بریکنگ نیوز

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیں فوج کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے

سرینگر ( کے ایم ایس)غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر تسلط جموںوکشمیرکے ضلع اسلام آبادمیں حال ہی میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران بھارتی فوج کی طرف سے نصب کئے گئے بارودی مواد کے دھماکے میں زخمی ہونے والا کشمیری نوجوان سرینگر کے ایک ہسپتال میں زخموںکی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شہید کشمیری نوجوان یاسین احمد راتھر ضلع کے علاقے سرہامہ میںفوجیوںکی طرف سے تباہ کئے گئے مکان میں چھپا کر رکھے گئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے چار کشمیریوںسمیت زخمی ہوگیا تھا ۔ یاسین کے جسم سے کیمیائی مواد کے ذرات ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فورسز تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں دھماکہ خیزمواد نصب کرنے کے علاوہ کشمیری نوجوانوں اور امدادی کارکنوںکو نشانہ بنانے کیلئے کیمیائی ہتھیاربھی استعمال کرتی ہیں ۔ آتش گیرکیمیائی مواد کے استعمال کا مقصد لاشوں کو اس حد تک مسخ کردینا ہے کہ ان کی شناخت ممکن نہ ہوسکے ۔
جمعہ کو بھی بھارتی فوجیوں نے اسلام آباد کے علاقے بیج بہاڑہ میں شہید ہونے والے نوجوان کے جسمانی اعضا کاٹ کر اسے ناقابل شناخت بنا دیا تھا۔ اس سے قبل بڈگام اور سرینگر کے علاقوںمیں فوجی کارروائیوں کے دوران بھی کیمیائی مواد استعمال کیاگیا تھا ۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ حقائق کا جائزہ لینے کیلئے بھارتی فوجیوں کی طرف سے تباہ کئے جانے والے مکانوں اور مسخ کی گئی لاشوں کا معائنہ کرے۔ حریت رہنمائوں غلام محمد خان سوپوری اور عبدالصمد انقلابی نے اپنے بیانات میں پلوامہ اور دیگر علاقوںمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونیوالے کشمیری نوجوانوںکو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ادھر انسانی حقوق کے معروف بین الاقوامی گروپوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میںایک روزہ بحث کے دوران جموںوکشمیر میںانسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل ، انٹرنیشنل مسلم وویمنز یونین ، ورلڈ مسلم کانگرس ، کمیونٹی ہیومن رائٹس اینڈ ایڈوکیسی سینٹرکے نمائندوںنے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کونسل پر زوردیا کہ وہ گھنائونے جرائم میں ملوث بھارتی فورسز کے اہلکاروںکو جواب دہ بنانے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائے ۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بااثر بھارتی حکام مقبوضہ علاقے میں خفیہ کارروائیوں کیلئے اسلحے کے جعلی آن لائن لائسنسوں کے اجرا میں ملوث ہیں۔ ذرائع نے ایک بھارتی شہری سریش جگوپٹیل کاحوالہ دیا ہے جس نے ایک تفتیش کے دوران انکشاف کیاہے کہ اس نے سابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جتندر کمار مشرا اور مقبوضہ جموںوکشمیر کے محکمہ داخلہ کے دیگر حکام کی مدد سے اسلحے کا جعلی لائسنس حاصل کیا۔

About admin

Check Also

مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں،راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مقبوضہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *