بریکنگ نیوز

وزیر اعظم کا قومی اسمبلی سے اعتماد کاووٹ حاصل کرنے فیصلہ درست سمت ہے

وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات سینیٹر سید شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کل( ہفتہ) کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کو گذشتہ روز پتا چل گیا کہ کون کس طرف کھڑا تھا، اپوزیشن ایک ایسی حکومتوں کی نمائندگی کررہی ہے جن کا ہمیشہ ووٹ کے خریدنے اور بیچنے پر انحصار رہا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی جدوجہد یہی ہے کہ انتخابات شفاف اور آزادانہ ہونے چاہیں۔ ہماری رائے میں وزیر اعظم عمران خان کا یہ فیصلہ بالکل درست سمت ہے کیونکہ سینٹ میں پی ٹی آئی کے امیدوار وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں شکست کے تناظر میںیہ ایک اچھی روش ہے کہ وزیر اعظم نے خود ہی قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ فیصلہ ایک جمہوری سوچ کا آئینہ دار ہے کیونکہ اپوزیشن کی طرف سے ان پر بظاہر اعتماد کے ووٹ لینے کا دبائو سامنے نہیں آیا ۔ البتہ بعض اپوزیشن رہنمائوں کی طرف سے وزیرا عظم کو استعفی دینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے جو ہماری رائے میں کسی صورت بھی درست اقدام نہیں۔ الیکشن جمہوری عمل کا ایک حصہ ہے اس میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں جمہوری عمل کے اہم جز ہیں ۔ ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل گزشتہ تیرہ سال سے جاری ہے ۔ 2008ء سے 2013تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنا دور پور کیا اور اسی طرح 2013سے 2018تک پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی اپنا حکومتی عرصہ مکمل کیا جو بلاشبہ ایک مثبت پیشرفت ہے ۔ وطن عزیز میں زیادہ تر ڈکٹیٹر شپ یا فوجی حکومتیں رہی ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ فوجی یا مارشلائی حکومتیں لانے میں سیاست دانوں کا بھی بڑا عمل دخل رہا ہے ۔ ملک میں سیاست کی بساط جب بھی الٹی گئی فوج کو سیاست دانوں نے ہی ملک کا اقتدار سنبھالینے کا کہا ۔تنقید برائے اصلاح اپوزیشن کا حق ہے لیکن تنقید برائے تخریب کسی بھی صورت ملک کی بہتری اور جمہوری عمل کیلئے نیک شگون ثابت نہیںہوسکتی ۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تیسرا سال چل رہا ہے اصولی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت اپنے پانچ سالہ ٹینور کے دوران ہی انتخابی وعدوں اور منشور پر عملدر آمد کو یقینی بناسکتی ہے۔ لہذا ہونا تو یہ چاہئے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پانچ سال پوری کرے اور جمہوریت کا تسلسل بھی قائم رہے اور آئندہ انتخابات میں عوام بہتر انداز میں فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہونگے کہ آئندہ حکومت کس کو سونپی جائے۔ جمہوریت کی مضبوطی سے ملک کا وقار اور معاشی استحکام وابستہ ہے کیونکہ کسی بھی ملک میں عدم استحکام کا شکار حکومت عالمی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں کرپاتی اور دوسرے ملکوںکے ساتھ اہم معاہدوں میں بھی پیشرفت اس انداز میںنہیں ہوتی جو ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کے ساتھ ممکن ہوتی ہے۔ ملک کی بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کومنفی سیاست ترک کرنا ہوگی تاکہ حکومت اپنا وقت پورا کرسکے تاکہ ایک طرف جمہوری تسلسل بھی برقرار رہے اور ملک بھی سیاسی استحکام کی طرف جائے۔ وزیر اعظم عمران خان کا اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ مثبت انداز میں دیکھنا چاہئے ۔ اگر ایوان ان پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے تو انہیں مزید عرصہ حکومت کرنے کا حق ملک کا قانون اور آئین دیتا ہے تاکہ وہ اپنے منشور اور وعدوں پر عملدر آمد کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کرسکیں۔ہماری رائے میں اپوزیشن کی طرف سے استعفی کا مطالبہ کسی طور بھی ایک مثبت عمل نہیں یہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپوزیشن احتساب کے عمل سے خائف ہے کیونکہ عمران خان کا یہ موقف شروع دن سے رہا ہے کہ وہ احتساب کے معاملے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے اور کسی بھی شخصیت کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔

About Aziz

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *