بریکنگ نیوز

کرپشن مافیا کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کا جدوجہد کرنے کافیصلہ قابل ستائش ہے

وزیر اعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ میری ساری پارٹی میرا ساتھ چھوڑدے پھربھی تنہا لڑوں گا، کپتان ہوں آخری گیند تک لڑنے والا ہوں اور آخری گیند تک لڑوں گا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کوئی ملک کرپٹ لیڈرشپ کے ساتھ خوشحال نہیں رہ سکتا۔ نواز شریف ملک کو 30 سال سے لوٹ کرملک سے باہربھاگا ہوا ہے، نواز شریف لندن میں بیٹھ کر پیسے چلانے کے منصوبے بنا رہے ہیں، پیپلزپارٹی اور (ن)لیگ نے این آر او لے کر دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا۔ ہماری رائے میں وزیر اعظم عمران خان کا کرپشن کے خلاف لڑنے کا عزم ان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ کسی صورت بھی ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور کرپٹ مافیا اور کرپٹ عناصر کے خلاف احتساب کے عمل کو جاری رکھیں گے۔ اگلے روز پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم سید یوسف گیلانی کے مقابلے میں وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو سینٹ میں شکست کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم نے ذاتی طور پر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ عام تاثر یہ تھا کہ یہ وزیراعظم مطلوبہ تعداد پوری نہیں کرسکیں گے اور اعتماد کا ووٹ لینا مشکل بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن وزیر اعظم کو خود پر اعتماد تھا انہوں نے اپنی پارٹی اور اتحادی جماعتوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جس میں وہ بالآخر کامیاب ہوگئے۔ جہاں تک حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا تعلق ہے انہوںنے اس کارروائی کو مسترد کردیا ہے اور وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ وزیر اعظم کو اپنے عہدے سے استعفی دینا چاہئے۔ ہماری رائے میں حزب اختلاف کا استدالال اور موقف اپنی جگہ درست بھی ہوسکتا ہے لیکن سینٹ کی سیٹ میں حکومتی رکن حفیظ شیخ کی شکست کو سامنے رکھ کر وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ درست سمت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی تناظر میں اب جبکہ وزیر اعظم نے اپنی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کی مطلوبہ تعداد سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ہے تو اصولی طور پر اپوزیشن کو وزیر اعظم سے استعفی کے مطالبے سے دستبردار ہونا چاہئے۔ جہاں تک سیاسی مخالفت اور اختلاف رائے کا تعلق ہے یہ حزب اختلاف کا اپنا حق ہے کہ وہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے یا احتجاجی سیاست کرکے اپنے حق کا استعمال کرے۔ حزب اختلاف اگر وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش کرتی ہے تو لازمی طور پر وزیر اعظم کو ایوان سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا اور اگر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوتی اور وزیر اعظم قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ دوبارہ حاصل کرلتے ہیں تو پھر اپوزیشن کے پاس احتجاج جاری رکھنے کی دلیل باقی نہیں رہے گی۔ سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کا ایک اہم اور کلیدی کردار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان میں جمہوریت کا پودا موثر انداز میں نشونما نہ پاسکا اور کئی بار ملک میں مارشل لاء اور ڈیکٹیٹر شپ قائم ہوئی۔ ایسی صورتحال کے پیدا کرنے میں خود سیاسی رہنمائوں کا اہم کردار رہا ہے اور ملک کو جمہوریت کی پٹری سے ہٹا کر جمہوری عدم استحکام کا شکار کیا۔ اب جب کہ 2008 ء سے 2018 تک دو جمہوری سیاسی حکومتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنا دور حکومت مکمل کیا اور تیسرا ٹینیور اب پاکستان تحریک انصاف کا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان چپقلش ، سیاسی کھینچا تھانی اور ہیجانی کیفیت کے پیدا ہونے سے کل کیا صورتحال جنم لیتی ہے اور اوونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے اس کا اظہار قبل از وقت ہے۔ لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سیاسی عدم استحکام جہاں ملک کی تعمیر و ترقی اور معاشی استحکام کیلئے زہر قاتل ہے وہاںجمہوریت بھی اپنی پٹری سے ڈی ریل ہوسکتی ہے۔ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن دونوں ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ایک مثبت سوچ کا مظاہرہ کریں تاکہ وطن عزیز میں جمہوریت کا تسلسل بھی جاری رہے اور تعمیر و ترقی کا سلسلہ بھی چلتا رہے۔ جہاں تک اپوزیشن کے جائز مطالبات اور اسی طرح احتساب کے عمل کے حوالے سے بھی حزب اختلاف کی جماعتوں کو جو تحفظات ہیں حکومت کو ان کا ازالہ کرنا ہوگا اور احتساب کا عمل شفاف اور بلاامتیاز بناکر ہی مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ اظہار کہ اگر ان کی جماعت ان کا ساتھ نہ بھی دے تو وہ تنہا لڑیں گے ۔ ہماری رائے میں حق بات کیلئے لڑنا اور جدوجہد کرنا بلاشبہ جہاد کا درجہ رکھتاہے لیکن انصاف کے تقاضوں کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھ کر ہی اعلی و ارفع مقاصد کا حصول یقینی بنایا جاسکتاہے۔ جن لوگوں کے خلاف احتساب کی عدالتوںمیں کرپشن کے کیس چل رہے ہیں ، احتساب بیورو کو ان کیسوں سے متعلق شواہد اور معلومات حقائق کی بنا پر ہی فراہم کرکے ایک شفاف اور بلاامتیاز احتسابی عمل کو یقینی بنانا ہوگا۔ حقائق اور ثبوت سامنے آنے پر ملزمان کو قانون کے شکنجے میں لیا جاسکتاہے۔لیکن وہ احتسابی عمل کسی طور بھی قابل ستائش یا اصولی قرار نہیںدیا جاسکتا جس میںملزمان کو عرصہ دراز قید میں رکھنے کے بعد بلآخر ثبوتوں کی عدم فراہمی کے باعث بری کردیا جائے۔ ایسی صورتحال سے اگر اجتناب برتا جائے اور احتساب کے عمل کو اسلام اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق یقینی بنایا جائے تو وزیر اعظم عمران خان بلاشبہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کو یقینی بناسکیں گے۔

About Aziz

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *