بریکنگ نیوز

مسئلہ کشمیر کا حل سہ فریقی مذاکرات میں ہی مضمر ہے

گزشتہ روزوزیر اعظم کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ مذاکرات کشمیریوں کیلئے زہر قاتل ہیں،سہہ فریقی مذاکرات ہونے چاہیں،اصل فریق کشمیری ہیں جنہوں نے اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ٹیولپ گارڈن کی طرز پر دارالحکومت مظفرآباد میں بنائے گئے ٹیولپ گارڈن جلال آباد میں’ ٹیولپ فیسٹیول’ کے افتتاح کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کو گل لالہ بنانے کے لیے وہاں کے غیور لوگوں نے اپنا خون دیا ،عصمتیں لٹائیں ،یہ پھول ان کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتے ہیں اور ہمارے عزم کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ ہماری رائے میں وزیر اعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر خان کا یہ استدالال درست ہے کہ کشمیری ہی مسئلہ کے بنیادی فریق ہیں اور اس مسئلے کا حل انہوںنے ہی استصواب رائے میں اپنا حق استعمال کرکے کرنا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جب تک کشمیریوں کو اعتماد میںلے کر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع نہیںکیا جاتا اور بالآخر کشمیریوں کو بھی ان مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا وہ مذاکرات بے نتیجہ اور بے مقصد ثابت ہونگے۔ بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہمارے سامنے ہے ۔ بھارت جب بھی عالمی دبائو میں آتا ہے یا دنیا کو گمراہ کرنے اور دھوکہ دینے کیلئے بھارت پینترا بدلتا ہے تو وہ مذاکرات کی بات کرتا ہے۔پانچ فروری یوم یکجہتی کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی تاکہ مسئلہ کشمیر پرامن ذرائع ، خوش اسلوبی اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہوسکے اور بالآخر کشمیری آزادی کے ساتھ سکھ کا سانس لے سکیں۔لیکن بھارت اس وقت تک مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا جب تک اس پر عالمی دبائو نہیں ہوگا ۔بھارت عالمی برادری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گا کہ وہ امن کی خاطر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ گزشتہ ادوار میں بھارت کے ساتھ جتنے بھی مذاکرات ہوئے وہ سب بھارت کی ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کی رٹ کے باعث بے نتیجہ ثابت ہوئے ۔ اب جب کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر 2003کے سیز فائر معاہدے پر از سر نوعمل درآمد شروع ہوگیا ہے یہ ایک مثبت پیشرفت ہے کہ آزاد کشمیر کے شہری کم سے کم بھارتی فوج کی سفاکی اور دہشتگردی سے محفوظ رہیں گے کیونکہ کوئی ایسا دن ہی گزرتا تھا جب آزاد کشمیر کے کسی سیکٹر میںبھارت نے بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری نہ کی ہو۔ ایک طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست 2019ء کے غیر قانونی اقدام کے بعد ظلم و ستم میں اضافہ کرتا چلا آیا ہے دوسری طرف وہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھا کر جنگی جنون کا ارتکاب کرتا رہا۔ اب عالمی دبائو کے باعث بھارت نے سیز فائر پر اکتفا کیا لیکن بھارت کا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ بھارت کسی طور بھی مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف نہیں آئے گا ۔ وہ سیٹس کو کو برقرار رکھنا چاہتاہے تاکہ مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر پر اس کا غیر قانونی اور غیر اخلاقی قبضہ قائم رہے۔ دفعہ 370 اور 35-A کے خاتمہ کے بعد بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی شہریوں کو آباد کرکے ایک طویل المدتی پالیسی کے تحت آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتاہے تاکہ ضرورت پڑھنے پر وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت رائے شماری کیلئے تیار ہوجائے۔ گزشتہ 74سال میں بھارت نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت وقت گزار لیا اور وہ مزید کئی سال گزارنے کے بعد مقبوضہ ریاست میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے بالآخر رائے شماری کیلئے تیار ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بھارت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ کشمیری کسی صورت بھی بھارت کی بالا دستی کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں اسی لئے آج تک لاکھوں کشمیریوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دیکر اس تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا یہ کہنا بھی بالکل درست اور حقائق پر مبنی ہے کہ کشمیری بھارتی ظلم کے پنجے میں جکڑے ہوئے ہیںاوروہ وقت دور نہیں کہ کشمیریوں کا لہو ہندوستان کی تباہی کا سبب بنے گا اور مقبوضہ کشمیر سے ہندوستان کے ناپاک قدم اکھڑ جائیں گے ۔بے شک ہمارا ایمان ہے کہ شہیدوں کا خون رائیگان نہیں جاتا کیونکہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ حق کیلئے جان قربان کرنے والوں کو بالآخر کامیابی ہوتی ہے اس میں کوئی شبہ اور دو رائے نہیں کہ آزادی ریاست جموں و کشمیر کے عوام کا حق ہے اور جو مل کر رہے گا۔

About Aziz

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *