بریکنگ نیوز

اگر سی پیک منصوبے کو کوئی خطرہ ہے تو گلگت بلتستان کو آزادکشمیر جیسا سیٹ اپ دیا جائے،نور الباری

مظفرآباد:قائمقام امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر وگلگت بلتستان نور الباری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانا اقوام متحدہ کی قرادوں کی منافی اور مسئلہ کشمیر کے لیے نقصان دہ ہے ،وزیراعظم پاکستان عمران خان ،بھارتی وزیراعظم مودی کی طرف سے 5اگست2019کو اُٹھائے گے غیر قانونی اقدام کا فالو اپ دینے کے بجائے اس کا توڑ لائیں ،اگر پاکستان کی سلامتی ،مفادات اور سی پیک منصوبے کو کوئی خطرہ ہے تو گلگت بلتستان کو آزادکشمیر جیسا سیٹ اپ دیا جائے ،ریاست کے تمام سٹیک ہولڈز کو اعتماد میں لیا جائے ،جی بی کیلئے کوئی بھی پیکج سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کے مطابق دیا جائے ہم گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں سے بھی زیادہ حقوق دینے کے حق میں ہیں ،وزیراعظم آزادکشمیر رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلائیں ،جی بی کے آنے والے انتخابات کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنایا جائے کوئی دبائو نہ ڈالا جائے ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز مرکزی ایوان صحافت میں نائب امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر شیخ عقیل الرحمان ایڈووکیٹ،امیر ضلع سید ارشد حسین بخاری،اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی قاضی شاہد حمید ، خالد محمو د زیدی ،لطیف عباسی ،سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آر پار کشمیریوں سمیت دنیا بھر میں آباد کشمیریوں کو تشویش ہے جی بی ریاست کا ایک حصہ ہے ،1947ء میں یہاں کے عوام نے خود خطہ کو آزادکروایا ،پھر پاکستان نے اس کا نظم ونسق سنبھالا
،آزادکشمیر حکومت مسلم کانفرنس اور حکومت پاکستان میںایک معاہدے کے تحت یہاں پر رائے شمار ی تک ایک عبوری نظام قائم کیا گیا ،پاکستان کی بیوروکریسی نے علاقہ کو چراہ گاہ بنارکھا ہے ،انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آزادمقبوضہ کشمیر کی قیادت اور مسئلہ کشمیر گلگت بلتستان کو حقوق دینے میں رکاوٹ ہیں ،جماعت اسلامی قیام کے دن ہی سے آزادکشمیر کیساتھ گلگت بلتستان میں بھی کام کررہی ہے اُن کا کہنا تھا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے جی بی کو صوبہ بنانے کی بات کی تو جماعت اسلامی نے رکاوٹ ڈالی ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ریاست ایک وحدت ہے حق خودارادیت ہمارا نصب العین ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا ،ہر کشمیری پاکستانی ہے اور پاکستان سے لازوال محبت کرتا ہے حریت رہنماسید علی گیلانی کا یہ واضح بیان ہے کہ ہم پاکستانی اور پاکستان ہمارا ہے ،پاکستان سے الحاق ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر تحریک تکمیل پاکستان ہے کوئی کشمیری نہیں چاہتا کہ پاکستان کو کوئی نقصان پہنچے 72سال گزرنے کے باوجود بھی مسئلہ کشمیر کو آڑ بنا کر جی بی کو حقوق سے محروم رکھا گیا یہاں پر 1950سے 1975تک یہاں کالا قانون نافذ رہا ہے اس کے بعد کئی پیکجز دیئے گئے ہمارا موقف ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے یہاں کے لوگوں نے رائے شماری میں حصہ لینا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے یہاں کے عوام کو مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچائے بغیرحقوق دئیے جائیں ۔2018ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے پیکج دیا جس کے خلاف احتجاج ہوا اور عدالت میں چیلنج ہوا ،سپریم کورٹ نے 2009ء کی صورتحال کو برقرار رکھا ،اٹارنی جنرل کے بیان سے واضح ہوا کہ پیکج کی آڑ میںگلگت بلتستان کو مرحلہ وار صوبہ بنایا جارہا ہے ،ناموروکیل اعترازاحسن نے بھی واضح کیا ہے کہ جی بی کو صوبہ بنانا مسئلہ کشمیرکیلئے نقصان دہ ہے ،نور الباری کا کہنا تھا کہ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلے مرحلے میں آزادکشمیر کو بھی پاکستان کیساتھ ملایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران واضح کیا کہ مودی کا 05اگست2019ء کا اقدام یکطرفہ اور قراردادوں کے منافی ہے لیکن اگر وہ خود مودی کے اقدام کا توڑلانے کے بجائے جی بی کو صوبہ بنائیں گے تو یہ اقدام مودی کے اقدامات کو تقویت بخشے گا ،اُن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے عین مطابق گلگت بلتستان کو آزادکشمیر جیسا سیٹ اپ دیا جاسکتا ہے ۔جی بی کے عوام کو حقوق کشمیریوں نے نہیں بلکہ پاکستان کے صاحب اقتدار لوگوں نے دینے ہیں ،انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام سٹیک ہولڈرز، آر پار،جی بی کی قیادت ،ڈائیسپورہ ،پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اداروں کو آن بورڈلیکر ایسا حل نکالا جائے جس سے پاکستان کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچائے اور مسئلہ کشمیر بھی متاثر نہ ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے وزیراعظم کانفرنس بلا کر رائے عامہ ہموار کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ ،بیانیہ اور اتفاق رائے سامنے لائیں اگر وزیراعظم نے کانفرنس نہ بلائی تو جماعت اسلامی یہ زمہ دار نبھائی گی آزادکشمیر اسمبلی سے 2018ء میں قرارداد آئی تھی آج کیوں نہیں آسکتی یہ کیوں خاموش ہیں ،جی بی سے رابطہ منقطع کرنے کی ذمہ دار آزادکشمیر کی قیادت ہے جی بی کے عوام سے موثر رابطے کیے جائیں ،رابطے بحال کرنے کیلئے شونٹھر ٹنل بنایا جائے،نوالباری نے مزید کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ حقوق ملنے چاہیے ،سی پیک کے ثمرات سے اُن کو محروم نہ رکھا جائے بڑے منصوبے دیئے جائیں ،بجلی بنانے کے پوٹینشل کو برئوے کار لائے جائے ،سیاحت کو فروغ دیا جائے ،عوام کو سہولیات دی جائیں ،ملازمتوں میں اُن کو ترجیحی دی جائے ،آنے والے انتخابات میں یہ تاثر ختم کیا جائے کہ جوحکومت وفاق میںہوتی ہے وہی حکومت جی بی میں بنتی ہے الیکشن میں کوئی دبائو نہ ڈالا جائے لوگوں کو آزادنہ اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کا موقع دیا جائے ،گلگت بلتستان میں دفاع خارجہ موصلات اور کرنسی کے علاوہ تمام دخلی اختیارات دیئے جائیں ،چین ہمارا دوست ہے وحدت کشمیر حق خودارادایت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

About admin

Check Also

مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں،راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مقبوضہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *