بریکنگ نیوز

گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے بجائے آزاد کشمیر کی طرز پر حکومت بنائی جائے،آزادجموںو کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن

میرپور:آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آزاد جموں و کشمیر کی تمام بار ایسوسی ایشن کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری، صدورڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز، میرپور، راولاکوٹ بھمبر، کوٹلی ،باغ بذریعہ قرارداد نیلم بار کی نمائندگی جنرل سیکرٹری ،صدر تحصیل بار ایسوسی ایشن ڈڈیال، صدر دھیربار کورٹ بار ایسوسی ایشن بذریعہ قرارداد شریک ہوئے تمام شرکاء اجلاس نے آزاد جموں و کشمیر کے نظام میں انصاف پر تفصیلی غور و خوص کے بعد بذیل قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کی ۔ایک قرار داد میںسپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ الجہاد ٹرسٹ کیس اور آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے مطبوعہ فیصلہ یونس طاہر کیس کے مطابق آزادکشمیر عدالت العالیہ اور عدالت عظمیٰ کے قائم مقام چیف جسٹس صاحبان کو فی الفور اور مستقل کیا جائے تاکہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے

۔ اجلاس کی صدارت عقاب احمد ہاشمی نائب صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کی جبکہ اجلاس میں سیکریٹری جنرل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جاوید نجم الثاقب ،عبدالوہاب حسن، عبدالواحدعامر اور راجہ محمدمحفوظ ممبر ایگزیکٹو کمیٹی بھی شریک تھے ۔دوسری قرارداد میں کہا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کا ایک جداگانہ تشخص ہے جو کہ 14اگست1947 سے قبل موجود تھا جس کی تقسیم پر کوئی ذی شعور کشمیری سمجھوتا نہیں کر سکتا۔ صوبہ بنانے سے کسی خطے کے مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکہ اسے اقوام عالم میں پاکستان کے اپنائے گئے موقف سے دستبرداری ہوگی جس سے مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ پاکستان لاکھوں کشمیری شہدا ء کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کا وکیل ہے جس نے05اگست2019 کے بعد خود کو سفیر بنا لیا ہے جو کسی ذی شعور کے لیے حیرت کا باعث ہے .سقوط کشمیر پر30 منٹ تک کھڑے رہنے سے پانچ منٹ خاموش رہنے سے شاہراوں کے نام تبدیل کرنے سے مسئلہ کشمیر حل نہ ہوگا بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے حل ہوگا۔ کشمیری عوام اور حکومت کو خود اپنا مقدمہ عالمی اداروں اور اقوام عالم کے سامنے رکھنے کے لیے حکومت پاکستان سہولت کاری کا کردار ادا کرے ۔گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے بجائے آزاد کشمیر کی طرز پر حکومت بنائی جائے جو داخلی اور مالی طور پر خودمختار ہو اور ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں آزاد کشمیر اور گلگت کا مشترکہ صدر اور چیف جسٹس سپریم کورٹ ہو اور سپریم کورٹ میں دونوں حصوں سے ججز شامل ہوں تاکہ گلگت اور بلتستان کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق آئینی حقوق اور تعمیر و ترقی کے یکساں مواقع دستیاب ہوں۔ سی پیک منصوبہ گیم چینجر منصوبہ ہے جس سے بھر پور استفادہ حاصل کرنا چاہئے سی پیک منصوبہ خوش آئند بھی ہے اور تشویش ناک بھی جس کو کشمیر ایشو کے تناظر میں دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔ گلگت بلتستان کو بہترین گورننس سے اس کے عوام کی زندگیاں بہتر بنائی جا سکتی ہیں سی پیک ایک عظیم منصوبہ ہے جس سے گلگت بلتستان اور جموں و کشمیر میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور اقتصادی اور معاشی منصوبے تکمیل ہونے سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگا لیکن گلگت کو صوبہ بنانے سے مودی کے 05اگست2019 کے اقدامات کو تقویت ملے گی اور مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ برہان وانی شہید اور اس جیسے لاکھوں شہادتوں کو مدنظر رکھ کر کشمیر پالیسی بنائی جانی چاہیے تا کہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت مل سکے اور ریاست جموں و کشمیر کے ہر حصہ میں بسنے والے افراد صرف اپنے شناختی کارڈ پر ریاست کے دوسرے سے میں جا سکیں۔ اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جاوید نجم الثاقب ایڈوکیٹ،نائب صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عقاب احمد ہاشمی ، ممبر ایگزیکٹو کمیٹی عبدالواحدعامر، عبدالوہاب حسن، راجہ محمد محفوظ، جنرل سیکرٹری ہائی کورٹ بار مرزا واجد ایڈووکیٹ ،صدر میرپور بارمرزا قمرزمان ایڈووکیٹ ،صدر بار بھمبر راجہ محمد اسد خان،صدر بار راولاکوٹ صابر کشمیری ،صدر بار ڈڈیال شوکت علی کیانی ،صدر ہجیرہ بار خلیل احمدقیصر، جنرل سیکرٹری ڈڈیال راجہ عدنان صدیق،جنرل سیکرٹری نیلم بار مفتی محمد مظہر الزمان ، نے شرکت کی کی جبکہ ڈسٹرکٹ باغ کے صدر اعظم حیدر ،ڈسٹرکٹ بار کوٹلی کے صدر راجہ تبریز ،تحصیل بار دھیر کوٹ راجہ اشتیاق نے اپنی واٹس اپ قراردادیں پیش کیں۔اجلاس میں ریاض نوید بٹ ایڈووکیٹ ،شکیل رضاایڈووکیٹ ،حافظ فضل الرحمان ،سردار حسن خورشید ،سابق صدر بار ذوالفقار احمدراجہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء نے بھی شرکت کی۔مقررین نے اپنے اپنے خطاب میںبھارت کی طرف سے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرمیں طاقت کے استعمال اور کشمیریوں کو ایک سال سے زائد ان کے گھروں میں قید رکھنا،آئین کی ارٹیکل 35اے اور 370کے خاتمے اور ریاست جموں وکشمیر میں غیر ریاستی افراد کو اسٹیٹ سبجیکٹ جاری کرنے کی بھی بھرپور مذمت کی گی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ غیرقانونی بھارتی قبضہ والے جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم فوری بند کروائیں اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دلائیں۔اجلاس میں سیری نگر بار کے معزز ممبر بابرخان قادری ایڈووکیٹ کوپاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر شہید کرنے کی بھرپور مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ بھارت نے کشمیریوں کے تشخص کودبانے کا ہر حربہ دیکھ لیا ہے لیکن وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی اورپاکستان سے محبت کو ختم نہیں کرسکا۔اس موقع پر کشمیر شہداء کے ایصال ثواب کے دعا کی گی۔

About admin

Check Also

مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں،راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مقبوضہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *