بریکنگ نیوز

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء ہی امن عمل اور خطے کی ترقی کیلئے ضروری ہے

افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے افغان طالبان اور سابق امریکی ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان قطر کے شہر دوحہ میں مذاکرات کی صورت میں جو معاہدہ منشاء شہود پر آیا تھا اس کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسز کا انخلاء کا ہونا تھا۔ لیکن امریکہ میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے صورتحال کو یکسر تبدیل کردیا ہے اور افغانستان میں قیام امن اور مستقل جنگ بندی کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایک نیا پلان سامنے آیا ہے جس میں افغانستان میں امن کے عمل کے لیے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔امریکی وزیرخارجہ اینٹونی جان بلینکن کی جانب سے افغان صدر اشرف غنی اور امن کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو بھیجے گئے خط میںانھیں متنبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کی صورت میں سکیورٹی صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے اور مزید علاقے طالبان کے قبضے میں جا سکتے ہیں۔تاہم افغان نائب صدر امراللہ صالح نے نئے امریکی منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں افغان عوام کے ووٹ کو کوئی جگہ نہیں دی گئی ہے اور وہ کسی کو بھی افغان عوام کا یہ حق چھین لینے کا اختیار نہیں دے سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن کسی کی زبردستی نہیں مانیں گے۔خط میں کہا گیا ہے کہ تمام افغان فریق آپس میں جلد سے جلد جنگ بندی پر متفق ہوں تاکہ امن کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ اسی خط کے ساتھ بیک وقت افغان امن عمل کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے آٹھ صفحات پر مشتمل ایک نیا پلان بھی منظرعام پر آیا ہے جس میں ایک ایسی نگران حکومت بنانے کی تجویز دی گئی ہے جس میں طالبان بھی شامل ہوں۔ساتھ ہی تمام فریقین پر مشتمل آئین میں ترامیم کے لیے ایک کمیشن کے قیام اور جنگ بندی کے لیے سیاسی روڈ میپ پر زور دیا گیا ہے۔بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے یہ خط اور نیا پلان ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئے ہیں جب افغانستان کے لیے امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے پچھلے دنوں کابل میں افغان حکام اور دوحہ میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد پیر کو اسلام آباد میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تھی۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میںامریکی بائیڈن انتظامیہ کا موقف اپنی جگہ لیکن افغان طالبان نے بہرحال غیر ملکی افواج کے انخلاء کے حوالے سے دوحہ میں ہونے والے معاہدے پر زور دیا ہے بصورت دیگر افغان طالبان کا موقف ہے کہ اگر معاہدے کی پاسداری نہ کرتے ہوئے غیر ملکی افواج کا انخلاء نہ کیا گیا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری امریکی انتظامیہ اور افغان حکومت پر ہوگی۔ ہماری رائے میں امریکہ کی نئی انتظامیہ افعانستان سے افواج کے انخلاء کے حق میں نظر نہیں آتی لہذا اپنے اس نئے پینترے کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بائیڈن انتظامیہ کاافغان حکومت کو خبردار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ دھونس اور دھمکی کے ذریعے افغان حکومت کو خوفزدہ کرکے امریکہ اس خطے میں اپنے خاص ہدف حاصل کرنے کیلئے تاحال نیٹو افواج کو افغانستان میں رکھنا چاہتا ہے۔ ہماری رائے میں یہ صورتحال طالبان کی کارروائیوں میں شدت پیدا کرسکتی ہے کیونکہ طالبان کسی صورت بھی غیر ملکی افواج کے انخلاء کے حوالے سے معاہدے سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہتے۔ ٹرمپ انتظامیہ پوری طور پر افغانستان سے امریکی و دیگر نیٹو ملکوں کی افواج کے انخلاء کے حق میں تھی لیکن بائیڈن انتظامیہ فی الحال افواج کو افغانستان میں ہی رکھنا چاہتی ہے۔ یہ صورتحال کسی طور بھی افغانستان میں امن کیلئے نیک شگون قرار نہیں دی جاسکتی کیونکہ اگر طالبان نے اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کی تو لامحالہ غیر ملکی افواج کے حملوںمیں بھی شدت آئے گی اور اس تمام کارروائی میں افغان عوام چکی کے دو پاٹوں میں پس جائینگے اور افغانستان میں امن کا قیام اور خوشحالی ایک خواب بن جائے گا۔ یہ صورتحال بھارت کیلئے بھی سود مند ہے کیونکہ بھارت کسی طور بھی افغانستان میں امن کا قیام نہیں چاہتا تاکہ امریکہ کی طرح بھارت بھی افغانستان میں اپنی منفی کارروائیوں میں مصروف رہے اور پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کیلئے بھارت کو اڈے اور وسائل میسر رہیں۔ امریکہ کو سی پیک منصوبہ کسی طور ہضم نہیںہوپارہا ۔ لہذا وہ اپنی افواج کو افغانستان میں رکھ کرطویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت اپنے ہدف سامنے رکھ کر لائحہ عمل ترتیب دے رہا ہے۔ اس خطے میں بھارت ہی اب اس کا حصہ دار ہے کیونکہ خطے کے دیگر ممالک نے چین کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ہے اور وہ تمام ملک سی پیک کا حصہ بننے جارہے ہیں۔ ایران بھارت کے اثر و رسوخ سے کافی حد تک باہر ہوچکا ہے۔ چین اور روس افغانستان میں بھارت کے کردار کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتے لیکن امریکہ کی ہٹ دھرمی اور اس خطے میں عزائم امن عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ محسوس ہورہے ہیں ۔

About Aziz

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *