بریکنگ نیوز

آزادکشمیر،حریت قیادت اور گلگت بلتستان کی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے ،خالد محمود خان

لندن: امیر جماعت ا سلامی آزادکشمیر اور گلگت بلتسان ڈاکٹرخالد محمود خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا کوئی بھی فیصلہ ریاستی وحدت، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی عمل ہوگا۔ بہترین حل یہی ہے کہ اس خطے کے عوا م کو آزادکشمیر کے طرز کا حکومتی نطام دیاجائے تاکہ وہاں کے عوام کا احساس محرومی دور ہو سکے اور ریاست جموں و کشمیر کی وحدت پر بھی کوئی آنچ نہ آئے،گلگت بلتستان کے عوام کو صوبوں سے زیادہ حقوق دئیے جائیں ،کشمیری قیادت نے معاہدہ کراچی کے تحت اس علاقے کا عارضی انتظام اور انصرام چلانے کا اختیار حکومت پاکستان کو دیا تھا جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوجاتا ان علاقوں کے سٹیٹس کو تبدیل کرنا مناسب نہیں ہے اس سے نریندرمودی کے 5اگست کے اقدامات کو جواز فراہم ہوگا
،۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے بیان میں کیا ، ڈاکٹر خالد محمود نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے انہیں ایک باوقار اور با اختیار نظام حکومت ملنا چاہیے۔جماعت اسلامی کا شروع دن سے واضح اور دوٹوک موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کی آئینی و قانونی حیثیت متاثر کیے بغیر گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دئیے جائیں۔ انہوں کے کہاکہ جماعت اسلامی آج بھی اس اصول پر قائم ہے لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے پاکستان کا اقوام عالم میں کشمیر کے و کیل کی حیثیت سے موقف نہ صرف کمزور ہوگا بلکہ اس سے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔انہوں نے اس اندیشے کا بھی اظہار کیا حکومت پاکستان کے کسی بھی ایسے فیصلے کو بھارت عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف بھرپور پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرے گا۔ حکومت پاکستان اور ریاستی ادارے اپنے ممکنہ فیصلے پر نظر ثانی کریں اور کوئی بھی ایسا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے آزادکشمیر،حریت قیادت اور گلگت بلتستان کی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے۔

About admin

Check Also

مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں،راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مقبوضہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *