بریکنگ نیوز

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم انتہا کو پہنچ چکے ہیں ،اقوام متحدہ اور عالمی برادری صورتحال کا نوٹس لے

مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں درندہ صفت قابض بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کے بعد ظلم و زیادتی کا ایک نیا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور امن کے پردے میں انسانیت کی جو تذلیل کی جارہی ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگلے روز شوپیاں میں بھارتی درندہ صفت افواج نے نوجوانوں کو شہید کر کے درختوں کے ساتھ الٹا لٹکا کر انسانیت سوز مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہندتوا کے پچاری مودی اور اس کی درندہ صفت فوج نازیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لئے ہر وہ ہتھکنڈہ استعمال کررہے ہیں جس پر انسانیت بھی شرمندہ ہے۔ہماری رائے میں یہ تشویشناک صورتحال نہ صرف عالمی برادری بلکہ وطن عزیز پاکستان کیلئے بھی لمحہ فکریہ اور تشویش کا باعث ہونی چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور سات دہائیوں سے جاری تحریک آزادی کشمیر اس حقیقت کی عکاس ہے کہ کشمیریوں نے کسی لمحہ بھی بھارت کی بالادستی اور غیر قانونی قبضے کو تسلیم نہیں کیا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کو ہی اپنی منزل قرر دیا۔ کشمیریوں کے احتجاجی جلوسوں میں کشمیری عوام پوری جرأت اور استقامت کے ساتھ بھارتی فوج اوران کی سنگینوں کے سائے میں نعرہ بلند کرتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جس انداز میں اہلیان مقبوضہ جموں و کشمیر کسمپرسی کے حالات ، مصائب اور مشکلات کے باوجود بھارتی فوج کو للکارتے ہیں اس پر ان کو سلام ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ قربانی کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی اور بالآخر کشمیریوں کا یہ خون ناحق جو بھارتی ظلم و ستم کے باعث بہ رہا ہے آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوگا۔ بھارت ایک طرف عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور عالمی سطح پر اپنا ایک اچھا تاثر پیدا کرنے کیلئے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کیلئے آمادہ ہوتا ہے لیکن دوسری طرف وادی کشمیر میں ظلم و ستم کی ایک نئی لہر شروع کرتا ہے تاکہ وہ اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کو یقینی بناسکے۔ بھارت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پانچ اگست 2019ء کا غیر قانونی اقدام جس کے تحت بھارت نے کشمیر پر اپنے قبضے کو قانونی قرار دینے کیلئے ایک چال چلی یا کشمیریوں کو دھوکہ دینے کیلئے اندرونی خود مختاری اور سہولتیں دینے کی بات کی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کشمیریوں نے بھارت کے ہر ہتھکنڈے اور جعل سازی کو یکسر مسترد کردیا۔ بھارت کو یقین ہے کہ کشمیری کسی طور بھی بھارت کے ساتھ ملنے کیلئے تیار نہیں لہذا مقبوضہ ریاست میں ایک طرف ظلم و ستم کرکے کشمیریوں کا صفایا کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف آبادی کا تناسب تبدیل کرکے مستقبل میں اپنے توسیع پسندانہ اور ریاست پر مستقل قبضہ کرنے کیلئے اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے ۔ اس صورتحال پر مملکت خداداد پاکستان کی حکومت خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان جنہوںنے خود کو کشمیریوں کا عالمی سفیر قرار دیا ہے ۔لہذا وقت آگیا ہے کہ وزیر اعظم اس حوالے سے اقوام متحدہ کے علاوہ چین ، روس ، برطانیہ و دیگر عالمی قوتوں کو اعتماد میں لے کر بھارت کے جارحانہ اور غیر انسانی اقدامات سے آگاہ کریں۔تاکہ مسئلہ کشمیر کے مستقل ، پائیدار اور منصفانہ حل کیلئے پرامن ذرائع سے ریاست جموںو کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام استصواب رائے کیلئے راہ ہموار ہوسکے۔اس وقت عالمی سطح پر صورتحال پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ اس حقیقت کے باوجود امریکہ ایک سپر پاور ہے لیکن طاقت کا توازن کافی حد تک امریکہ کے ہاتھ سے نکل رہا ہے اور چین باقاعدہ طور پر عالمی سطح پر ایک عالمی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ امریکہ بھارت کی پشت پر ہے لیکن اس کے برعکس یہ اب پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حکمت عملی پر منحصر ہے کہ وہ چین اور روس کے علاہ خطے کے دیگر ملکوں کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے بھارت اور امریکہ پر دبائو بڑھائیں اور کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کے حوالے سے بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرے تو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

About Aziz

Check Also

کورونا وباء کو قابو کرنے کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدر اآمد یقینی بنایا جائے

پوری دنیا میں مہلک وبا کورونا کے حملے جاری ہیں اور اب تیسری لہر شروع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *