بریکنگ نیوز
Sajid Shah

جولائی 1931 ء تحریک آزادی کشمیر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے

Sajid Shah

کشمیری عوام آج پھر 13جولائی یوم شہداء اس عزم اور اعادے کے ساتھ منارہے ہیں کہ آزادی کے حصول اور بھارت کے کشمیر سے انخلاء تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 13جولائی کا دن کشمیریوں کی تحریک حریت میں شہادتوں کے تسلسل کا دن ہے۔یہ وہ دن ہے جب ڈوگرا سامراج نے سری نگر جیل کے سامنے 22حریت پسند کشمیریوں کو ظلم کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا تھا۔ گزشتہ 88سال سے غیور کشمیری عوام پہلے ڈوگرہ شاہی کے خلاف اور پھر27اکتوبر 1947ء کو بھارت نے جب ریاست میں شب خون مارا اس کے غیر قانونی قبضے کے خلاف نبر دآزما ہیں۔ اس وقت تحریک آزادی کشمیر بھارتی مظالم کے باعث ایک بار پھر مہمیز اختیار کرچکی ہے۔ دنیا کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ تحریک آزادی کشمیر 13جولائی 1931ء سے باقاعدہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور کشمیریوں نے آج تک بھارت کے ناجائز اور غیر قانونی قبضے کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جس کی پاداش میں بھارت نے مقبوضہ ریاست میں کشمیریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔کشمیری تسلسل کے ساتھ قربانیاں دے رہے ہیں اور گزشتہ 73سالوں میں لاکھوں کشمیریوں نے اپنے حق آزادی کی خاطر اور بھارت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ کشمیری شہداء اور غازیوں کو خرا ج عقیدت اور تحسین پیش کرنے کیلئے پوری کشمیری عوام اور پاکستانی قوم 13جولائی کو بھرپور انداز میں مناتے ہیں ۔ریاست جموں کشمیر دو ملکوں کے درمیان کوئی سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ اور آزاد ی پسندملکوں اور عوام کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سات دہائیاںگذر گئے کہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اپنی مبنی برحق جدوجہد کرتے چلے آرہے ہیں ۔ جب ہم بھارت کی ہٹ دھرمی کی بات کرتے ہیں کہ بھارت بین الاقوامی اصولوں اور ضوابط کوپس پشت ڈال کر اقوام متحدہ کی قرار داد وں کو ردی کی ٹوکری سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تو ایسے میں ہمیں سپر پاورز اور اقوام متحدہ کے ادارے کو بھی مورد الزام ٹھہرانا چاہئے کہ وہ اپنی ہی منطور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام نظر آتا ہے اور یہ صورتحال اس عالمی ادارہ کے وجود پر ایک سوالیہ نشان ہے۔پانچ اگست 2019 کے دن بھارت نے اپنے آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی جسارت کی تاکہ وہ ریاست کو بھارت کا حصہ قرار دیکر ہضم کردے۔ اس وقت سے کشمیر میں لاک ڈائون اور کرفیو کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے لیکن چند ماہ قبل کورونا وائرس نے جب دنیا کو لاک ڈائون پر مجبور کیا تو عالمی سطح پر اس بات کا ادراک ضرور ہوا ہوگا کہ لاک ڈائون کیا ہوتاہے اور کشمیری ڈبل لاک ڈائون کی صورتحال میں بھارتی مظالم کو سہتے ہوئے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جہاں تک بھارت کی ہٹ دھرمی کا معاملہ ہے بھارت خود اس مسئلے کو اتنا طویل عرصے تک دبا نہیں سکتا اس میں دیگر پردہ نشینوں کے نام بھی شامل ہیں جو اپنے مفادات کی خاطر بھارت کو آشیرباد دے رہے ہیں ، اسرائیل اور بھارت دونوں ان نام نہاد عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لاڈلے بن کر انسانی حقوق کا جنازہ نکال رہے ہیں جس کے باعث دنیا کا امن خطرے پڑھ گیا ہے ۔ یہ طاغوتی طاقتیں اپنے مکروہ عزائم اور مفادات کو تحفظ دینے کی خاطر دنیا کو تیسری جنگ عظیم کی طرف جھونک رہی ہیں۔ جب ہم غیرت مند کشمیری عوام کو خراج تحسین اور خراج عقدیت پیش کرتے ہیں تو 1931 ء سے لیکر اب تک کی قربانیوں کا تسلسل سامنے آجاتا ہے جو ایک تاریخی حقیقت ہے کیونکہ قضیہ کشمیر کوئی ایک دو دن کا قصہ نہیں یہ کئی دہائیوں پر محیط عظیم اور لازوال قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو غیور اور بہادر کشمیری اپنے حق اور آزادی کی خاطر دیکر ایک بے مثال تاریخ رقم کررہے ہیں جس کی نظیر آج کی دنیا میں ملنا کم ہے۔ یہ دن اُن بائیس شہداء کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے ڈوگرہ سامراج کے ہاتھوں سرینگر جیل کے سامنے جام شہادت نوش کیا اور ایک ایسی داستان رقم کی جس کا ہر باب جرأت و بہادری سے رقم ہے۔آج جبکہ دنیا بھر کی طرح مقبوضہ کشمیرو آزاد کشمیر میں بھی یوم شہداء کشمیر منایا جا رہا ہے ،ایسے میں من حیث القوم ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہو گا کہ جو شمع ان شہداء نے اپنے خون سے روشن کرکے آزادی کی اس تحریک کی بنیاد رکھی تھی اس کی روشنی کوہم کہاں تک محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔جولائی کا مہینہ ماضی کی طرح آج بھی اپنی اہمیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ 13جولائی شہداء کا دن اور 8جولائی 2016 کو حریت کمانڈر برہان مظفر وانی اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قیمتی جان اس تحریک کو دے کر تحریک آزادی کو جلا بخشی اور شہید کی چوتھی برسی کے موقع پر گزشتہ تین سالوں کی طرح پوری وادی کشمیر سراپا احتجاج بنی رہی اور بلاشبہ اب تحریک آزادی بھارت کے لئے درد سر بن چکی ہے اور بھارتی فوج بے انتہا مظالم کے باوجودکشمیریوں کو کنٹرول کرمیں ناکام نظر آتی ہے۔کشمیریوں کی اس آواز کو بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روکنے کیلئے بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھرپور پابندی لگائی گئی جو بھارت کی ناکامی اور بے اصول ریاست ہونے کا مستند ثبوت ہے۔13جولائی 1931ء کا پیغام کیا ہے اور13جولائی ہم سے کیا تقاضہ کرتا ہے اور آج کا آٹھ جولائی برہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت ریاست جموںکشمیر کے دونوں طرف اور دنیا میں جہاں بھی کشمیری مقیم ہیں اور اہل پاکستان سے کیا سوال کرتاہے؟ یہ ایک قابل غور لمحہ فکریہ ہے کہ آخر کشمیری کب تک قربانیاں دیتے رہیں گے اور بھارت کب تک اپناسفاکانہ رویہ جاری رکھے گا۔ جولائی کے مہینے کو کشمیر کی تاریخ میں بلاشبہ انتہائی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اسی مہینے کی19تاریخ 1947ء میں کشمیری قیادت نے ایک تاریخی قرار داد کے ذریعے اپنی تقدیر قرار داد ا الحاق پاکستان کے ذریعے مملکت خداداد پاکستان کی تخلیق سے تین ہفتے پہلے پاکستان کے ساتھ منسلک کردی۔ لہذا 13جولائی کے اس پیغام کی افادیت اور اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کواپنی ترجیحات میں مسئلہ کشمیر کو مسئلہ نمبر ایک کے طورپر لینا ہوگا تاکہ اس مسئلے کا کوئی پرامن اور دیرپا حل سامنے آسکے۔تحریک آزادی کشمیردراصل تحریک تکمیل پاکستا ن ہے۔ریاست جموں کشمیر کی آزادی اور پوری ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہی کشمیریوں کی تحریک کا مشن ہے ۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *