بریکنگ نیوز

مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں عصمت دری کو جنگی ہتھیارکے طورپر استعمال کررہی ہے: رپورٹ

سرینگر(کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نریندر مودی کی زیرقیادت ہندوتوا بھارتی حکومت کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کو دبانے کے لئے عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپنے مادر وطن پر غیر قانونی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے پر کشمیریوں کوسزا دینے اور ان کی تذلیل کرنے کے لئے بھارت عصمت دری کو ایک فوجی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں جنوری 1989 سے لے کر اب تک بھارتی فوجیوں نے11ہزار231 خواتین کی بے حرمتی کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنن پوش پورہ میں اجتماعی عصمت دری ، شوپیاں میں دو خواتین کی بے حرمتی اور قتل اور جموں خطے کے علاقے کٹھوعہ میںایک کم سن بچی عاصفہ بانو کی بے حرمتی اور قتل مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسزکے ظلم و بربریت کی واضح مثالیں ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991 کی رات ضلع کپوارہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں ایک سو کے قریب خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی ۔رپورٹ کے مطابق وردی پوش بھارتی اہلکاروں نے شوپیان میں 29 اور 30 مئی 2009 کی درمیانی رات کو دو خواتین آسیہ اور نیلوفر کو اغوا کیا اور بعد میں ان کی عصمت دری کرکے دوران حراست قتل کردیا ۔ جنوری 2018 میںچار پولیس اہلکاروں اور ایک مندر کے پجاری سمیت سات ہندوئوں نے جموں کے علاقے کٹھوعہ میں ایک 8 سالہ مسلمان بچی عاصفہ بانو کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں بھارتی فوجی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے نومبر 2019 میں اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ بھارت مقبوضہ جموںوکشمیر میں کشمیری خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے 52 ویں کمیشن میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن پروفیسر ولیم بیکر نے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں عصمت دری محض فوجیوں کی طرف سے نظم وضبظ کی خلاف ورزی کے انفرادی واقعات کا معاملہ نہیں بلکہ بھارتی فورسز عصمت دری کوکشمیریوں کی تذلیل اور خوف ودہشت پھیلانے کے لئے ایک طریقہ کارکے طورپراستعمال کررہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فورسز اہلکاروںکی طرف سے خواتین کی بے حرمتی اور ان کے ساتھ بدسلوکی ایک معمول بن چکا ہے حتیٰ کہ انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی سے وابستہ بھارتی فوج کے سابق افسران بھی کشمیریوں کو سزا دینے کے لئے اس جرم کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2019 میں ایک ٹاک شو کے دوران بی جے پی رہنما میجر جنرل (ر) ایس پی سنہا نے اس ہتھکنڈے کے استعمال کی وکالت کی۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ان کے بیان سے نریندر مودی کے فرقہ وارانہ اور ہندوتوا نظریے کی عکاسی ہوتی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری خواتین کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کی وجہ سے ختم نہ ہونے والے شدید صدمے کی آزمائش کا سامنا ہے اورعصمت دری کے واقعات سے مقبوضہ جموںوکشمیر میں نام نہاد جمہوری بھارت کا سیاہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارت کی ظالمانہ کارروائیاں عالمی برادری کے لئے ایک چیلنج ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو کشمیری خواتین پر ظلم و ستم پر خاموش نہیں رہنا چاہئے اور مقبوضہ علاقے میں جنسی تشددکو روکنے کے لئے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے جس کو بھارت ایک جنگی حربے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

About Aziz

Check Also

مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں،راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مقبوضہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *