اقدامات نہیں اٹھائے اس کے برعکس بھارتی لابیوں نے ایک جامع حکمت عملی کے تحت اس معاملے کو کامیابی سے کائونٹر کیا جس کا نقصان ہمیں عالمی برادری کی حمایت کی عدم فراہمی کی صورت میں اٹھانا پرا ہے اب جبکہ سنجیدگی سے اس جانب توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تو ضروری ہو گا کہ سابقہ تجربات کو مد نظر رکھا جائے اور ان عوامل سے گریز کیا جائے جس کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا ۔عالمی برادری کو متحرک کرنے اور مسئلہ کشمیر کو انسانی بنیادوں پر حل کروانے کے لیے نئے سرے سے پالیسیوں کا اجراء کرنے کی اشد ضرورت ہے اس حوالہ سے ماہر سفارت کاروں کو کام میں لایا جا سکتا ہے دفتر خارجہ نے اپنی سی کوششیں جاری رکھی ہیں مگر ان کوششوں کو فائدہ مند بنانے کے لیے سفارت کاری کو پوری طرح استعمال میں نہیں لایا گیا ۔ایسے میں جب حکومت عالمی برادری سے اچھے تعلقات کی دعوے دار ہے تو ضروری ہو گا کہ ان تعلقات کو استعمال میں لایا جائے تا کہ مسئلہ کشمیر کے پروقار حل کی جانب چلا جا سکے اور بھارت کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ اس مسئلہ کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے میں سنجیدگی کا عنصر نمایاں کرے تا کہ امن کے قیام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کیا جا سکے۔ہماری رائے میں موجودہ حالات کے تناظر میں جب عالمی سطح پر بھارت دبائو کا شکار ہے اور خطے میں بھی اس کی پوزیشن نریندر مودی کی شدت پسند پالیسیوں کے باعث کافی کمزور ہوچکی ہے لہذا ضروری ہوگا کہ دفتر خارجہ بھارت پر دبائو بڑھانے کیلئے موثر اور مضبوط پالیسی وضع کرے اور دنیا کے اہم ملکوںمیں موجود سفارتکاروں کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا جائے تاکہ عالمی سطح پر ہر دروازہ پر دستک دینے کے مثبت نتائج سامنے آئیں اور قضیہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہوسکے۔

About Aziz

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *