بریکنگ نیوز

بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جائے،صدر آزاد کشمیر

اسلام آباد: صدرآزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جائے۔ کیونکہ یہ دونوں تنظیمیں فاشسٹ نظریے کو فروغ دیتے ہوئے نفرت اور جارحیت کو فروغ دے رہی ہیں۔اگر انہیں اس خطرناک کھیل سے روکا نہ گیا تو یہ دنیا کے امن، سلامتی اور ترقی کو تیس نیس کر دیں گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مقبوضہ کشمیر کے نئے ڈومیسائل سٹرٹیفکیٹ قانون کو جو اقوام متحدہ کی 122قرارداد کی صریحاً خلاف ورزی ہے اسے بین الاقوامی عدالت انصاف کی ایڈوائس کے لئے اُسے ریفر کرنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹر فار گلوبل اینڈ اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک ویبی نار سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس ویبی نار سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری، لارڈ نذیر احمد، احمر بلال صوفی، میجر جنرل سید خالد عامر جعفری، ماریہ ترانہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اور ہندو صدیوں سے جنوبی ایشیاء میں اکٹھے رہ رہے ہیں لیکن اب بی جے پی اور آر ایس ایس سرکار کے زہریلے اور خطرناک ، اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی پالیسیوں کی بدولت ان دونوں اقوام کا اکٹھے رہنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیریوں کی سیاسی و سفارتی حمایت میں فرق محسوس کیا جائے۔
وزارت خارجہ کو سفارتی حمایت حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھنا چاہیے جبکہ کشمیریوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کو متحرک کیا جائے ، جو ملک کے اندر اور باہر دنیا کے پارلیمانز اور سول سوسائٹی کو اپروچ کریں اور اُن کی حمایت حاصل کریں۔ صدر نے کہا کہ یہ درست ہے کہ جب سے ہندوستان نے اپنے حالیہ اقدامات کے ذریعے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے بطور یونین ٹریٹریز اپنے اندر ضم کیا تو اس پر بین الاقوامی میڈیا، سول سوسائٹی، دنیا کی پارلیمانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی ، اور سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس بھی منعقد ہوئے لیکن یہ اجلاس نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے اور ان اجلاسوں کی کارروائی کو میڈیا کے سامنے بھی نہیں لایا گیا۔ اسی طرح دنیا کے طاقتور ممالک کی حکومتیں بھی خاموش رہی۔ جن کے پیچھے ہندوستان کے ساتھ اُن کے تجارتی مفادات وابستہ تھے۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کو ہندوستان کے خلاف آگے بڑھ کر اُسے کشمیریوں کے قتل عام کو روکنے کی خاطر اپنا دبائو بڑھانے کے لئے اُس پر معاشی پابندیاں لگانا ہو ں گی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ اس قتل عام میں شریک ہونگے۔ صدر نے ویبی نار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے 2016اور بعد ازیں جو رپورٹس سامنے آئی ہیں اُن میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے جو مقبوضہ کشمیر میں جاکر انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لے۔ لیکن ہندوستان نے ان تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا۔ صدر نے کہا کہ یہ درست ہے کہ امریکی کانگریس میں ہندوستان کے اندر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تحفظات کا اظہار کیا گیا لیکن ہندوستان نے اس کو بھی ملحوظ خاطر نہیں لایا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں نوجوان بچوں کو بھی بخشا نہیں گیا اور دس سے چودہ سال کی عمر کے تقریباً چودہ ہزار کے قریب بچوں کو ہندوستان کی مختلف جیلوں میں مقید کر دیا گیاہے۔ اسی طرح خواتین کی آبرو ریزی روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تمام سیاسی و حریت قیادت نظر بند ہے یا پابند سلاسل ہے۔ وہاں مکمل طور پر میڈیا پر پابندی ہے۔ ایسے حالات میں دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیموں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان پامالیوں کو موثر طریقے سے پوری دنیا کے سامنے اٹھائیں۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام انسانیت سوز مظالم کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں اٹھانا چاہیے۔صدر سردار مسعود خان نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے تارکین وطن کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے لوگ دنیا کے جس بھی ملک میں بستے ہیں وہ اُس ملک کے پارلیمانی نمائندوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھاتے ہوئے انہیں اور موثر طریقے سے اس بات پر کائل کریں کہ وہ نہ صرف اپنے پارلیمانوں میں اس مسئلے کو اٹھائیں بلکہ اپنی اپنی حکومتوں پر بھی دبائو ڈالیں کہ وہ ہندوستان کو کشمیریوں کے قتل عام سے روکے، اور اپنے تمام غیر قانونی اقدامات کو واپس لے۔

About admin

Check Also

مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں،راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مقبوضہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *