بریکنگ نیوز

یوم قرار دادپاکستان، تجدید عہد کادن ،دفاع وطن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یکجہتی انتہائی ضرور ی ہے

مملکت خدادا دپاکستان کا 81واں یوم قرار داد اس سال بھی اس عزم کے اعادہ اور تجدیدعہدکے ساتھ منایا جارہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان کو تمام داخلی اور خارجی سازشوں اور خطرات سے محفوظ بناکر ایک مضبوط اور مستحکم ملک بنائیں گے۔ ایسے وقت میں جب پوری دنیا کورونا وائرس کی زد میں ہے اور اس وقت کورونا کی تیسری لہر نے دنیا میں پنجے گاڑ لئے ہیں پاکستان میں بھی اس کے حملے جاری ہیں۔ دنیا کا تجارتی نظام درہم برہم ہے اور اس موذی اور جان لیوا وائرس کے تدارک اور لوگوں کو اس کی زد سے محفوظ رکھنے کیلئے عالمی سطح پر تمام حکومتیں اور ادارے مصروف عمل ہے۔ اس حوالے سے محدود انداز میںتقریبات منعقد کی جائیں گی کیونکہ کورونا کے وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں اور بہت سی تقریبات نہ ہوسکی۔ اس قومی دن کے موقع پر سب سے اہم اور بڑی تقریب مسلح افواج پاکستان کی پریڈ ہوتی ہے جو آئی ایس پی آر کے مطابق موسمی تغیر اور بارش کے باعث دو دن کیلئے موخر کردی گئی اور یہ پریڈ اور تقریب 25 مارچ بروز جمعرات کے روز منعقد ہوگی۔ جہاںتک آج قوم وطن عزیز کے حوالے سے منظور کی جانے والی قرار داد جو اس وطن کے حصول اور قیام کی بنیاد بنا کو محدود انداز میں منارہی ہے ان شاء اللہ رہتی دنیا تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ اللہ تعالی پاکستان کو قائم ، آباد اور پائیندہ رکھے۔ آمین۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو ناصرف علاقے کے امن اور خوشحالی کا ضامن ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک پر امن ماحول اور خوشحالی کا خواہاں بھی ہے۔مملکت خداداد پاکستان جس کا خواب حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال نے دیکھا اور اس خواب کو حقیقت کا روپ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے مختصر عرصے میں دیا ۔ پاکستان عالم اسلام میں ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ہی کلمہ توحید پر استوار ہے۔ ایک آزاد وطن کے حصول کیلئے اسلامیان ہند نے طویل جدوجہد کے بعد جنوب مشرقی ایشیا میں ایک آزاد اور خودمختار ملک پاکستان حاصل کیا اور اس جدوجہد میں لاکھوں انسانی جانیںاپنے قیمتی خون کا نظرانہ دیکر شہادت کے رتبے پر فائز ہوئیں ۔ تحریک پاکستان کے پس منظر میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے لکھنو میں مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا درس دیتے ہوئے یہ بات باور کروائی کہ مسلمان اورہندو دوعلیحدہ قومیں ہیں۔ہمارا دین ہماری ثقافت، ہمارا رہن سہن اور تہذیب و تمدن ہندو قوم سے بالکل جدا ہے یہی تصور دو قومی نظریہ کی بنیاد ہے اور ہمارے وطن کے وجود کے لئے بنیادی اساس بھی۔اس نظریے کی حفاظت کی جس قدرضرورت آج ہے اس سے قبل پہلے نہ تھی کیونکہ دشمن اس دو قومی نظریے پر حملہ آور ہے اور مختلف تاویلوں کے ذریعے اس نظرئیے کی نفی میں مصروف ہے۔ لیکن ہمیشہ پاکستان دشمن طاقتوں کو منہ کی کھانا پڑی۔ ہماری دانست میں وطن عزیز کے خلاف داخلی اورخارجی سازشوں کے پس منظر میں وقت کا تقاضا ہے کہ دو قومی نظریہ کی اس وراثت کو مضبوطی سے تھام لیا جائے کیونکہ یہی ہماری اساس ، نظریہ پاکستان کی بنیاد اور 23مارچ کا حقیقی پیغام بھی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو اس وطن کے حصول کے حوالے سے طویل جدوجہد ، اس کی قربانیاں اور اہم قومی دنوں سے متعلق موثر انداز میں روشناس کرایا جائے۔ آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو مد نظر رکھ کر ہی اس وطن پاک کی حفاظت پر مامور رہیں گی۔ 23 مارچ1940کو لاہورکے منٹو پارک میںمسلم لیگ کے تین روزہ اجلاس کے دوسرے روز اسلامیان ہند سے قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے دو قومی نظریے کو بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کیا۔22مارچ 1940ء کے دن شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے ایک آزاد اور خود مختار ملک کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اہم قرار داد پیش کی جو 23مارچ 1940 ء کو بھر پور انداز میں منظور کی گئی اور یہ قرار داد لاہور بعد میں قرار داد پاکستان کہلائی ۔ اس قرار داد کے پیش ہونے کے صرف سات سال کے مختصر عرصہ میں پاکستان جو اس وقت ایک خواب تھاحقیقت بن کرعالمی منظر نامے پر نمودار ہوااور ان شاء اللہ جورہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا اور عالم اسلام کی رہنمائی اور دفاع کے منصب پر بھی فائز رہے گا۔مسلمانان عالم بالخصوص اسلامیان ہند کے اتنے بڑے خواب کا شرمندہ تعبیر ہو جانا اورتصور کا حقیقت بن جانا بلاشبہ دنیا کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ قیام پاکستان کسی معجزے سے کم نہیں تو غلط نہ ہوگا ۔ اہل پاکستان کو اس نعمت کا خیال رکھتے ہوئے اپنے جداگانہ تشخص جسے آج بھارتی سازشوں کا بھر ملا سامنا ہے کوبرقرار رکھناہی درحقیقت دفاع پاکستان ہے۔ آج قوم کو مکمل اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے کیونکہ اتحاد کی نعمت سے ہی ہم دنیا کی ایک عظیم اور مضبوط قوم بن کر ابھر سکتے ہیں۔ اتحاد اور یکجہتی جہاں دفاع وطن کیلئے ضروری ہے وہاں کورونا وائرس جیسی موذی وبا کو اس ملک سے نکالنے اور وطن عزیز کے شہریوں کو محفوظ بنانے کیلئے بھی انتہائی ضروری ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں اگر یہ کہا جائے کہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور اس کا مملکت خداداد پاکستان کے ساتھ الحاق درحقیقت تکمیل پاکستان کی بنیاد ہے۔ لہذا اس جذبے کو زندہ اور قائم رکھنے کے ضرورت ہے جس کیلئے مقبوضہ کشمیر کی عوام نے گزشتہ 74سالوں میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

About Aziz

Check Also

کورونا وباء کو قابو کرنے کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدر اآمد یقینی بنایا جائے

پوری دنیا میں مہلک وبا کورونا کے حملے جاری ہیں اور اب تیسری لہر شروع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *