بریکنگ نیوز

منی لانڈرنگ اور وائٹ کالر کرائم میں ملوث افرادکو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر نشان عبرت بنانا ہوگا

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ اور بڑی مقدار میں پیسہ دوسرے ملکوں میں غیر قانونی طور پر منتقل کرنا غریب ملکوں کا بڑا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی تشکیل کردہ پینل کی ”فیکٹ آئی”رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک سے متعلق ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غریب ملکوں سے غیر قانونی طور پر منی لانڈرنگ ہوکر امیر ممالک میں جاتا ہے جنہیں آف شور اکائونٹس میں منتقل کیا جاتا ہے، غریب ممالک سے جو پیسہ چوری ہوتا ہے وہ 7ہزار ارب ڈالر ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری جیسے صاحب اقتدار لوگ چوری کا پیسہ باہر بھیجتے ہیں، جب صاحب اقتدار ملک سے پیسہ باہر بھیجتے ہیں تو وہ منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے اداروں کو ساتھ ملاتے ہیں اور انہیں کمزور کرتے ہیں، ایسے لوگ کچھ ایسے پراجیکٹ لاتے ہیں جو ملک کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان میں کمیشن ہوتے ہیں اور وہ کمیشن باہر لے جاتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس طرح لوگوں کو مقروض کرتے ہیں اور عوام کو قرضوں کی قیمت مہنگائی سے ادا کرنی پڑتی ہے ۔ بلاشبہ منی لانڈرنگ اورغیر قانونی طور پر پیسے کی بڑی مقدار دوسرے ملکوںمیں منتقل کرنا کسی بھی ملک کی معاشی اور اقتصادی ترقی میں انتہائی برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ اس طرح لازم و ملزوم ہوگئے ہیں کہ غیر قانونی طور پر لوٹا ہوا پیسہ دوسرے ملکوںمیں منتقل کرکے اس جرم میںملوث افراد اس پیسے کو محفوظ بنالیتے ہیں۔ ہماری رائے میں وائٹ کالر کرائم ، کمیشن اور بڑے بڑے منصوبوں سے کک بیکس کی رقوم کو سیاستدان ہو ں یا ان کے ساتھ ملے ہوئے بیورو کریٹکس وہ اپنی رقوم کو محفوظ بنانے کیلئے دوسرے ملکوں میں منتقل کرکے اس سرمایہ سے بڑی بڑی جائیدادیں اور کاروبار کھڑا کرتے ہیں۔ صاحب اقتدارلوگ جب بھی کرپشن میں ملوث ہوتے ہیں تو یہ کرپشن بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور اس کرپشن اور وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا بہرحال ثبوت نہ ہونے کے باوجود بھی جرم کرنے والے کوئی نہ کوئی ثبوت چھوڑ دیتے ہیں۔ہماری رائے میں وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست سمت نشاندہی کی ہے کہ کرپشن اوربڑے پیمانے پر لوٹ کھسوٹ اور قومی دولت کو دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے سے ملک کی معاشی صورت حال ابتر ہوجاتی ہے اور عوام مقروض ہوجاتے ہیں اور عوام کوقرضوں کی قیمت مہنگائی سے ادا کرنی پڑتی ہے۔یہی صورتحال وطن عزیز پاکستان کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔ ملک کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر لوٹنے والوں نے ملک کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے لیکن خود وہ مالی طور پر اس قدر مضبوط ہوچکے ہیں کہ خروید و فروخت اور حکومتوں کو گرانا اور بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے۔ کرپشن صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے ، عمومی طور پر یہ عالمی مسئلہ ہے لیکن خاص طور پر جنوبی ایشیاء کے ممالک جن میں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا ، پاکستان و دیگر کئی ملک شامل ہیں ان ملکوںمیں کرپشن کی انتہا ہے اور کرپٹ مافیا اس قدر مضبوط اور موثر ہے کہ ملک کے وسائل اور اقتدار پر ان کی دسترس ہمیشہ رہتی ہے ۔ ان ملکوں کے عوام اس کرپٹ مافیا کی وجہ سے ہی مسائل اور مشکلات کا شکار ہوتے ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ چین میں بھی کرپشن اعلیٰ پیمانے پر تھی لیکن چین کی حکومت نے کرپشن کو قابو کرنے کیلئے کرپشن میں ملوث افراد کو موت کی سزا مقررکی جس کی وجہ سے چین میں کافی حد تک کرپشن پر قابو پالیا گیا۔ وطن عزیز پاکستان میں احتساب بیورو کا ادارہ تشکیل دیا گیا اس سے قطعہ نظر کہ اس ادارے نے اربوں روپے سیاستدانوں اور بیورو کریٹکس سے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے لیکن جن مقاصد کیلئے یہ ادارہ قائم کیاگیا تھا اس کا حصول ہنوز ممکن نہ ہوسکا۔ ستم بالائے ستم یہ ادارہ ہر دور میں سیاسی مخالفین پر دبائو ڈالنے کیلئے بھی استعمال ہوتا رہا ۔ احتساب اسلامی نقطہ نگا ہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس ادارے کا وجود ہی کرپشن میں ملوث کسی بھی شخصیت کیلئے خوف کی علامت ہونا چاہئے ۔ حقائق پر مبنی ثبوت اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اگر کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالا جائے تومجرم کابچنا مشکل ہے ، انہیں کسی صورت معاف نہیں کرنا چاہئے ۔ پلی بارگین کی صورت میں بہت سے کرپٹ عناصر لوٹے ہوئے مال سے ایک چھوٹا حصہ ادا کرکے باقی ماندہ بلیک منی کو وائٹ منی بنوانے میں کامیا ب ہوئے۔ پلی بار گین کا سلسلہ ہونا ہی نہیں چاہئے بلکہ ثابت ہونے پر لوٹی ہوئی دولت واپس قومی خزانے میں شامل کی جائے اور کرپٹ عناصر خواہ وہ سیاست دان ہوں یا سرکاری اہلکار کو نشانہ عبرت بناکر ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔ کرپشن کا خاتمہ احتساب کے قانون میں جو کمزوریاں ہیں ان کو ختم کرکے ہی ممکن ہوسکتا ہے جب تک قانون کی عملداری ، انصاف کی بنیاد پر ایک شفاف احتساب نہیں کیا جاتا تو حقیقی مقاصد کا حصول ممکن نہیں۔

About Aziz

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *