بریکنگ نیوز

طالبان اور حکومت میں مفاہمتی عمل شروع ہوا ہے، ہماری دعا ہے افغانستان میں امن ہو، عمران خان

مہمند(:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سندھ سے منتخب پارٹی نے کراچی کیلئے کچھ نہیں کیا، پنجاب میں ایک شہر کو اوپر اٹھایا گیا باقی پیچھے رہ گئے، زیادہ سے زیادہ فنڈز قبائلی علاقوں پر خرچ کریں گے،صوبوں نے وعدہ کیا تھا قبائلی علاقے کو 3 فیصد این ایف سی ایوارڈ دیں گے، اب صوبے حصہ دینے کو تیار نہیں، انسداد سمگلنگ کیلئے پاک افغان سرحد پر باڑلگ گئی، ہم بارڈر مارکیٹیں کھول رہے ہیں ،طالبان اور حکومت میں مفاہمتی عمل شروع ہوا ہے، ہماری دعا ہے افغانستان میں امن ہو ۔مہمند میں یوسف خیل ایف سی کیمپ میں عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت کا جو نظریہ اور پالیسی سازی ہوتی ہے دراصل وہ ہی ایک روڈ میپ ہے جس پر چل کر مقاصد کی تکمیل ممکن ہوتی ہے، ہر حکومت کا ایک نظریہ ہوتا ہے، ہمارا نظریہ ریاست مدینہ ہے، کمزور طبقے کو اوپر لانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، مدینہ میں دنیا کی پہلی فلاحی ریاست بنائی گئی، ریاست مدینہ میں بوڑھوں، بیوائوں اور غریبوں کی ذمہ داری لی گئی ، مدینے کی ریاست میں جس کوئی ظاہری حیثیت نہیں تھی انہوں نے دنیا کی امامت کی ۔انہوں نے کہاکہ اندرون سندھ، قبائلی علاقے بہت پیچھے رہ گئے ،
ندرون سندھ سے منتخب ہونیوالے کراچی کیلئے کچھ نہیں کرتے، (ن)لیگ کا گڑھ سینٹرل پنجاب تھا ،صرف ایک شہر لاہور کو اوپر اٹھایا گیا،ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک علاقہ اوپر چلا جائے اور باقی سب نیچے چلے جائیں جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ہم نے ان پر توجہ دینی ہے، کوشش ہے زیادہ فنڈز قبائلی علاقے پر خرچ کریں، صوبوں نے وعدہ کیا تھا قبائلی علاقے کو 3 فیصد این ایف سی ایوارڈ دیں گے، اب صوبے این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کو تیار نہیں، میں ان کو یاد کراتا ہوں کہ دین اور قرآن میں وعدوں کو پورا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا نے اپنا حصہ دے دیا لیکن دیگر صوبے محدود مالی وسائل کا رونا رو رہے ہیں، دو برس کے دوران جب معیشت بہتر ہونے لگی تو کورونا کی وبا نے معاشی نظام تباہ کردیا اور محصولات کم جمع ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے پیسہ کم اکٹھا ہوا، کوشش ہے بلوچستان اور قبائلی علاقوں کو فنڈز ملنے چاہئیں ، فنانس منسٹری کو کہا ہے قبائلی علاقوں کو فنڈز دیں، جب سے پاکستان بنا ہے قبائلی علاقے میں خوشحالی نہیں آئی، سب سے زیادہ غربت قبائلی علاقوں میں ہے، تجارت کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں ترقی ہوگی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن مذاکرات شروع ہوگئے، ایسے ملک موجود ہیں جو نہیں چاہتے افغانستان میں امن ہو،افغانستان میں امن کی جانب اچھا اقدام کیا گیا ہے،طالبان اور حکومت میں مفاہمتی عمل شروع ہوا ہے، ہماری دعا ہے افغانستان میں امن ہو۔ انسداد سمگلنگ کیلئے پاک افغان سرحد پر باڑلگ گئی، ہم بارڈر مارکیٹیں کھول رہے ہیں تاکہ لوگوں کو روزگار ملے ۔ انہوں نے کہا دشمن نہیں چاہتے قبائلی علاقوں کا انضمام ہو، دشمن کی کوشش ہے قبائلی علاقوں کے انضمام میں رکاوٹیں ڈالی جائیں ، اس لیے قبائلی علاقوں کی ترقی پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔اس سے قبل وزیراعظم نے تحصیل حلیم زئی میں مہمند باجوڑ اور یکہ غنڈ غلنئی روڈ کا افتتاح کیا۔

About admin

Check Also

حکومت آئین ، جمہوری پارلیمانی عمل کو ہر پہلو سے تباہ کر رہی ہے،لیاقت بلوچ

لاہور :ک ادارہ کی آئینی مدت کم کی جائے گی تو قومی اور صوبائی اسمبلیوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *