بریکنگ نیوز

کورونا وائرس کا تشویشناک حد تک پھیلائو ، احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کرکے ہی قابو میں لایا جاسکتاہے

اگلے روز نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر ( این سی او سی ) کا ایک اعلیٰ سطحی خصوصی اجلاس وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں ملک میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ایس او پیز کے نفاذ کے لیے مزید سختی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں تمام صوبائی چیف سیکرٹریز کے علاوہ متعلقہ اعلی افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ فیصلے کے مطابق 5 اپریل سے شادی کی تقریبات پر ان ڈور اور آؤٹ ڈور مکمل پابندی کردی گئی جبکہ ملک بھر میں تمام اقسام کے انڈور اور آؤٹ ڈور اجتماعات پر بھی فی الفور پابندی عائد کی گئی۔ ہماری دانست میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کو عام شہریوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا جبکہ حکومت اور متعلقہ اداروںنے بہت پہلے ہی عوام کو خبردار کردیا تھا کہ یہ وباء انتہائی مہلک ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ تیسری لہر کا حملہ اکثر مریضوں کے پھیپھڑوں پر ہوتا ہے جس سے مریض کی حالت تشویشناک ہوجاتی ہے ۔ حکومتی اداروں کے مطابق مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور اس وقت پنجاب میں ہسپتالوں کے اندر وینٹی لیٹر اور گیس سلنڈروں کی کمی ہورہی ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے دو ہفتے قبل ایک اجلاس میں تعلیمی اداروں کو گیارہ اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایسا لگتاہے کہ تعلیمی ادارے رمضان المبارک میں بھی بند رہیں گے اور عید الفطر کے بعد ہی کھلنے کے امکانات ہیں ۔ہماری رائے میں اس مہلک وباء کو قابو کرنے اور عوام الناس کو اس کے مہلک اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے حکومت کو یہ مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں ۔ مجموعی طور پر تعلیم کا بڑے پیمانے پر حرج ہورہا ہے کیونکہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کا تعلیم کے ساتھ تسلسل اور ربط متاثر ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ورک ایٹ ہوم اور آن لائن تعلیمی نظام کے باعث کسی حد تک شہری علاقوں میں بچوں کا تعلیمی سال ضائع نہیں ہوتا البتہ دور دراز علاقوں اور گائوں دیہاتوں میں تعلیم بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور مجموعی طور پر بچوں کے مستقبل پر اس کے برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ یہ وباء بلاشبہ ایک عالمی وائرس ہے ، بڑی بڑی ترقی یافتہ قومیں بھی اس کی گرفت میں ہیں ۔ بعض ملکوں کا تعلیمی نظام ہی نہیں بلکہ معیشت اور معاشی نظام تباہی کے دہانے پہنچ چکا ہے۔ اس وبا سے چھٹکارا پوری قوم اتحاد اور یکجہتی اور شعور کے ساتھ ہی حاصل کرسکتی ہے لیکن اس کیلئے عوام اور اداروں کو حکومتی احکامات ، احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر عملدر آمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ جلد سے جلد اس وباء پر قابو پایاجاسکے اور مریضوں کی تعداد اور اموات میں کمی واقع ہو ۔ اس حوالے سے اگلے روز وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں کورونا کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے،این سی او سی کے پلیٹ فارم سے صوبے کو دی جانے والی ہدایات پر وزیر اعلی کی قیادت میں مکمل عملدر آمد کروانے جارہے ہیں،پنجاب میں گذشتہ 24گھنٹوں کے کے دوران 43قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ حکومتی اولین ترجیح ہے لہٰذماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے اورماسک نہ پہننے پر جرمانے اور 6ماہ قید ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ اور شاپنگ مالز میں کورونا کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے اورعید تک شادیوں کی تقریبات پر مکمل پابندی لگانے کی این سی او سی کی جانب سے تجویز ہ دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں 50فیصد مسافروں کو سفر کی اجازت دینے پر عملدرآمد کیلئے حکمت عملی وضع کی جارہی ہے۔ ہماری رائے میں صوبہ پنجاب وطن عزیز کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی آبادی بارہ کروڑ ہے جو دیگر صوبوں سے زیادہ ہے۔ اس وقت کورونا وائر س کا حملہ جو ملک کے ہر علاقے میں ہوا ہے لیکن پنجاب زیادہ متاثر نظر آرہا ہے۔لہذا پنجاب کی عوام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مہلک وباء کو سنجیدگی سے لیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے نہ صرف اپنے بلکہ دوسروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر لوگ ماسک کے استعمال سی پہلو تہی کرتے ہیں یہ روش کسی طور بھی مثبت قرار نہیں دی جاسکتی ۔ کیونکہ یہ بیماری ایک حقیقت ہے اس کے ساتھ رہ کر ہی مقابلہ کرنا ہے کیونکہ پہلی لہر کے دوران پوری قوم نے احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر کافی حد تک عملدرآمد کیا جس کے باعث حکومت نے لاک ڈائون سے سمارٹ لاک ڈائون کی طرف پیش رفت کی نتیجہ کے طور پر یہ بیماری بھی قابو میں آئی اور معاشی سرگرمیاں بھی کافی حد تک جاری و ساری رہیں۔ اب اگر اس وبا کے پھیلائو میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت کو مجبوراً مکمل لاک ڈائون لگانا پڑے تو یہ قومی نقطہ نگاہ سے بہت بڑا المیہ ہوگا کیونکہ غریب اور محنت کش اور سفید پوش لوگ بری طرح متاثر ہونگے۔ لہذا عوام کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حتی الامکان احتیاطی تدابیر کو یقینی بنانا ہوگا۔

About Aziz

Check Also

کورونا وباء کو قابو کرنے کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدر اآمد یقینی بنایا جائے

پوری دنیا میں مہلک وبا کورونا کے حملے جاری ہیں اور اب تیسری لہر شروع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *