بریکنگ نیوز

کورونا وباء کو قابو کرنے کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدر اآمد یقینی بنایا جائے

پوری دنیا میں مہلک وبا کورونا کے حملے جاری ہیں اور اب تیسری لہر شروع ہوگئی ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں اللہ کے فضل سے اس اندازمیں نقصان نہیں ہوا جس طرح باقی دنیا میں یہ وباء تباہی مچا رہی ہے۔لیکن پنجاب میں اس وباء کا پھیلائو گزشتہ کچھ روز سے زیادہ ہورہا ہے جو تشویش کا باعث ہوسکتاہے اور اگر احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد نہ کیا گیا تو زیادہ اندیشہ کا نقصان ہوسکتا ہے اور مریضوں کے بڑھ جانے کے باعث ہسپتالوں پر بھی دبائو بڑھ جائے گا۔ ایسی صورت میں عوام کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ حکومت کی طرف سے اگلے روز تعلیمی اداروں کو دو ہفتے کیلئے بند کردیاگیا اور اسی طرح ہوٹلز ،ریسٹوانٹس اور شادی ہالوں و دیگر تقریبات میں اجتماعات پر ایک بار پھر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ علاوہ ازیںاسلام آباد کے پانچ سب سیکٹرز سیل کردیئے گئے ہیں ۔ بلاشبہ احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر عملدر آمدکو یقینی بناکر ہی بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی)کی جانب سے پیر کے روز ملک میں کوروناوائرس کے حوالہ سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق مہلک وباء کوروناوائرس کے باعث ملک بھر میں مزید29 مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے کل مریضوں کی تعداد13537تک پہنچ گئی ۔گذشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک میں کوروناوائرس کے2253نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد کوروناوائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 6 لاکھ 7ہزار453تک پہنچ گئی ۔اب تک ملک بھر میں کوروناوائرس کے5 لاکھ71 ہزار878 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد22038تک پہنچ گئی۔ اس وقت ملک میں کوروناوائرس تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کی تعداد1823 تک پہنچ گئی ۔پاکستان میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح2.2فیصد جبکہ صحت یاب ہونے والے مریضوںکی شرح.94.1فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ہماری رائے میں جس طرح معاشی طور پر پوری دنیا کے مختلف ملکوںحتی کہ امیر ترین ملکوں کی معیشت بھی مشکلات کا شکار ہوئی اس لحاظ سے وطن عزیز پاکستان میں معیشت کا پہیہ جام نہیں ہوا ۔ معاشی سرگرمیاں اور کاروبار کافی حد تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی کا تجربہ کافی حد تک کامیاب رہا ۔ بلاشبہ حکومت عوام کی بھلائی اور بہتری کیلئے ہی بعض اوقات مشکل فیصلے کرتی ہے لیکن اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس وبا اور بلاء کو سمجھیں اور احتیاطی تدابیر پرجس حد تک ممکن ہو عملدر آمد کریں تاکہ نہ صرف یہ وباء پھیلنے سے رک سکے بلکہ اس کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکے۔ جہاں تک ویکسین کا تعلق ہے اب طبی عملے کی ویکسینشن کی جاری ہے اسی طرح ساٹھ سال سے اوپر کے افراد کو بھی ترجیحی بنیادوں پر ویکسین دی جارہی ہے۔ ہمارے لئے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اس وباء کے حملے پاکستان میں اس قدر شدید نہیں جس کا خوف تھا۔یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی عوام کی قوت معدافعت بہتر ہونے کے باعث بھی کورونا اس شدت سے حملہ آور نہ ہوسکا ۔ بہرحال عوام کو اس موذی مرض کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ۔لہذا ضروری ہے کہ حکومت اور حکومتی اداروں کی طرف سے ہدایات کی روشنی میں ہی خود کو اور دوسروں کو بھی محفوظ بنانے کیلئے ہر فرد اپنا کردار ادا کریں۔یہ بات درست سمت ہے کہ کھانے پینے اور دیگر اشیاء ضروریہ اور روز مرہ کے استعمال کی چیزوں پر حکومت نے وقت کی پابندی میںکافی نرمی رکھی ہے البتہ دیگر کاروباری اداروں اور دکانوں کیلئے چھ بجے کا ٹائم مقرر کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ یہ حکومتی حکمت عملی ہوسکتی ہے لیکن اگر اس وقت کو چھ بجے کے بجائے آٹھ بجے کردیا جائے تو ان دکانوں پر رش اور ہجوم کم ہوجائے گا کیونکہ وقت کی کمی کے باعث عوام ان دکانوں کا رخ کرے گی جو کورونا کے پھیلنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

About Aziz

Check Also

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *