بریکنگ نیوز

8اکتوبر2005کا ہولناک زلزلہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی راجہ محمد فاروق حیدرخان

مظفرآباد: وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ 8اکتوبر2005کا ہولناک زلزلہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی ،زلزلہ متاثرین کی بحالی میں بین الاقوامی برادری ، اقوام متحدہ ، این جی اوز ،پاکستانی عوام و حکومت، افواج پاکستان کا کردار ناقابل فراموش رہا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز شہداء زلزلہ8اکتوبر2005کی پندرہویں برسی کے موقع پر دارلحکومت مظفرآباد میں منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 8اکتوبر2005کا ہولناک زلزلہ کے بعدپاکستان کی عوام اور حکومت بالخصوص افواج پاکستان نے کشمیریوں سے محبت کی لازوال داستان رقم کیں۔یاسین ملک نے حیران ہوکر پوچھا کہ مجھے یقین نہیں آرہا کہ پاکستان کے لوگ کشمیریوں سے اتنا پیار کرتے ہیں ۔پاکستان نے جس طرح ہمارے زخموں پر مرہم رکھا وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔پاکستان کے بچوں نے اپنی گھڑیاں موبائل اور کھلونے تک ہمارے لیے فروخت کر دیے ۔زلزلہ خیبر پختونخواہ میں بھی آیا مگر جس محبت کا اظہار ہمارے ساتھ کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی
۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت تمام بین الاقوامی سربراہان اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے شکرگزار ہیں انہوں نے ہماری مدد کی۔ آزادکشمیر کے شہریوں بالخصوص میرپور ڈویژن کے لوگوں نے بھی بہت مدد کی۔ ہم نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھنا ہے۔ آزادکشمیر میں قدرتی آفات دیگر خطوں کی نسبت زیادہ آتی ہیں ۔ قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوج کی فائرنگ بھی ایک بڑی آفت ہے ۔بین الاقوامی برادری نے جس انداز سے ہماری مدد کی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔امریکہ اور کیوبا کے کیمپس انسانیت کی مدد کیلئے ساتھ ساتھ تھے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ 8اکتوبر کا زلزلہ بہت بڑی آفت تھی ۔ سب سے زیادہ مظفرآباد ڈویژن متاثر ہوا۔ زلزلہ کے بعد متاثرین کی بحالی کا عمل ابھی بھی جاری ہے ۔ دارلحکومت مظفرآباد میں دوست ملک کی ترکی کی مدد سے ڈسٹرکٹ کمپلیکس تعمیر کیا گیا ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب ، عرب امارات، جاپان سمیت تمام دوست ممالک نے اس دوران ہماری بہت مدد کی۔ انہوں نے کہاکہ سانحات رونما ہو تے ہیں اس کیلئے پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے ۔ یہ سانحہ ہمیں ذہنی اور عملی طور پر ہر وقت تیار رہنے کا سبق دیتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قدرتی آفات کو روکنا انسان کے بس میں نہیں لیکن ایک زندہ و بیدار قوم کی حیثیت سے ایسے سانحات کی پیش بینی اور پیش بندی سے ان کے اثرات اور نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ آج سانحہ 8اکتوبر کو پندرہ سال ہو چکے ہیں ،گزشتہ پندرہ سالوں میں بہت کچھ بہتر ہوا ہے مگر ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ ہمیں ایک نئے عزم اور جذبہ کے ساتھ بہتر مستقبل کی تعمیر کیلئے کمربستہ ہو نا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے دنیا کو پیغام دینا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور مشکلات اور مصائب سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری باہمت قوم ہیں ہم نے زلزلہ ، سیلاب سمیت دیگر آفات کا بہادری سے سامنا کیا ۔ سیز فائر لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ بھی ایک آفت ہے ۔جب سے انتہاء پسند مودی اقتدار میں آیا ہے ہندوستانی فوج کی فائرنگ مسلسل جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جن دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے سانحہ آٹھ اکتوبر کے دوران ہماری مدد کی ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

About admin

Check Also

کروناوائرس ابھی ختم نہیںہواہے یہ ایک بارپھرعوام کومتاثرکررہاہے،ڈاکٹر سردار عمر اعظم

کوٹلی:ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سردار عمر اعظم خان کی زیر صدارت ایس ایس پی کوٹلی راجہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *