بریکنگ نیوز

خصوصی تحریر شھید غلام رسول ڈار کی 17برسی کی یاد میں

تحریر. . محمد شہباز. . . . .
. اسلام کے داعی،مربی اور تحریک ازادی کو اہل کشمیر کے گھر گھر تک پہنچانے والے جناب غلام رسول ڈار کو بچھڑے 17برس گزرچکے ہیں۔2004ء میں اج ہی کے دن ڈار صاحب سرینگر میں اپنے خفیہ مقام پر بھارتی فوجیوں کی جانب سے مارے گئے ایک چھاپے میں جام شہادت نوش کرگئے۔ان کے ہمراہ عباس راہی ڈوڈہ اور عابد بھائی ترال بھی جام شہادت نوش کرگئے،جو باالترتیب حزب المجاہدیں کے ملٹری ایڈوائزر اور ترجمان کے فرائض انجام دے رہے تھے۔جبکہ خود ڈار صاحب حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر تھے۔1990ء میں مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے شروع ہونے والی مسلح جدوجہد نے ہر مکتبہ فکر اور تنظیم و جماعت کو بھی اپنی جانب کھینچ لیا،چونکہ ڈار صاحب شروع دن سے اسلام کے مبلغ اور دین کے داعی کے طور پر جانے پہنچانے تھے،ضلع بڈگام میں ہر خاص و عام ان سے واقف اور شناسا تھے،کیونکہ ڈار صاحب گاوں گاوں مساجد میں وعظ و تبلیغ کیلئے جاتے تھے،ان کی ان انتھک کاوشوں نے انہیں نوجوان طبقے میں بے حد پذیرائی بخشی،جماعت اسلامی کے ساتھ وابستگی اور پھر کشمیری زبان میں قرآن و حدیث بیاں کرنے میں ڈار صاحب کو ملکہ حاصل تھا۔ڈار صاحب کشمیر یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور فائن آرٹس میں گریجویشن کرچکے تھے۔انہیں انگریزی اور اردو پر اچھا خاصا عبور حاصل تھا،مگر اپنی مادری زبان کشمیری میں شریں کلامی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔کشمیری نوجوانوں پر خصوصی توجہ مبذول کررکھی تھی،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نواز جماعتوں کے ساتھ وابستہ جو بزرگ ڈار صاحب کی مخالفت میں پیش پیش رہتے تھے،وہ نوجوانوں کی ڈار صاحب کی حمایت کے باعث کمزور پڑگئ تھی۔ڈار صاحب کی دعوت فکر نے نوجوانوں میں بھارت کے خلاف بغاوت کا لاوا بھر دیا،جو 1989ء میں ایک بغاوت کی شکل میں پھٹ پڑا۔تحریک مزاحمت کے اولین روح رواں محمد اشرف ڈار اور عبدالوحید شیخ ڈار صاحب کو اپنا استاد اور ان کے ساتھ بے حد عقیدت رکھتے تھے۔عسکری تحریک کے اغاز میں ہی ڈار صاحب بیس کیمپ روانہ ہوئے، یہاں پہنچتے ہی۔انہیں حزب المجاہدیں کا اولین سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔جس پر وہ 1992ء تک کام کرتے رہے۔وہ بیت المال کے بھی نگران تھے۔ان کے تقوی کا یہ عالم تھا کہ اپنے تو اپنے ان کے شدید مخالفیں بھی ان کی دیانت و امانت کے گرویدہ اور قائل تھے۔سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد انہیں لانچنگ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔1993 ء میں عسکری تحریک کی پہلی کاروائی میں شرکت کرنے والے محمد مقبول الہی کی شہادت کے بعد ڈار صاحب کو وسطی کشمیر کا ڈیوژنل کمانڈر مقرر کیا گیا،انہوں نے رخت سفر باندھا اور اپنے ایک دیرنیہ کارکن الفت اور ماجد سلطان کے ہمراہ ایک دشوار گزار پہاڑی سلسلے کو عبور کرتے ہوئے میدان کارزار میں پہنچے۔مقبوضہ کشمیر میں تین برسوں تک مجاہدین کی قیادت کرتے رہے۔انہی کے دور میں چرار شریف بڈگام کا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا،جہاں سینکڑوں مجاہدیں چرار شریف کی درگاہ میں موجود تھے۔ہزاروں بھارتی فوجیوں نے چرار شریف جو ضلع بڈگام کی سب سے بڑی بستی ہے کو باہر سے محاصرے میں لیا تھا،جوتقریبا ایک ماہ تک جاری رہا،جس میں حزب المجاہدین کے بٹالین کمانڈر ظفر کاوا شہید جبکہ باقی سارے مجاہدین بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔جس کے انتقام میں بھارتی سفاکوں نے چرار شریف کی بستی کو اگ لگا کر سینکڑوں رہائشی مکانات اور درگاہ کو نذر اتش کیا تھا۔چرار شریف کا محاصرہ اور مجاہدین کا بچ نکلنا بھارت کیلئے عالمی سطح پر سبکی کا باعث بنا ،کیونکہ عالمی میڈیا نے پہلی بار چرار شریف کے لوگوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کی تھی۔جس میں اہلیاں چرار شریف نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ بستی کو بھارتیوں کے ہاتھوں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنا قبول مگر مجاہدین کا نقصان ناقابل برداشت ہے۔1996ء کے آواخر میں ڈار صاحب کو دوبارہ بیس کیمپ بلایا گیا۔کیونکہ ان کی جگہ جناب میر احمد حسن کو میدان کارزار میں بھیجا گیا،گو کہ میر احمد حسن مقبوضہ وادی جانے کے بجائے پونچھ و راجوری کی طرف چلے گئے،جہاں اگست 1997 ء میں وہ ایک خونریز معرکے میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔ڈار صاحب 1997 ء سے لیکر 2003 ء تک حزب المجاہدین کی مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔1997 ء میں وہ نیلم ویلی سے واپس آرہے تھے،تو ایک خطرناک موڈ کاٹتے ہوئے گاڑی حادثے کا شکار ہوئی،جس میں ان کے ڈرائیور عرفان شہید جبکہ خود ڈار صاحب شدید زخمی ہوئے تھے۔جس کے نتیجے میں انہیں CMH مظفر آباد میں کئی دنوں تک ایڈمٹ رہنا پڑا۔1998۔ 99 میں ان کے بچے بھی ہجرت کرکے یہاں پہنچے۔ان کی فیملی کو شدید مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا، بھارتیوں نے ڈار صاحب کی فیملی کو بے وطن ہونے پر مجبور کیا،2003ء میں حزب المجاہدین نے میدان کار زار کی پیش بندی اور حکمت عملی کے پیش نظر ڈار صاحب کو جناب انعام اللہ خان کی شہادت کے بعد چیف آپریشنل کمانڈر مقرر کیا۔ڈار صاحب اگست 2003ء میں پھر ایکبار عسکری میدان میں پہنچے۔چھ ماہ تک ڈار صاحب عسکری داو پیچ اور مجاہدیں کو برہمن سامراج کے خلاف نبرد ازما کرانے کی قیادت اگلی صفوں میں کرتے رہے۔شب وروز گزرتے رہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت جدید ٹیکنالوجی متعارف کراچکا تھا۔ عسکری میدان میں ڈار صاحب 1993 سے 1997 ء چار برس تک داد شجاعت دیتے رہے۔حکمت عملی بدل چکی تھی۔2001ء کے بعد عالمی حالات تبدیل ہوچکے تھے۔بھارت ان بدلتے عالمی حالات کا بھرپور فائدہ اٹھارہا تھا۔امریکہ بھارت کو اپنا حلیف قرار دیکر اس سے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بھی فراہم کرچکا تھا۔ڈار صاحب کے ایک قریبی ساتھی اور ملٹری ایڈوائزر کو گرفتار کیا جاچکا تھا۔ڈار صاحب دارالحکومت سرینگر میں اپنے خفیہ ٹھکانے پر موجود تھے۔ان کے سیٹلائٹ فون کی ٹریکنگ مسلسل ہورہی تھی۔اور پھر 17 جنوری 2004ء کو بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے اس علاقے کو کارڈن آف کیا،جہاں ڈار صاحب اپنے خفیہ مقام پر موجود تھے،ان کے ساتھ حزب المجاہدین کے ترجمان عابد بھائی ترال بھی موجود تھے۔دونوں نے ہزاروں بھارتی فوجیوں کا مقابلہ کیا،اور پھر دونوں شہادت کے اعلی مقام پر فائز ہوئے۔یقینا ڈار صاحب اسی مقام اور مرتبے کے حق دار تھے۔جو انہیں 16 جنوری 2004ء میں نصیب ہوا۔یہ سعادت ہر ایک کے نصیب میں بھی نہیں ہوتی،البتہ انہوں نے جن ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو شہادت کے راستے کے سفر پر گامزن کیا،خود بھی اسی راستےپر بڑی ثابت قدمی کے فائز رہے۔اور پھر اپنے لہو سے اس بات کی گواہی دی ہے ،کہ وہ دیکھو کہ میرے دستار کے ساتھ میرا سر بھی پڑا ہے۔انہیں اپنے بچوں میں سے کسی کی شادی کی خوشیاں نصیب نہیں ہوئیں۔2003ء میں ڈار جب مقبوضہ کشمیر کیلئے رخت سفر باندھ چکے تھے۔اسی برسی کے اوائل میں ان کی بڑی لخت جگر بیٹی کی منگنی طے پاچکی تھی۔ ڈار صاحب کے سارے بچے پڑھے لکھے ہیں۔ان کا بڑا بیٹا بولنے سے قاصر ہے۔انہیں بھی بھارتی درندوں نے کئی بار تشدد اور مظالم کا نشانہ بنایا ہے۔ان کا ایک فرزند احمد لطیف ذرائع ابلاغ کے ساتھ وابستہ کشمیری صحافیوں کی بڑی تنظیم کشمیر جرنلسٹس فورم کے سرگرم روح رواں ہیں۔چھوٹے فرزند کے علاوہ تمام بچوں کی شادیاں بھی ہوچکی ہیں۔وہ بھی آئندہ ماہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے ہیں۔یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ڈار صاحب جماعت اسلامی کے حوالے سے کافی حساس تھے۔وہ کوئی بات برداشت نہیں کرتے تھے۔اپنے وقت کے امرائے جماعت اسلامی جناب قاضی حسین احمد اور جناب عبد الرشید ترابی کے ساتھ ان کی بڑی عقیدت اور احترام کا رشتہ تھا۔شہید ڈار صاحب کے بچوں نے بھی اپنے والد گرامی کے جماعت اسلامی پاکستان و ازاد کشمیر کے افراد کے ساتھ تعلقات کی خوب قدر کی،اور وہ اج بھی اپنے والد کے تعلقات کو نبھا رہے ہیں۔یہاں اس بات کا تذکرہ ناگزیر ہے کہ ڈار صاحب جیسی شخصیات عسکری نہیں بلکہ دعوتی فکر و شعور کی حامل تھیں۔البتہ تاریخی حوادث نے نجانے کتنی ایسی شخصیات کو عسکری میدان کی جانب دھکیلا ،جو عسکریت کے بجائے دعوت و تبلغ میں اپنا لواہا منواتی۔لیکن مورخ جب ڈار صاحب جیسی شخصیت کا تذکرہ کرے گا،تو یہ ضرور یہ لکھے بغیر نہیں رہے گا،کہ جس شخص کے خطابات نے ہزاروں نوجوانوں کے جذبوں کو بھارت جیسی برہمن سامراج کے ساتھ ٹکرانے پر مائل کیا، باآلاخر اسی راستے میں 52 برس کی عمر میں اپنا لہو بھی بہایا۔اللہ تعالی ڈار صاحب اور ان ہزاروں کشمیریوں کی قربانیوں کو رائیگان نہیں جانے دے گا،جنہوں نے اپنا اج قوم کے کل پر قربان کیا ہے۔یہ قربانیاں اور شہادتیں ضرور ازادی کشمیر میں ممدو معاون ثابت ہوں۔ڈار صاحب کی شہادت تازہ ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہوئی،جس کی مہک اج بھی محسوس کی جارہی ہے۔شہید ڈار صاحب کی اہلیہ محترمہ جو کہ ہم سب کیلئے مان کا درجہ رکھتی ہیں۔اج کل صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔اللہ تعالی شہید کے صدقے انہیں اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لیں۔شکریہ

About Aziz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *